🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

89. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر ایک اور دعا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1347
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ، أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ , قَالَ: اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً , وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ , لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ , وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" قَالَ: وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ , أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلَاتِهِ.
ابومروان روایت کرتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی۔ ابومروان کہتے ہیں: اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1347]
حضرت ابو مروان سے روایت ہے کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حلفاً کہا: قسم اس ذات کی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمندر کو پھاڑ کر راستے بنائے! ہم تو رات میں یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِيَ الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما جسے تو نے میرے لیے (دنیا و آخرت میں رسوائی سے) بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور میرے لیے میری دنیا کو درست فرما جسے تو نے میرے لیے زندگی گزارنے کا سبب بنایا ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضی سے بچنے کے لیے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیرے غضب سے بچنے کے لیے تیری (رحمت کی) پناہ چاہتا ہوں۔ جو چیز تو دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی مال والے کو تیرے ہاں مال فائدہ نہیں دیتا (بلکہ عمل فائدہ دیتا ہے)۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز سے فراغت کے وقت یہ کلمات کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4971)، وقد أخرجہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة 53 (137) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں