سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: الْوِتْرِ بَعْدَ الأَذَانِ
باب: وتر اذان کے بعد پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1686
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عِديٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ , فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ , قَالَ: وَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ , وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے، کہ اتنے میں اقامت ہو گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، وہ آئے اور کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، اور کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے پوچھا گیا: کیا اذان کے بعد وتر ہے، تو کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی ہے، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ نے (اٹھ کر) نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1686]
حضرت محمد بن منتشر سے مروی ہے کہ میں حضرت عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھا، نماز کی تکبیر ہو گئی (مگر وہ نہ آئے) لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، پھر وہ آئے تو انہوں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، نیز انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا صبح کی اذان کے بعد وتر پڑھے جا سکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، بلکہ اقامت کے بعد بھی“، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ فجر سوتے میں رہ گئی تھی حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 613 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن