سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. بَابُ: تَرْدِيدِ الآيَةِ
باب: کسی خاص آیت کو باربار دہرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1011
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قالت: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی آیت میں صبح کر دی، وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ”یعنی اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو تو (غالب و زبردست) ہے، اور حکیم (حکمت والا) ہے“ (المائدہ: ۱۱۸)۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1011]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”(ایک دفعہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری رات ایک ہی آیت بار بار پڑھتے ہوئے گزار دی حتیٰ کہ صبح ہوگئی، اور وہ آیت یہ تھی: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 118] ”(اے میرے مولا!) اگر تو ان (بندوں) کو عذاب دے تو بے شک وہ تیرے غلام ہیں (چوں نہیں کرسکتے) اور اگر تو انھیں بخش دے تو بلاشبہ تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔“ (کوئی تجھ پر اعتراض نہیں کرسکتا، نیز رحمت و مغفرت پر کیا اعتراض؟)“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1350)، (تحفة الأشراف: 12012)، مسند احمد 5/156، 170، 177 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن