سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدہ کی ایک اور دعا۔
حدیث نمبر: 1134
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ لَمْ يَرْكَعْ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا ذَكَرَهُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، آپ نے سو آیتیں پڑھ لیں لیکن رکوع نہیں کیا، اور آگے بڑھ گئے، میں نے اپنے جی میں کہا: لگتا ہے کہ آپ اسے دونوں رکعتوں میں ختم کر دیں گے، لیکن آپ برابر آگے بڑھتے رہے، تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ اسے ختم کر کے ہی پھر رکوع کریں گے، لیکن آپ سورت ختم کر کے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ پوری سورۃ نساء آپ نے پڑھ ڈالی، پھر سورۃ اٰل عمران بھی پڑھ ڈالی، پھر تقریباً اپنے قیام ہی کے برابر رکوع میں رہے، اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے: «سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، اور دیر تک کھڑے رہے، پھر آپ نے سجدہ کیا تو دیر تک سجدہ میں رہے، آپ سجدے میں کہہ رہے تھے: «سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى» جب آپ کسی خوف کی یا اللہ تعالیٰ کی بڑائی کی آیت پر سے گزرتے، تو اللہ کا ذکر کرتے یعنی اس کی حمد و ثنا کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1134]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۂ فاتحہ کے بعد) سورۃ البقرہ شروع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو آیات پڑھ لیں مگر رکوع نہ فرمایا بلکہ قراءت جاری رکھی۔ میں نے سوچا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات میں پوری کر لیں گے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت جاری رکھی۔ میں نے (دل میں) کہا: یہ سورت ختم کر کے رکوع فرمائیں گے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے یہاں تک کہ سورۃ النساء بھی پڑھ ڈالی۔ پھر سورۃ آل عمران پڑھی، پھر تقریباً اپنے قیام کے برابر رکوع فرمایا۔ اپنے رکوع میں کہتے رہے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب عظمت والا، پاک ہے میرا رب عظمت والا، پاک ہے میرا رب عظمت والا۔“ پھر سر اٹھایا اور فرمایا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں۔“ اور بہت دیر تک کھڑے (کچھ پڑھتے) رہے۔ پھر سجدہ فرمایا اور بہت لمبا سجدہ فرمایا۔ اور سجدے میں پڑھتے رہے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب سب سے بلند، پاک ہے میرا رب سب سے بلند، پاک ہے میرا رب سب سے بلند۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جونہی کوئی ڈرانے والی یا اللہ تعالیٰ کی عظمت والی آیت پڑھتے تو (اس کے مناسب) دعا اور اللہ کا ذکر فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 1009 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح