🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 340
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 340
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا" , فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ: تَمَّامُ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَطُّ ذَكَرِ تَمَّامًا، مَا قَالَ لَنَا، إِلا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُمِّهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ «وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا» کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ سفیان سے یہ کہا گیا: لوگ تو یہ کہتے ہیں: تمام بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ روایت بیان کی ہے، تو سفیان نے کہا: میں نے تو زہری کو کبھی تمام بن عباس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔ انہوں نے تو ہمیشہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ان کی والدہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه أخرجه البخاري فى «الآذان» برقم: 763، 4429، ومسلم فى «الصلاة» برقم: 462، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 258 وابن خزيمة فى «صحيحه» ، برقم: 519، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 1832، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27509، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7071، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 3610»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 341
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَمَّ الْفَضْل ، قَالَتْ:" شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلى اللَّهُ عَليْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَربَ" ، وَكَانَ سُفْيَانَ رُبَمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: يَشُكُّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرَسَلَتْ إِلْيهِ أَمُّ الْفَضْلِ.... فَإِذَا وُقِفَ عَلَيْهِ، قَالَ: هُوَ عَنْ أُم الْفَضْلِ.
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے بارے میں لوگوں کو شک ہوا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھجوایا جس میں دودھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ سفیان نامی راوی اس روایت میں بعض اوقات یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں شک ظاہر کیا، تو سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ جب سفیان کو اس بات پر تنبیہ کی گئی تو انہوں نے کہا: یہ روایت سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «الأشربه» برقم: 1658، 1661، 1988، 5604، 5618، 5636، ومسلم فى «الصِّيَامِ» برقم: 1123، ومالك في «الموطأ» ، برقم: 1389 وابن خزيمة فى «صحيحه» ، برقم: 2102 وابن حبان فى «صحيحه» ، برقم: 3605،3606، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 2830، 2832، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2441، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7073»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں