سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ
باب: منبر پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 740
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأُرْسِلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي".
ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل رضی اللہ عنہ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل اس پر بیٹھے (ہوا یوں تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت (سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا تھا) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چنانچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کر سکو، اور (مجھ سے) میری نماز سیکھ سکو“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 740]
حضرت ابوحازم بن دینار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کچھ آدمی حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ دراصل ان کا اختلاف ہو گیا تھا کہ منبر کس لکڑی سے بنا تھا؟ تو انہوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ منبرِ نبوی کس لکڑی سے بنا تھا۔ میں نے اسے اسی دن دیکھا تھا جس دن وہ پہلی مرتبہ رکھا گیا تھا اور جب پہلی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تھے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کو، جس کا سہل رضی اللہ عنہ نے نام لیا تھا، پیغام بھیجا: ”اپنے بڑھئی غلام سے کہہ کہ وہ میرے لیے منبر تیار کرے تاکہ میں جب لوگوں سے بات چیت کروں تو اس پر بیٹھا کروں۔“ اس عورت نے غلام کو حکم دیا تو اس نے مقامِ غابہ کے جھاؤ کے درخت سے منبر تیار کیا، پھر اسے وہ لے کر (اس عورت کے پاس) آیا تو اس عورت نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے اس جگہ رکھ دیا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھے اور نماز شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر ہی پر تکبیرِ تحریمہ کہی، منبر ہی پر رکوع کیا، پھر پچھلے پاؤں نیچے اتارے اور منبر ہی سے متصل ہو کر سجدہ کیا، پھر دوبارہ منبر پر چڑھ گئے۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کر سکو اور میری نماز (کا طریقہ) سیکھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 18 (377)، 64 (448)، الجمعة 26 (917)، البیوع 32 (2094)، صحیح مسلم/المساجد 10 (544)، سنن ابی داود/الصلاة 221 (1080)، (تحفة الأشراف: 4775)، مسند احمد 5/339، سنن الدارمی/الصلاة 45 (1293) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه