سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. بَابُ: مَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ
باب: سر میں جوڑا بندھے ہوئے نمازی کی مثال۔
حدیث نمبر: 1115
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو السَّرْحِيُّ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قال: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے سر میں پیچھے جوڑا بندھا ہوا تھا، تو وہ کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے، جب عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سلام پھیر چکے تو ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: آپ کو میرے سر سے کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1115]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے دیکھا جب کہ وہ سر کے بالوں کا جوڑا بنا کر اسے پیچھے باندھے ہوئے تھے۔ آپ اٹھے اور بالوں کا جوڑا (گچھا) کھولنے لگے۔ عبداللہ بن حارث نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آپ کو میرے بالوں سے کیا شکایت تھی؟ (جو آپ نے انہیں کھولا) انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اس قسم کے نمازی کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو پیچھے بندھے ہوئے ہاتھوں (کسی مشکوں) سے نماز پڑھتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 44 (492)، سنن ابی داود/الصلاة 88 (647)، (تحفة الأشراف: 6339)، مسند احمد 1/304، 316، سنن الدارمی/الصلاة 105 (1421) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم