مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17296
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ، إِذْ قَالَ لِي:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا تَرْكَبُ؟" قَالَ: فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ؟ قَالَ: قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا، ثُمَّ مَرَّ بِي، قَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَُ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ، وَيُقَالَ: ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا خیال آیا کہ ان کی سواری پر میں سوار ہوں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے عقبہ! تم سوار کیوں نہٰ ہوتے، اس مرتبہ مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ نافرمانی کے زمرے میں نہ آئے، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اترے تو میں سوار ہوگیا اور تھوڑی ہی دور چل کر اتر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سوار ہوئے تو فرمایا اے عقبہ! کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں جو ان تمام سورتوں سے بہتر ہوں جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17296]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17297
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ عَابِسٍ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ الْمُتَعَوِّذُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ" .
حضرت ابن عابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17297]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17298
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أُثْكِلَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ، فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَبُو عُشَّانَةَ مَرَّةً:" فِي سَبِيلِ اللَّهِ" وَلَمْ يَقُلْهَا مَرَّةً أُخْرَى وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے تین حقیقی بچے فوت ہوجائیں اور وہ اللہ کے سامنے ان پر صبر کا مظاہرہ کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17298]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 17299
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَتَانِ، فَتَعَوَّذُوا بِهِنَّ، فَإِنَّهُ لَمْ يُتَعَوَّذْ بِمِثْلِهِنَّ" يَعْنِي: الْمُعَوِّذَتَيْنِ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں تم ان سے اللہ کی پناہ حاصل کیا کرو، کیونکہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے مراد معوذتین ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17299]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17300
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالْمُمِدَّ بِهِ، وَالرَّامِيَ بِهِ" . وَقَالَ: " ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ، وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ، فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلَّمَهُ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان میں، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17300]
الحكم على الحديث:
حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله الأزرق، وقد أضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 17301
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17301]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد مولى المغيرة بن شعبة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17302
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام شرائط میں پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم اپنے لئے عورتوں کی شرمگاہ کو حلال کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17302]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2721، م: 1418
حدیث نمبر: 17303
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ سورة الناس آية 1 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سورة الفلق آية 1 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر ایسی دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، کہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے، مراد معوذتین ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17303]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17304
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَأَصَابَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ جَذَعَةً، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ:" ضَحِّ بِهَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17304]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5547، م: 1965
حدیث نمبر: 17305
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ، وَمَعَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُمَّنَا، فَقَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ، فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنْ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ" .
ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا آپ ہماری امامت کیجئے، انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17305]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، إسماعيل ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، لكنه توبع