سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ
باب: جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 920
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا" قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ" قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَاةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے؟“ تو ایک شخص نے کہا: جی ہاں! اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے“۔ زہری کہتے ہیں: جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 920]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے فارغ ہوئے جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی تھی تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی کچھ پڑھا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: ”ہاں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ» ”میں بھی کہتا تھا، کیا وجہ ہے کہ مجھے قرآن مجید پڑھنے میں دقت ہو رہی ہے؟“ اس (امام زہری رحمہ اللہ) نے کہا: تو جب انہوں نے آپ کی یہ بات سنی اس کے بعد وہ اس نماز میں قراءت کرنے سے رک گئے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 137 (826)، سنن الترمذی/الصلاة 117 (312)، سنن ابن ماجہ/إقامة 13 (848، 849)، (تحفة الأشراف: 14264)، موطا امام مالک/الصلاة 10 (44)، مسند احمد 2/240، 284، 285، 301، 302، 487 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ قول کہ ”جب لوگوں نے …“ زہری کا ہے، ائمہ حدیث نے اس کی تصریح کر دی ہے، اور زہری تابعی صغیر ہیں، وہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، ان کی یہ روایت مرسل ہے، اور مرسل ضعیف کی قسموں میں سے ہے، یا اس کا یہ معنی ہے کہ لوگ زور سے قرات کرتے تھے، اسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلجان ہوتا تھا، اور خلجان کا واقعہ جہری سری دونوں میں پیش آیا ہے (جیسا کہ حدیث رقم: ۹۱۸ میں گزرا) اس واقعہ کے بعد لوگ زور سے قرات کرنے سے رک گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح