سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دعا نہ پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1054
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ وَلَا يَشْعُرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ: لَا أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي قَالَ:" إِذَا أَرَدْتَ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا، وہ نماز سے فارغ ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، میں اپنی کوشش کر چکا، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو، پھر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1054]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ، جو بدری صحابی ہیں، سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور اس نے نماز پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے رہے جب کہ اسے علم نہ تھا۔ پھر وہ (نماز سے) فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: ”واپس جا، پھر نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ نہ معلوم دوسری یا تیسری دفعہ اس نے کہا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری! میں نے تو پوری کوشش سے نماز پڑھی ہے۔ مجھے سکھلا دیجیے اور بتلا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کا ارادہ کرے تو وضو کر اور اچھی طرح وضو کر۔ پھر کھڑا ہو اور قبلے کی طرف منہ کر۔ پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ۔ پھر قرآن مجید پڑھ۔ پھر رکوع کر حتیٰ کہ اطمینان سے رکوع کر لے۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ تو سیدھا کھڑا ہو جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کر لے۔ پھر سر اٹھا حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ اطمینان سے سجدہ کر لے۔ جب تو (ہر رکعت میں) یہ کر لے گا تو اپنی نماز ادا کر لے گا اور جس قدر تو اس میں کمی کرے گا، اپنی نماز میں کمی کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 668، (تحفة الأشراف: 3604)، ویأتي برقم: 1314، 1315 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح کا ذکر نہیں کیا ہے، آپ اس کو صلاۃ سکھا رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح ضروری نہیں ہے، لیکن یہ استدلال صحیح نہیں، اس میں بہت سے واجبات کا ذکر نہیں ہے، دراصل اس آدمی میں تعدیل ارکان کی کمی تھی، اسی پر توجہ دلانا مقصود تھا، اس لیے آپ نے اعتدال پر خاص زور دیا، اور بہت سے واجبات کا ذکر نہیں کیا، دیگر روایات میں تسبیحات کا حکم موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح