سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: الإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ
باب: خطبہ کے وقت خاموش رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1578
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1578]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نے امام صاحب کے خطبے کے دوران میں اپنے ساتھی کو زبان سے کہا: چپ رہ، تو تو نے بھی فضول کام کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 235 (1112)، (تحفة الأشراف: 13240)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، مسند احمد 2/474، 485، 532، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1590) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح