🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ: ذِكْرِ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الْقِيَامُ
باب: قیام اللیل کس دعا سے شروع کی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1618
أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ قِيَامَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ عَشْرًا , وَيَحْمَدُ عَشْرًا , وَيُسَبِّحُ عَشْرًا , وَيُهَلِّلُ عَشْرًا , وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا , وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي , أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے؟ تو وہ کہنے لگیں، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر»، دس بار «الحمد للہ»، دس بار «سبحان اللہ» اور دس بار «لا الٰہ الا اللہ» اور دس بار «استغفر اللہ» کہتے تھے، اور «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے راہ دکھا، مجھے رزق عطا فرما، اور میری حفاظت فرما، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1618]
حضرت عاصم بن حمید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کن الفاظ سے قیام اللیل کا افتتاح کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تم نے مجھ سے وہ چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس دفعہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، دس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» سب تعریف اللہ کے لیے ہے، دس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، دس دفعہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور دس دفعہ «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں کہتے تھے، پھر فرماتے: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے عافیت و صحت دے، اور میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے کی تنگی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 121 (766)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 180 (1356)، (تحفة الأشراف: 16166) مسند احمد 6/143، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم: 5537 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1619
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَالْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، قال: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ , يَقُولُ:" سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ" ثُمَّ يَقُولُ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ".
ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے پاس رات گزارتا تھا، تو میں آپ کو سنتا جب آپ رات میں اٹھتے، تو دیر تک «سبحان اللہ رب العالمين» کہتے، پھر «سبحان اللہ وبحمده» دیر تک کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1619]
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے قریب سوتا تھا۔ جب آپ رات کو (تہجد کے لیے) اٹھتے تو میں سنتا کہ آپ دیر تک «سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پاک ہے اللہ جو جہانوں کا رب ہے پڑھتے رہتے، پھر دیر تک «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» اللہ تعالیٰ تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے اور تمام تعریفوں والا ہے۔ پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3603) وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 27 (3416)، سنن ابن ماجہ/ الدعاء 2 (3879)، مسند احمد 4/57، 58، 59 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَحْوَلِ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ , قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ حَقٌّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، لَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، ثُمَّ ذَكَرَ قُتَيْبَةُ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ , أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ , وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو کہتے: «‏اللہم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت ملك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت حق ووعدك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت» اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا روشن کرنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا قائم و برقرار رکھنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جوان میں ہیں سب کا بادشاہ ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں، اور محمد حق ہیں، میں نے تیری ہی فرمانبرداری کی، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تجھی پر ایمان لایا، پھر قتیبہ نے ایک بات ذکر کی اس کا مفہوم ہے (کہ آپ یہ بھی کہتے:) «وبك خاصمت وإليك حاكمت اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اور تیرے ہی لیے میں نے جھگڑا کیا، تیری ہی طرف میں فیصلہ کے لیے آیا، بخش دے میرے اگلے پچھلے، چھپے اور کھلے گناہ، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود مگر تو ہی، اور نہ ہی کسی میں زور و طاقت ہے سوائے اللہ کے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1620]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اور ان لوگوں کا نور ہے جو ان میں ہیں، اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں و زمین اور ان کے مابین تمام لوگوں کو قائم رکھنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں، زمینوں اور ان میں رہنے والوں کا بادشاہ ہے اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو برحق ہے، تیرے وعدے برحق ہیں، جنت حق ہے اور جہنم حق ہے، اور قیامت حق ہے، اور تمام نبی حق ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی حق ہیں۔ میں تیرا ہی مطیع و فرماں بردار ہوا اور تجھی پر میں نے بھروسا کیا اور تجھی پر میں ایمان لایا اور تیری ہی مدد سے میں (کفار سے) جھگڑتا ہوں اور تیرے حضور ہی فیصلہ پیش کرتا ہوں۔ مجھے معاف فرما، وہ گناہ جو میں نے کر لیے ہیں اور جو ابھی نہیں کیے اور جو میں نے خفیہ کیے ہیں اور جو علانیہ کیے ہیں۔ تو ہی کسی کو آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ نقصان سے بچنے کا حیلہ ہے اور نہ فائدہ حاصل کرنے کی طاقت۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 1 (1120)، الدعوات 10 (6317)، التوحید 8 (7385)، 24 (7442)، 35 (7499)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (769)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 180 (1355)، (تحفة الأشراف: 5702)، مسند احمد 1/298، 308، 358، 366، سنن الدارمی/الصلاة 169 (1527) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ , فَاضْطَجَعَ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ قَلِيلًا أَوْ بَعْدَهُ قَلِيلًا" اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِيمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ , ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ , ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي , وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری (وہ ان کی خالہ تھیں) تو وہ تکیہ کے چوڑان میں لیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ دونوں اس کی لمبان میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس کے کچھ بعد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، چہرہ سے نیند بھگانے کے لیے اپنے ہاتھ سے آنکھ ملتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے، اور اس سے وضو کیا تو خوب اچھی طرح سے وضو کیا، پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر آپ نے وتر پڑھی ۱؎ پھر آپ لیٹے یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آیا تو آپ نے پھر ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1621]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک رات میں ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سویا جو میری خالہ تھیں۔ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی زوجہ محترمہ بستر کے طول میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ جب رات نصف ہو گئی یا معمولی کم و بیش، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ ملتے ہوئے اٹھ بیٹھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں، پھر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف اٹھے اور اس سے وضو فرمایا اور بہترین وضو فرمایا، پھر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بھی اٹھا اور میں نے اسی طرح کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر مروڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر ایک رکعت پڑھی، پھر لیٹ گئے حتیٰ کہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جماعت کی اطلاع دینے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 687 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک رکعت وتر پڑھی، اگر تین رکعتیں پڑھی ہوتیں تو پھر یہ کل پندرہ رکعتیں ہو جائیں گی، اور آپ کی تہجد کی نماز کے سلسلے میں یہ کسی کے نزدیک ثابت نہیں ہے، صحیح بخاری کی ایک روایت میں تیرہ رکعتوں کی صراحت موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں