🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 405
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ، فَلْيَدْنُ مِنْهَا لا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلاتَهُ" .
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص سترہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کر لے، تو وہ اس کے قریب رہے، تو شیطان اس کی نماز کو منقطع نہیں کرے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 803، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2373، والحاكم في «مستدركه» برقم: 928، والنسائي في «المجتبى» برقم: 747، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 826، وأبو داود فى «سننه» برقم: 695، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3530،3531، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 16338، والطيالسي في «مسنده» برقم: 1439، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 2891»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 406
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ حَارِثَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ يُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا" .
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے عوض پھل کی فروخت کرنے سے منع کیا ہے، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عریہ“ کی رخصت دی ہے کہ اسے اندازے کے تحت فروخت کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس کے مالک (یا گھر والے) تازہ کھجوریں کھا سکیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح: وأخرجه البخاري في «البيوع» برقم: 2191،2383، ومسلم فى «البيوع» برقم: 1540، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 5002،5198»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 407
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 407
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ يَقُولُ: وَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلا فِي فَقِيرٍ، أَوْ قَلِيبٍ مِنْ فُقُرٍ وَقُلُبِ خَيْبَرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَعَمَّاهُ: حُوَيِّصَةُ , وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكُبْرَ الْكُبْرَ"، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَذَكَرَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلا، وَإِنَّ الْيَهُودَ أَهْلُ كُفْرٍ وَغَدْرٍ , فَهُمُ الَّذِينَ قَتَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا , وَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ , أَوْ دَمَ صَاحِبِكُمْ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَى مَا لَمْ نَحْضُرْ , وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ:" فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا"، قَالُوا: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ؟ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ سَهْلٌ: فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا.
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر کے ایک کنوئیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک گڑھے کے کنارے مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ اور ان کے دو چچا سیدنا حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا عبدالرحمٰن بات شروع کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے بڑے کو بات کرنے دو، پہلے بڑے کو بات کرنے دو۔“ تو سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے قتل ہونے کا تذکرہ کیا، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو مقتول پایا ہے اور یہودی کافر اور بدعہد لوگ ہیں، انہی لوگوں نے انہیں قتل کیا ہو گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم پچاس آدمی قسم اٹھا کر اپنے ساتھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے ساتھی کے خون کے مستحق بن جاؤ،“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ان لوگوں کے خلاف کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں، جب ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے، اور ہم نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودیوں کے پچاس آدمی قسم اٹھا کر تم سے بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ہم مشرک قوم کی قسموں کو کیسے قبول کر سکتے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے انہیں دیت عطا کی۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان میں سے ایک جوان اونٹنی نے مجھے ٹانگ ماری تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 407]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح: وأخرجه البخاري «في الصلح» برقم: 2702،3173،6142،6898،7192، ومسلم فى «القسامة» برقم: 1669، ومالك فى «الموطأ» برقم: 655، 656، وابن خزيمة في «صحيحه» برقم: 2384، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 6009، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 16339، وابن ماجه في «سننه» برقم: 2677، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1638،4520»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں