مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
483. حَدِیث اِیَاسِ بنِ عَبد المزَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17236
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ ، سَمِعَ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ" ، لَا يَدْرِي عَمْرٌو أَيَّ مَاءٍ هُوَ.
حضرت ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ضرورت سے زائد پانی مت بیچا کرو کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زائد پانی بیچنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17236]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
484. حَدِیث رَجل مِن مزَینَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17237
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ، فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ، فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا" ، فَقُلْتُ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي لَنَاقَةٌ لَهُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلِغُلَامِهِ نَاقَةٌ أُخْرَى هِيَ خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، فَرَجَعْتُ، وَلَمْ أَسْأَلْهُ.
ایک مزنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ان کی والدہ نے کہا کہ تم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دوسرے لوگوں کی طرح سوال کیوں نہیں کرتے؟ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوال کے لئے روانہ ہو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص غناء طلب کرتا ہے اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص پانچ اوقیہ چاندی کے برابر رقم ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے، وہ الحاف کے ساتھ سوال کرتا ہے، میں نے اپنے دل میں اپنی اونٹنی کے متعلق سوچا کہ وہ تو پانچ اوقیہ سے بہتر ہے میرے غلام کے پاس بھی ایک اونٹنی ہے اور وہ بھی پانچ اوقیہ سے بہتر ہے، چنانچہ میں واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17237]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
485. حَدِیث اَسعَدَ بنِ زرَارَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17238
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ: " بِئْسَ الْمَيِّتُ لَيَهُودُ" مَرَّتَيْنِ،" سَيَقُولُونَ: لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ؟ وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَأَتَمَحَّلَنَّ لَهُ"، فَأَمَرَ بِهِ، وَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ، فَمَاتَ .
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جو بیعت عقبہ کے موقع پر نقباء میں سے ایک نقیب تھے کے حوالے سے مروی ہے کہ انہیں ایک مرتبہ بیماری نے آلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور دو مرتبہ فرمایا بدترین میت یہودیوں کی ہوتی ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کی بیماری کو دور کیوں نہ کردیا، میں ان کے لئے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں، البتہ میں ان کے لئے تدبیر ضرور کرسکتا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے سر کے اوپر دو مرتبہ داغا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور فوت ہوگئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17238]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو أمامة بن سهل له رؤية، لكن لم يسمع من النبى صلى الله عليه وسلم ، وزمعة بن صالح ضعيف، لكنه توبع
486. حدیث ابی عمرة عن ابیه
حدیث نمبر: 17239
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ، فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا، وَأَعْطَى الْفَرَسَ سَهْمَيْنِ .
ابوعمرہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم چار آدمی تھے اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر شخص کو ایک ایک حصہ دیا اور گھوڑے کو دو حصے دیئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17239]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى عمرة، ولاختلاط المسعودي، واضطرابه فيه
487. حَدِیث عثمَانَ بنِ حنَیف رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17240
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ، فَهُوَ خَيْرٌ"، فَقَالَ: ادْعُهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ، فَتَقْضِي لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ" .
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کردیں، اے اللہ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17240]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17241
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ، فَهُوَ أَفْضَلُ لِآخِرَتِكَ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ"، قَالَ: لَا، بَلْ ادْعُ اللَّهَ لِي، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، وَأَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِي، وَتُشَفِّعُنِي فِيهِ، وَتُشَفِّعُهُ فِيَّ" ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ هَذَا مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: أَحْسِبُ أَنَّ فِيهَا أَنْ تُشَفِّعَنِي فِيهِ، قَالَ: فَفَعَلَ الرَّجُلُ، فَبَرَأَ..
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کردیں، اے اللہ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17241]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17242
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17242]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17243
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الصَّدَفِيِّ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَجَلَسْتُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ، فَصَلَّى فِي هَذَا الْعَمُودِ، فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَيْسَ مِنَ الدِّينِ عَلَى شَيْءٍ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ صَلَاتَهُ وَيُتِمُّهَا"، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ؟ فَقِيلَ: عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ .
ہانی بن معاویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حج کی سعادت حاصل کی، میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس ستون کی آڑ میں نماز پڑھنے لگا، اس نے جلدی جلدی نماز پڑھی اور اس میں اتمام نہیں کیا اور واپس چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ مرگیا تو اس حال میں مرے گا کہ دین پر ذرا سا بھی قائم نہیں ہوگا، آدمی اپنی نماز کو مختصر کرتا ہے تو مکمل بھی تو کرے، ہانی کہتے ہیں کہ میں نے حدیث بیان کرنے والے کے متعلق لوگوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17243]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، فقد روى عنه حسن بن موسى بعد الاختلاط، ولجهالة حال البراء وهانيء
488. تَمَام حَدِیثِ عَمرِو بنِ امَیَّةَ الضَّمرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17244
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ" .
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17244]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جعفر بن عمرو
حدیث نمبر: 17245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17245]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن مصعب تكلم فيه، لكنه توبع