🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 478
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
وَقَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ، إِلَى قَوْلِهِ: فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: وَكَانَ فِي الْمَجْلِسِ هِيهِ زِدْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عَطَاءُ: مَا هِيهِ؟ هَكَذَا سَمِعْتُ، فَقَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ،
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کی طرف سے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا اور نماز ادا کی۔ جب عطاء بن ابی رباح نے یہ روایت بیان کی، تو وہاں عمرو بن دینار مکی بھی بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے کہا: اے شیخ ابومحمد! آپ مزید روایت بھی تو بیان کیجیے، تو عطاء نے کہا: اور کیا بیان کرنا ہے؟ میں نے تو یہ اسی طرح سنی ہے، تو عمرو نے بتایا: کریب نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح فقد صرح ابن جريج بالتحديث عند مسلم . وأخرجه مسلم فى صلاة المسافرين 763، 192، باب: الدعاء فى صلاة الليل و قيامه من طريق محمد بن حاتم حدثنا محمد ابن بكر أخبرنا ابن جريج بهذا الإسناد ولتمام تخريجه النظر التعليق السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 479
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 479
فَقَالَ سُفْيَانُ: هَذَا لِلنَّبِيِّ خَاصَّةً، لأَنَّ النَّبِيَّ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلا يَنَامُ قَلْبُهُ.
سفیان بن عینیہ کہتے ہیں: یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سو جایا کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک نہیں سوتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «جزء من حديث أخرجه البخاري فى الأذان 859، باب: وضوء الصبيان وانظر التعليق السابق . والتعليق اللاحق أيضاً»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 480
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 480
قَالَ سُفْيَانُ : وَأَنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ: " رُؤْيَا الأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، وَقَرَأَ: إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ سورة الصافات آية 102" .
سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے عبید بن عمیر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: انبیائے کرام کے خواب وحی ہوتے ہیں، اور انہوں نے دلیل کے طور پر یہ آیت تلاوت کی۔ «إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ» میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق - جزء من حديث أخرجه البخاري فى الأذان 859، باب: وضوء الصبيان وانظر التعليق السابق . والتعليق اللاحق أيضاً»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 481
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 481
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِ، فَنَزَلْنَا فَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، وَدَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ، فَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرفہ میں تھے، ہم ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرے، ہم اس سے اترے اور ہم نے اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز میں شامل ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ بھی نہیں کہا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 76، 493، 861، 1857، 4412، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 504، ومالك فى «الموطأ» برقم: 531، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 833، 834، 835، 837، 838، 882، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2151، 2356، 2381، 2393، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 751، 753، والنسائي فى «الكبریٰ» 830، 832، 5833، وأبو داود فى «سننه» برقم: 715، 716، والترمذي فى «جامعه» برقم: 337، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1455، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 947، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2382، 2423»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 482
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 482
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَمَعَهُ بِلالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ، هَكَذَا" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ يَتَلَقَّى بِثَوْبِهِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ، وَالْخِرْصَ، وَالشَّيْءَ.
عطاء بن رباح بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز ادا کی تھی پھر خطبہ دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز خواتین تک نہیں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، جنہوں نے اپنے کپڑے کو اس طرح پھیلایا ہوا تھا۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یعنی انہوں نے اپنے کپڑے کو پھیلایا ہوا تھا، تو خواتین نے اپنی انگوٹھیاں، بالیاں اور دیگر چیزیں اس میں ڈالنا شروع کیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 98، 863، 960، 962، 964، 975، 977، 979،989، 1431، 1449، 4895، 5249، 5880، 5881، 5883، 7325، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 884، 886، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1436، 1437، 1458، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2818، 2823، 2824، 3322، 3325، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1100، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1568، 1585، 1586، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 497، 498، 1779، 1781، 1789، 1791، 1805، 5863، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1142، 1147، 1159، والترمذي فى «جامعه» برقم: 537، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1644، 1645، 1646، 1652، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1273، 1274، 1291»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 483
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 483
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي ص، وَلَيْسَتْ مِنْ عَزَائمِ السُّجُودِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے، تاہم یہ لازمی سجدہ نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1069، 3421، 3422، 4632، 4806، 4807، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 550، 551، 552،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2766، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 956، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1409، والترمذي فى «جامعه» برقم: 577»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 484
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 484
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقِيلَ لَهُ أَلا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ:" لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو عرض کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو نہیں کریں گے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز تو نہیں پڑھنے لگا، جو وضو کروں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 374 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 35، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5208، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 132، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6703، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3760، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1847»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 485
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ أَتَى الْغَائِطَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ أَلا تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَسْتَطِيبُ بِشِمَالِي، وَإِنَّمَا آكُلُ بِيَمِينِي" .
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب وہ واپس تشریف لائے، تو ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ ان سے کہا گیا: آپ وضو نہیں کریں گے، تو وہ بولے: میں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے طہارت حاصل کی تھی اور دائیں ہاتھ کے ذریعے اسے کھانا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إلى عمر وهو موقوف عليه وأخرجه وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» برقم: 2405، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 1627 برقم: 24950»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 486
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا بِالتَّكْبِيرِ" . قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لأَبِي مَعْبَدٍ فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، فَقُلْتُ: بَلَى قَدْ حَدَّثْتَنِيهِ، قَبْلَ هَذَا، قَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّهُ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر کے ذریعے چلتا تھا۔ عمرو بن دینار نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد ابومعمر کے سامنے یہ روایت ذکر کی، تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا اور بولے: میں نے تو یہ حدیث تمہیں نہیں سنائی ہے، میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ اس سے قبل یہ حدیث مجھے سنا چکے ہیں۔ سفیان کہتے ہیں: گویا انہیں اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 842، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 583، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1706، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2232، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1336، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1259، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1002، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3062، 3063 وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1958، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2392»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 487
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 487
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِدَلُوٍ مِنْ زَمْزَمَ، فَنُزِعَ لَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آب زم زم کا ڈول نکالا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھڑے ہو کر پیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1637، 5617، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2027، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2945، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3838، 5319، 5320، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7303، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2964، 2965، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3942، 3943، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1882، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3422»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں