مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
954. حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 21760
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ , قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتْ الشَّمْسُ دَفْعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ , قَالَ:" رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ , عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ" , قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ , فَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً , نَصَّ , حتى أََتى المُزدلِفةَ , فجَمَعَ فيها بين الصلاتين المغربِ والعِشاء الآخرةِ .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے لوگوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے شور کی آوازیں آئیں تو فرمایا لوگو! آہستہ تم اپنے اوپر سکون کو لازم کرلو، کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے پھر جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے، یہاں تک کہ مزدلفہ آپہنچے اور وہاں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21760]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1666، م: 1286، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21761
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ , فَلَمَّا وَقَعَتْ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَةَ النَّاسِ خَلْفَهُ , قَالَ:" رُوَيْدًا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ" , قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَقَ , وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَةً , نَصَّ , حَتَّى مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِي يَزْعُمُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهِ , فَنَزَلَ بِهِ فَبَالَ , مَا يَقُولُ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ كَمَا يَقُولُونَ , ثُمَّ جِئْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ , ثُمَّ قَالَ: قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَقَالَ:" الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , قَالَ: فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا صَلَّى حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ , فَنَزَلَ بِهَا , فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب عرفہ کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات سے روانہ ہوئے، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے لوگوں کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے شور کی آوازیں آئیں تو فرمایا لوگو! آہستہ تم اپنے اوپر سکون کو لازم کرلو، کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے پھر جہاں لوگوں کا رش ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی رفتار ہلکی کرلیتے اور جہاں راستہ کھلا ہوا ملتا تو رفتار تیز کردیتے یہاں تک کہ اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ اپنی سورایوں کو بٹھایا کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہاں اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور پانی سے استنجاء کیا پھر وضو کا پانی منگوا کر وضو کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر مزدلفہ پہنچے وہاں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھے پڑھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21761]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21762
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21762]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2178، م: 1596، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21763
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ , أَخبرنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ , سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ: مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , أَوْ عَلَى طَائِفَةٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ , الشَّكُّ فِي الْحَدِيثِ , فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ , فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا , فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" , قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارًا مِنْهُ.
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21763]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
حدیث نمبر: 21764
حَدَّثَنَا حَسيَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ سُلَيْمٍ مَوْلًى لَيْثٍ , وَكَانَ قَدِيمًا قَالَ: مَرَّ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ , عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ يُصَلِّي , فَحَكَاهُ مَرْوَانُ , قَالَ أَبُو مَعْشَرٍ: وَقَدْ لَقِيَهُمَا جَمِيعًا , فَقَالَ أُسَامَةُ : يَا مَرْوَانُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ فَاحِشٍ مُتَفَحِّشٍ" .
مروان بن حکم ایک مرتبہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، مروان کہانیاں بیان کرنے لگا ایک مرتبہ جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مروان! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ کسی بےحیائی اور بہیودہ گوئی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21764]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف أبى المعشر. سليم مجهول
حدیث نمبر: 21765
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21765]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أسامة
حدیث نمبر: 21766
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيْنَ نَنْزِلُ غَدًا؟ فِي حَجَّتِهِ , قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا" , ثُمَّ قَالَ:" نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ , يَعْنِي الْمُحَصَّبَ , حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ" , وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ , أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ , وَلَا يُبَايِعُوهُمْ , وَلَا يُؤْوُهُمْ , ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ , وَلَا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کل آپ کہاں منزل کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے بھی کوئی منزل چھوڑی ہے؟ پھر فرمایا کل ان شاء اللہ ہم خیف بنوکنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش نے کفر پر معاہدہ کر کے قسمیں کھائی تھیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنو کنانہ نے بنو ہاشم کے خلاف قریش سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ بنوہاشم کے ساتھ نکاح، بیع وشراء اور انہیں ٹھکانہ دینے کا کوئی معاملہ نہیں کریں گے، پھر فرمایا کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21766]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3058، م: 1351
حدیث نمبر: 21767
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ , وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ , وَالْيَهُودِ , فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ , وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ , فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ , خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ , ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا , فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ , فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ , وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ , فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا , فَلَا تُؤْذِينَا فِي مَجَالِسِنَا , وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ , فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ , قَالَ: فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ , وَالْمُشْرِكُونَ , وَالْيَهُودُ , حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا , فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ , ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , فَقَالَ:" أَيْ سَعْدُ , أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا" , فَقَالَ: اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ , فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ , وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ , فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ , فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ , شَرِقَ بِذَلِكَ , فَذَاكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ , فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ..
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بھی تھا اور اس کے نیچے فد کی چادر تھی اور اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھالیا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنوحارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے جا رہے تھے، یہ واقعہ عزوہ بدر سے پہلے کا ہے راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسی مجلس پر ہوا جس میں مسلمان، بتوں کے پجاری مشرک اور یہودی سب ہی تھے اور جن میں عبداللہ بن ابی بھی موجود تھا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی۔ جب اس مجلس میں سواری کا گردوغبار اڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر اپنی چادر رکھی اور کہنے لگا کہ ہم پر گردوعبار نہ اڑاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رک کر انہیں سلام کیا اور تھوڑی دیر بعد سواری سے نیچے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلانے اور قرآن پڑھ کر سنانے لگے یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی کہنے لگا اے بھائی! جو بات آپ کہہ رہے ہیں اگر یہ برحق ہے تو اس سے اچھی کوئی بات ہی نہیں لیکن آپ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کریں، آپ اپنے ٹھکانے پر واپس چلے جائیں اور وہاں جو آدمی آئیں اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں، اس پر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ ہماری مجالس میں ضرور تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں، اس طرح مسلمانوں اور مشرکین و یہود کے درمیان تلخ کلامی ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بھڑجاتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کراتے رہے۔ جب وہ لوگ پرسکون ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں چلے گئے اور ان سے فرمایا سعد! تم نے سنا کہ ابوحباب (عبداللہ بن ابی) نے کیا کہا ہے؟ اس نے اس طرح کہا ہے؟ اس نے اس طرح کہا ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اسے معاف کردیا کریں اور اس سے درگذر فرمایا کریں، بخدا! اللہ نے جو مقام آپ کو دینا تھا وہ دے دی اور نہ یہاں کے لوگ اسے تاج شاہی پہنانے پر متفق ہوچکے تھے لیکن اللہ نے جب اس حق کے ذریعے اسے رد کردیا جو اس نے آپ کو عطاء کیا تو یہ اس پر ناگوار گذرا، اس وجہ سے اس نے ایسی حرکت کی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرما دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21767]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2987، م: 1798
حدیث نمبر: 21768
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَقَدْ اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21768]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5663، م: 1798
حدیث نمبر: 21769
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أَخبرنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَكِبَ حِمَارًا عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ , يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , فَذَكَرَهُ , وَقَالَ: الْبَحْرَةِ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4566، م: 1798