سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: التَّخْيِيرِ بَيْنَ الْجُلُوسِ فِي الْخُطْبَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عید کا خطبہ سننے کے لیے بیٹھنے اور نہ بیٹھنے دونوں کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1572
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ , قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْصَرِفَ فَلْيَنْصَرِفْ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيُقِمْ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”جو (واپس) لوٹنا چاہے لوٹ جائے، اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہے ٹھہرے“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1572]
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”جو آدمی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہتا ہے، وہ ٹھہرے۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 253 (1155)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 159 (1290)، (تحفة الأشراف: 5315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن