🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. بَابُ: قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ
باب: ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1005
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ فَأَخْبَرَنَا بِهِنَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، وہ بیس سورتیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعتوں میں پڑھتے تھے، پھر انہوں نے علقمہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور اندر لے گئے، پھر علقمہ رضی اللہ عنہ نکل کر باہر ہمارے پاس آئے، تو ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے ہمیں وہ سورتیں بتائیں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1005]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”بے شک میں ان ملتی جلتی بیس سورتوں کو بخوبی جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعات میں پڑھتے تھے۔“ پھر وہ علقمہ رحمہ اللہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر چلے گئے، پھر علقمہ رحمہ اللہ باہر آئے تو ہم نے ان سے ان سورتوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہمیں ان کی تفصیل بتائی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «فضائل القرآن 6 (4996)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (822) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 305 (602) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9248)، مسند احمد 1/380، 417، 427، 455 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: قال رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ:" قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، قَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ".
ابووائل شفیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا: میں نے پوری مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، مجھے وہ سورتیں معلوم ہیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، تو انہوں نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا جن میں آپ دو دو سورتیں ایک رکعت میں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1006]
حضرت ابووائل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے تمام مفصل سورتیں آج رات ایک رکعت میں پڑھ لیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شعر کی طرح تیز تیز کتر ڈالیں۔ اللہ عزوجل کی قسم! میں ان ملتی جلتی سورتوں کو بخوبی پہچانتا ہوں جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے۔“ پھر انہوں نے مفصل سورتوں میں سے بیس سورتیں ذکر کیں، ہر رکعت میں دو دو سورتیں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 106 (775)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (822)، مسند احمد 1/436، (تحفة الأشراف: 9288) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1007
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ اللَّيْلَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ" لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ مِنْ آلِ حم".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھ ڈالی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «حمٓ» سے اخیر قرآن تک مفصل کی صرف بیس ہم مثل سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1007]
حضرت مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”تحقیق میں نے آج رات تمام مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”تو نے اس طرح تیز تیز پڑھا ہوگا جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں؟ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ملتی جلتی بیس سورتیں (دس رکعتوں میں) پڑھتے تھے جو مفصل سے «حٰمۤ» والی سورتیں تھیں۔ (جن سورتوں کے شروع میں «حٰمۤ» ہے۔)“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9586) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: وہ سورتیں یہ ہیں «الرحمن» اور «النجم» کو ایک رکعت میں، «اقتربت» اور «الحاقہ» کو ایک رکعت میں «الذاریات» اور «الطور» کو ایک رکعت میں «الواقعۃ» اور «نون» کو ایک رکعت میں، «سأل» اور «والنازعات» کو ایک رکعت میں «عبس» اور «ویل للمطففین» کو ایک رکعت میں «المدثر» ، اور «المزمل» کو ایک رکعت میں، «ہل أتی» اور «لا أقسم» کو ایک رکعت میں، «عم یتسألون» اور «المرسلات» کو ایک رکعت میں، اور «والشمس کورت» اور «الدخان» کو ایک رکعت میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں