🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 307
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ شَوَّالٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى" . قَالَ سُفْيَانُ: وَسَالِمُ بْنُ شَوَّالِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا يُحَدِّثُ عَنْهُ، إِلا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ بهَذَا الْحَدِيثَ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ کرتے تھے کہ صبح اندھیرے میں ہی مزدلفہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: سالم بن شوال نامی راوی مکہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں میں نے ایسے کسی شخص کو نہیں سنا جس نے ان کے حوالے سے روایات بیان کی ہوں صرف عمرو بن دینار نے ان کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «الحج» برقم: 1292، والنسائي فى ا «لمجتبى» برقم: 3038، 3039، والنسائي فى الكبرى برقم: 4025، 4026، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1927، والبيهقي فى ”سننه الكبير“ برقم: 9611، برقم: 9612، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 27418، 28039، 28048، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7122، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» ، برقم: 3991، والطبراني فى «الكبير» برقم: 481، 490» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 308
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ مِنَ الشَّامِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَمَسَحَتْ بِهِ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةٌ لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" , فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَالِكًا ، يَقُولُ فِيهِ: عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، وَعَنْ صَفِيَّةَ ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ ، فَقَالَ سُفْيَانُ: مَا قَالَ لَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى , إِلا أُمَّ حَبِيبَةَ.
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں جب سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے انتقال کی اطلاع شام سے آئی تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن زرد رنگ منگایا اور اسے اپنے رخساروں اور کلائیوں پر لگایا اور یہ بات بیان کی مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ اس کے شوہر کا مختلف ہے کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔“ سفیان سے یہ کہا گیا: امام مالک نے اس روایت کے بارے میں یہ کہا ہے حمید بن نافع کے حوالے سے سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے یا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے یا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے تو سفیان نے کہا: ایوب بن موسیٰ نے ہمیں یہ روایت سناتے ہوئے صرف سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري في ”الطلاق“ برقم: 1280، 1281،5334، 5335، 5336، 5338، 5339، 5345، 5706، ومسلم فى ”الطلاق“ 1486، 1487، 1489،1486، 1488، 1488، 1486،1486، ومالك فى ”الموطأ“ برقم: 2215، 2216 وابن الجارود فى ”المنتقى“،85، برقم: 826، 830، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 4304، والنسائي فى ”المجتبى“ برقم: 3500، 3501 والنسائي فى ”الكبرى“،93، برقم: 5663، وأبو داود فى ”سننه“ برقم: 2299، والترمذي فى“ ”جامعه“ ”،85، برقم: 1195، وابن ماجه فى ”سننه“،29، برقم: 2084 وأبو يعلى في «مسنده» برقم: 6961» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 309
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ:" فَأَفْعَلُ مَاذَا؟" , قَالَتْ: قُلْتُ: تَنْكِحُهَا، قَالَ:" أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟" , قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ يُشْرِكُنِي فِيكَ أُخْتِي، قَالَ:" فَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لِي"، قُلْتُ: فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ:" ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، لَقَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلا أَخَوَاتِكُنَّ" .
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہما، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ!کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوسفیان کی صاحبزادی ”درہ“ میں دلچسپی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں یہ بات پسند ہے؟“ میں نے جواب دیا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اکلوتی بیوی نہیں ہوں میں یہ چاہتی ہوں کہ میری بہن بھی میری شراکت دار ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ تو میں نے عرض کی مجھے تو یہ پتہ چلا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت ابوسلمہ کے لیے نکاح کا پیغام بھیجنے والے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”ام سلمہ کی بیٹی کے لئے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہوتی، تو بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی کیونکہ مجھے اور اس کے والد کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے، تم لوگ اپنی بیٹیوں، یا بہنوں کا رشتہ میرے سامنے نہ پیش کیا کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «النكاح» برقم: 5101، 5106، 5107، 5123، 5372، ومسلم برقم: 1449، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4110، والنسائي فى ”المجتبى“ برقم: 3284، والنسائي فى «الكبرى» ،85، برقم: 5392، وابن ماجه فى ”سننه“،20، برقم: 1939، وأحمد فى "مسنده" 1،394، برقم: 27137، وأبو يعلى فى "مسنده" 1،9، برقم: 7128»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں