🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1027. حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22782
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي زُمَيْلٍ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْفَزَارِيُّ وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَلَقَبُهُ أَبُو الْمَلِيحِ يَعْنِي الرَّقِّيَّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ، فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَفِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ بَرَّاقُ الثَّنَايَا، مُحْتَبٍ، فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ سَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ، فَانْتَهَوْا إِلَى خَبَرِهِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَى بَعْضَهُمْ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ، انْصَرَفُوا، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَخَلْتُ، فَإِذَا مُعَاذٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جَلَسْتُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ السَّارِيَةُ، ثُمَّ احْتَبَيْتُ فَلَبِثْتُ سَاعَةً لَا أُكَلِّمُهُ وَلَا يُكَلِّمُنِي، قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دُنْيَا أَرْجُوهَا أُصِيبُهَا مِنْكَ، وَلَا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى , قَالَ: فَنَثَرَ حِبْوَتِي، ثُمَّ قَالَ: فَأَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمْ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ" . قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَنَّهُ قَالَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَنَاصِِحِينَ فِيَّ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمْ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ" .
ابو مسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ٢ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں وہاں سے نکل کر یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سنائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22782]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22783
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَجَلَسْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُحَدِّثُ، ثُمَّ يَقُولُ الْآخَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُحَدِّثُ، قَالَ: وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَدْعَجُ بَرَّاقُ الثَّنَايَا، فَإِذَا شَكُّوا فِي شَيْءٍ رَدُّوهُ إِلَيْهِ وَرَضُوا بِمَا يَقُولُ فِيهِ، قَالَ: فَلَمْ أَجْلِسْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مَجْلِسًا مِثْلَهُ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ وَمَا أَعْرِفُ اسْمَ رَجُلٍ مِنْهُمْ وَلَا مَنْزِلَهُ، قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ مَا بِتُّ بِمِثْلِهَا، قَالَ: وَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، وَجَلَسْتُ إِلَى أَصْحَابِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَعْرِفْ اسْمَ رَجُلٍ مِنْهُمْ وَلَا مَنْزِلَهُ! فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا أَنَا بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانُوا إِذَا شَكُّوا فِي شَيْءٍ رَدُّوهُ إِلَيْهِ، يَرْكَعُ إِلَى بَعْضِ أُسْطُوَانَاتِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَأَخَذَ بِحُبْوَتِي حَتَّى أَدْنَانِي مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ لَتُحِبُّنِي لِلَّهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِي وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ , قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ بِجَلَالِ اللَّهِ، فِي ظِلِّ اللَّهِ وَظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ" . قَالَ: فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ , فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ الرَّجُلُ , قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا يَقُولُ لَكَ إِلَّا حَقًّا , قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ وَأَفْضَلَ مِنْهُ، قَالَ: فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ , فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ الرَّجُلُ , قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا يَقُولُ لَكَ إِلَّا حَقًّا , قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ ذَلِكَ وَأَفْضَلَ مِنْهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْثِرُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَحَابُّونَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَبَاذَلُونَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَزَاوَرُونَ فِيَّ" , قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ الرَّجُلُ؟ قَالَ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ.
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں وہ نور کے منبروں پر رونق افروز ہوں گے اور ان کی نشستوں پر انبیاء و صدیقین بھی رشک کریں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22783]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، الرجل المبهم هو يونس بن ميسرة، وسماع أبى إدريس الخولاني من معاذ بن جبل مختلف فيه، وسمع من عبادة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22784
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ الشُّهَدَاءُ مِنْ أُمَّتِي؟" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَسَكَتُوا، فَقَالَ عُبَادَةُ: أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ شَهِيدٌ، يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاری لوگوں کے ساتھ میری عیادت کے لئے تشریف لائے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سوال کیا لوگ پھر خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو اس نے ایسا ہی کیا اور میں نے عرض کیا جو شخص اسلام لائے ہجرت کرے پھر اللہ کے راستہ میں شہید ہوجائے تو وہ شہید ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے غرق ہو کر مرجانا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرجانا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22784]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى سنان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22785
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِدَعْوَةٍ، إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهَا، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا روئے زمین پر جو مسلمان آدمی بھی اللہ سے کوئی دعاء مانگتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطاء فرما دیتا ہے یا اتنی پریشانی اور تکلیف کو دور کردیتا ہے تا وقتیکہ کسی گناہ میں یا قطع رحمی کی دعاء نہ کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22785]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22786
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " سَيَلِي أُمُورَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ، وَيُنَكِّرُونَكُمْ مَا تَعْرِفُونَ، فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَعَالَى، فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو گے اور ایسے کاموں کو ناپسند کریں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہوگے سو جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت ضروری نہیں اور تم اپنے رب سے نہ ہٹنا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22786]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف سويد بن سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22787
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنِ ابْنِ أُخْتِ عُبَادَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يُؤَخِّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُ مَعَهُمْ أُصَلِّي؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22787]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: إن شئت والصواب فيه: نعم، وهذا إسناده ضعيف لجهالة أبى المثني، وقد اضطرب فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22788
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ غَزَا، قَالَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ: فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا، فَلَهُ مَا نَوَى" .
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے لیکن اس کی نیت اس جہاد سے ایک رسی حاصل کرنا ہو تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22788]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يحيى بن الوليد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22789
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ مَكِّيٌّ ، وَأَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ أَبِي إِهَابٍ، وَكَانَتْ لَهُمْ، فَرَآنِي عُبَادَةُ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ، فَانْتَزَعَهُ مِنِّي وَأَرْسَلَهُ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ" , وَكَانَ عُبَادَةُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عباد زرقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ بئر اہاب نامی اپنے کنویں پر چڑیوں کا شکار کر رہے تھے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ کرلیا، اس وقت میں نے کچھ چڑیاں پکڑ رکھی تھیں انہوں نے وہ میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیں اور فرمایا بیٹا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دونوں کناروں کی درمیانی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو قرار دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22789]

الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يعلى بن عبدالرحمن، وعبدالله بن عباد- وفي مواضع أخر: ابن عبادة - مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22790
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُنِيبٍ الشَّامِيُّ ، عَنْ أَبِي عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وحَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَوْ حُدِّثْتُ عَنْهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَبِيتَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَهْوٍ، فَيُصْبِحُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ بِاسْتِحْلَالِهِمْ الْمَحَارِمَ، اتِّخَاذِهْمُ الْقَيْنَاتِ، وَشُرْبِهِمْ الْخَمْرَ، وَأَكْلِهِمْ الرِّبَا، وَلُبْسِهِمْ الْحَرِيرَ" .
مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میری امت کا ایک گر وہ رات بھر کھانے پینے اور لہو ولعب میں مصروف رہے گا جب صبح ہوگی تو ان کی شکلیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل چکی ہوں گی کیونکہ وہ شراب کو حلال سمجھتے ہوں گے دف (آلات موسیقی) بجاتے ہوں گے اور گانے والی عورتیں (گلوکارائیں) بنا رکھی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22790]

الحكم على الحديث:
هذا الحديث له أربعة أسانيد، كلهم ضعيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22791
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الشَّهْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ، وَمِنْ سُوءِ الْحَشْرِ" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی کا چاند دیکھتے تھے تو اللہ اکبر الحمد للہ اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہہ کر یہ دعاء فرماتے تھے، اے اللہ! میں تجھ سے اس مہینے کا خیر کا سوال کرتا ہوں اور تقدیر کے برے فیصلوں اور برے انجام سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22791]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عبادة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں