🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 559
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 559
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ , أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْزِلَ ثَمَّ يَعْنِي فِي الأَبْطَحِ، وَلَكِنِّي أَنَا ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَنَزَلَ" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں پڑاؤ کروں یعنی وادی ابطح میں پڑاؤ کروں تاہم میں نے وہاں خیمہ لگا لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1313، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2986، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2009، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9845، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24399، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13503، والطبراني فى "الكبير" برقم: 916»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 560
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 560
حَدَّثنا سُفْيَانَ ، قَالَ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، فَلَمَّا قَدِمَ صَالِحٌ عَلَيْنَا، قَالَ لَنَا عَمْرٌو: اذْهَبُوا إِلَيْهِ فَاسْأَلُوهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے یہ روایت صالح بن کیسان کے حوالے سے نقل کی ہے، جب صالح ہمارے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے ہم سے کہا: تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 560]
تخریج الحدیث: «وانظر التعليق السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 561
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 561
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعْ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ مُرْسَلا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا أَلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الأَمْرُ مِنْ أَمْرِي مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ، أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لا أَدْرِى , مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَحْفَظُ، لأَنِّي سَمِعْتُهُ أَوَّلا، وَقَدْ حَفِظْتُ هَذَا أَيْضًا.
عبید اللہ بن ابورافع اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میں تم سے کسی ایک شخص کو ہرگز ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہو، اس کے پاس ہمارے احکام میں سے کوئی حکم آئے جو حکم ہم نے دیا تھا یا جس چیز سے ہم نے منع کیا تھا، تو وہ یہ کہے: مجھے نہیں معلوم، ہمیں اللہ کی کتاب میں یہ نہیں ملا، ورنہ ہم اس کی پیروی کر لیتے۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ابن منکدر کی روایات کو میں نے زیادہ اچھے طریقے سے یاد رکھا ہوا ہے، میں نے سب سے پہلے یہ روایت ان سے سنی تھی اور میں نے یہ روایت یاد بھی رکھی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 561]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 13، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 368، 369، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4605، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2663، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 13، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24384، 24400»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 562
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 562
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، يَقُولُ: أَخَذَ الْمِسْوَرُ بْنُ الْمَخْرَمَةِ بِيَدِي، فَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ وَإِنَّ يَدَهُ لَعَلَى أَحَدِ مَنْكِبَيَّ، فَجَاءَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ، فَقَالَ لِلْمِسْوَرِ: أَلا تَأْمُرُ هَذَا يَعْنِي سَعْدًا، يَشْتَرِي مِنْ بَيْتِي الَّذِي فِي دَارِهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: لا وَاللَّهِ! لا أَزِيدُ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ، إِمَّا قَالَ: مُقَطَّعَةً، وَإِمَّا قَالَ: مُنَجَّمَةً، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو رَافِعٍ : وَاللَّهِ! إِنْ كُنْتُ لأَمْنَعُهَا مِنْ خَمْسِ مِائَةِ دِينَارٍ نَقْدًا، وَلَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" مَا بِعْتُكَ .
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں: سیدنا مسور بن مخزمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: تم میرے ساتھ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس چلو، میں ان کے ساتھ گیا، ان کا ایک ہاتھ میرے کندھے پر تھا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے سیدنا مسور بن مخزمہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ انہیں یعنی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے محلے میں موجود میرا گھر خرید لیں، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے: نہیں! اللہ کی قسم! میں چار سو دینار سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا، اور وہ ادائیگی بھی قسطوں میں ہو گی (یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم! میں تو پانچ سو دینار نقد میں منع کر چکا ہوں، اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہوتا: پڑوسی اپنی قریبی جگہ کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ تو یہ میں آپ کو فروخت نہ کرتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2258، 6977، 6978، 6980، 6981 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5180، 5181، 5183 والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 4716، 4717 والنسائي فى «الكبريٰ» برقم: 6256 وأبو داود فى «سننه» برقم: 3516، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2495، 2496، 2498، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11693»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں