🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
919. حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20853
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَصْحَابُهُ يَتَذَاكَرُونَ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ مَعَهُمْ" .
سماک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ پر نماز فجر پڑھتے تھے طلوع آفتاب تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھ جاتے تھے اور زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ باتیں بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کرکے ہنستے بھی تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرماتے تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20853]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20854
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ مَاعِزًا جَاءَ، فَأَقَرَّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ماعز نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر چار مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیدیا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20854]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20855
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جِئْنَا إِلَيْهِ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے جہاں مجلس ختم ہورہی ہوتی ہم وہیں بیٹھ جاتے تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20855]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20856
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت اور مرد پر رجم کی سزا جاری فرمادی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20856]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20857
وَقَالَ: " وَلَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ" .
اور عیدین کی نماز میں اذان نہیں ہوتی تھی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20857]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20858
" وَإِنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
اور ایک آدمی نے خود کشی کرلی یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20858]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20859
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، رَفَعَهُ: قَالَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" ، قَالَ شَرِيكٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ ، قُلْتُ لِشَرِيكٍ: عَمَّنْ ذَكَرَهُ هُوَ لَكُمْ أَنْتُمْ؟ قَالَ: عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20859]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20860
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً، كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ"، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔ یہ فرما کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر چلے گئے تو قریش کے لوگ ان کے پاس آئے تو عرض کیا اس کے بعد کیا ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد قتل و غارت عام ہوجائے گی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20860]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ثم يكون الهرج، الأسود بن سعيد فيه جهالة، وقد توبع، لكن أحدا منهم لم يذكر قصة الهرج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20861
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ رَجُلٌ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذًَا لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ایک آدمی نے چھری سے اپنا سینہ چاک کرلیا اور خود کشی کرلی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ میں یہ نماز جنازہ نہیں پڑھاؤں گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20861]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20862
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا"، ثُمَّ لَا أَدْرِي مَا قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَسَأَلْتُ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ، فَقَالُوا: قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20862]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں