سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: الصُّفُوفِ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز میں صف بندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1467
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے، اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے ”اللہ اکبر“، کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، سورج آپ کے فارغ ہونے سے پہلے ہی صاف ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1467]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج کو گرہن لگ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے۔ کھڑے ہوئے اور «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں۔ اس طرح آپ نے (دو رکعتوں میں) چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے۔ اور پلٹنے (فارغ ہونے) سے پہلے سورج روشن ہوگیا (گرہن ختم ہوگیا)۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16487)، مسند احمد 6/87 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه