مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أَحَادِيثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23102
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبي سَلَمَةَ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: أَخْبرَنِي مَنْ رَأَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي الثَّوْب الْوَاحِدِ، قَدْ خَالَفَ بيْنَ طَرَفَيْهِ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے نکال کر کندھے پر ڈال رکھے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23102]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23103
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ زَيْدٍ أَبي الْحَوَارِيِّ ، عَنْ أَبي الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبلَ أَغْنِيَائِهِمْ بأَرْبعِ مِائَةِ عَامٍ"، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ أَرْبعِينَ عَامًا، فَقَالَ: عَنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبعُ مِائَةِ عَامٍ، قَالَ:" حَتَّى يَقُولَ المؤمن الْغَنِيُّ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا"، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِّهِمْ لَنَا بأَسْمَائِهِمْ، قَالَ:" هُمْ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ، بعِثُوا لَهُ، وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بعِثَ إِلَيْهِ سِوَاهُمْ، وَهُمْ الَّذِينَ يُحْجَبونَ عَنِ الْأَبوَاب" .
متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین جنت میں مالداروں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے حتیٰ کہ مالدار مسلمان کہیں گے کاش! میں دنیا میں تنگدست رہتا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں ان کا نام بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب پریشان کن حالات آئیں تو انہیں بھیج دیا جائے، اگر مال غنیمت آئے تو دوسروں کو بھیجا جائے اور انہیں، چھوڑ دیا جائے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے دروازوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23103]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الضعف زيد أبى الحواري
حدیث نمبر: 23104
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ غَالِبا الْقَطَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي نُمَيْرٍ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ وَعَلَى أَبيكَ السَّلَامُ" .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً علیک وعلی ابیک السلام فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23104]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لابهام الرجل النميري، وأبيه
حدیث نمبر: 23105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: ابنُ أَبي الْجَدْعَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي بشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي، أَكْثَرُ مِنْ بنِي تَمِيمٍ" .
حضرت ابن ابی الجدعاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی کی سفارش کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23105]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زُهَيْرِ بنِ الْأَقْمَرِ ، قَالَ: بيْنَمَا الْحَسَنُ بنُ عَلِيٍّ يَخْطُب بعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبوَتِهِ، يَقُولُ: " مَنْ أَحَبنِي فَلْيُحِبهُ، فَلْيُبلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِب" ، وَلَوْلَا عَزْمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ.
زہیر بن اقمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہادت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تقریر فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک گندم گوں طویل قد کا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور فرما رہے تھے کہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ اس سے بھی محبت کرے اور حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختگی کے ساتھ یہ بات نہ فرمائی ہوتی تو میں تم سے کبھی بیان نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23106]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بنَ وَهْب ، قَالَ: نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ، فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" .
سعید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23107]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ كُرْدُوسٍ ، قَالَ: كَانَ يَقُصُّ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بدْرٍ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ أَجْلِسَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ، أَحَب إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبعَ رِقَاب" ، يَعْنِي الْقَصَصَ.
ایک بدری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھناچار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23108]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة كردوس بن قيس
حدیث نمبر: 23109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي يَعْقُوب ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقَ بنَ حَيَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْعُودِ بنِ قَبيصَةَ ، أَوْ قَبيصَةَ بنِ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِب الصُّبحَ، فَلَمَّا صَلَّوْا، قَالَ شَاب مِنْهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ سَيُفْتَحُ لَكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبهَا، وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ، إِلَّا مَنْ اتَّقَى اللَّهَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ" .
قبیصہ بن مسعود سے مروی ہے کہ مجاہدین کے ایک گروہ نے فجر کی نماز پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان میں سے ایک نوجوان کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے لئے زمین کے مشرق و مغرب فتح ہوجائیں گے لیکن اس کے عمال و گورنر جہنم میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں اور امانت ادا کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23109]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة شقيق بن حيان ومسعود بن قبيصة
حدیث نمبر: 23110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ أَبي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُب: إِنِّي قَدْ بايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابنَ الزُّبيْرِ، وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ: أَمْسِكْ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ، قَالَ: افْتَدِ بمَالِكَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبوْنَ إِلَّا أَنْ أُقَاتِلَ مَعَهُمْ بالسَّيْفِ، فَقَالَ جُنْدُب: حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: يَا رَب، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟" قَالَ شُعْبةُ: وَأَحْسِبهُ قَالَ: فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ" ، قَالَ: فَقَالَ جُنْدُب: فَاتَّقِهَا.
ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23110]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبا عَقِيلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَابقِ بنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبي سَلَّامٍ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ، إِذْ مَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالُوا: هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنَا بمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بيْنَكُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبحُ: رَضِيتُ باللَّهِ رَبا، وَبالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبمُحَمَّدٍ نَبيًّا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ..
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23111]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية