مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1022. حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22632
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ، اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ، وَإِذَا عَرَّسَ قَبْلَ الصُّبْحِ، نَصَبَ ذِرَاعَيْهِ، وَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی رات کے وقت کہیں پڑاؤ ڈالتے تو دائیں پہلو پر لیٹا کرتے تھے اور اگر صبح صادق سے تھوڑی ہی دیرپہلے پڑاؤ کیا ہوتا تو اپنی کہنیوں کو زمین پر ٹکا کر اپنا سر دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھ لیتے تھے (تاکہ نیند نہ آئے) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22632]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 683
حدیث نمبر: 22633
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22633]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 637، م: 604
حدیث نمبر: 22634
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلَا يَتَمَسَّحَنَّ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ، فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22634]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 153، م: 267
حدیث نمبر: 22635
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَأَى رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيُحَدِّثْ بِهَا، فَإِنَّهَا بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ رَأَى رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ وَيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا" .
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اس لئے جو شخص کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ خواب دیکھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22635]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6986
حدیث نمبر: 22636
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ أَصْغَى الْإِنَاءَ لِلْهِرَّةِ، فَشَرِبَتْ، فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ" .
کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22636]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 22637
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ وُضِعَ لَهُ وَضُوءٌ، فَوَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ، فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا قَتَادَةَ، قَدْ وَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، وَإِنَّهُ مِنَ الطَّوَّافِينَ أَوْ الطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" .
کبشہ بنت کعب جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے کبشہ نے ان کے لئے وضو کا پانی رکھا اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے برتن ٹیڑھا کردیا، یہاں تک کہ بلی سیراب ہوگئی انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے یہ ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ یہ تمہارے گھروں میں بار بار آنے والا جانور ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22637]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، تفرد الحجاج عن قتادة بن عبدالله الأنصاري، والحجاج مدلس، وقد عنعن، لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 22638
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، وَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا تَمَسَّحَ أَحَدُكُمْ مِنَ الْخَلَاءِ فَلَا يَتَمَسَّحَنَّ بِيَمِينِهِ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22638]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5630، م: 267
حدیث نمبر: 22639
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ وَنَحْنُ نَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا , فَقَالَ: شَاهَتْ الْوُجُوهُ، أَتَدْرُونَ مَا تَقُولُونَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" , قَالَ عَفَّانُ: وَقَدْ قَالَ لِي: مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ..
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو! میرے حوالے سے کثرت کے ساتھ حدیث بیان کرنے سے بچو اور جو میری طرف نسبت کر کے کوئی بات کہے تو وہ صرف صحیح بات کہے اس لئے کہ جو شخص میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22639]
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى محمد بن معبد، واختلف على حماد فى تسمية ابن كعب بن مالك
حدیث نمبر: 22640
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22640]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى محمد بن معبد، واختلف على حماد فى تسمية ابن كعب بن مالك
حدیث نمبر: 22641
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" , يَعْنِي: لِلصَّلَاةِ.
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22641]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 637، م: 604