سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1303
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي , قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا , وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ , فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ , وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا مانگا کروں، تو آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! بیشک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے، اور سوائے تیرے گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا، لہٰذا تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر، یقیناً تو غفور و رحیم یعنی بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1303]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجیے جو میں اپنی نماز میں کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا، لہٰذا میرے لیے اپنی طرف سے بخشش فرما اور مجھ پر رحم فرما۔ بلاشبہ تو ہی بہت زیادہ معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔““ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 149 (834)، الدعوات 17 (6326)، التوحید 9 (7388)، صحیح مسلم/الدعاء 13 (2705)، سنن الترمذی/الدعوات 97 (3531)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3835)، مسند احمد 1/3، 7، (تحفة الأشراف: 6606) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه