🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

89. بَابُ: السَّاعَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنْ إِقْبَارِ الْمَوْتَى، فِيهِنَّ
باب: جن اوقات میں مردوں کو دفن کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2015
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، قال: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، قال:" ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے (اور) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2015]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان میں نماز پڑھنے اور میت کے دفن کرنے سے منع فرمایا: جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتیٰ کہ کچھ اونچا ہو جائے، اور جب سورج نصف النہار پر ہو حتیٰ کہ ڈھل جائے، اور جب سورج غروب ہونے کے عین قریب ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 561 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2016
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا (آپ نے اس میں) اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا، اور ایک گھٹیا کفن میں کفنایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی رات میں دفنایا جائے، سوائے اس کے کہ وہ اس کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2016]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو (رات کو) فوت ہو گیا تھا اور اسے رات ہی کو ناقص اور غیر مناسب کفن میں دفن کر دیا گیا تھا، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی میت کو رات کے وقت دفن کرنے سے منع فرما دیا الا یہ کہ اشد مجبوری ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1896 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں