🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 805
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77" .
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیات تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے: «وَنَادَوْا يَا مَالِكُ» (43-الزخرف:77) اور وہ پکاریں گے: اے مالک! [مسند الحميدي/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3230، 3266، 4819، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 871، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11415، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3992، والترمذي فى «جامعه» برقم: 508، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5861، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18244، والطبراني فى "الكبير"، برقم: 671»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 806
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَحُمِلْتُ فِيهَا عَلَى بَكْرٍ، وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلِي فِي نَفْسِي، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلا، فَعَضَّ عَلَى يَدِهِ، فَانْتَزَعَهَا مَنْ فِيهِ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ؟"، وَأَهْدَرَهَا ,
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شریک ہوا میں نے اس جنگ میں اللہ کی راہ میں ایک جوان اونٹ دیا تھا جو میرے نزدیک میرا سب سے بہترین عمل تھا۔ میں نے اس شخص کو ملازم رکھا اس کی ایک اور شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی۔ اس نے اس کے ہاتھ پر کاٹا تو دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو پہلے شخص کے سامنے کے دانت گر گئے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا؟ تاکہ تم اسے یوں چبا لیتے۔ جس طرح اونٹ چباتا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نقصان کو کالعدم قرار دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن جريج ولكنه صرح بالتحديث عند ان أبى شيبة وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2265، 2973، 4417، 6893، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1673، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5997، 6000، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5842، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4777، 4778، 4779، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4584، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2656، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17718، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18232 برقم: 18236، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28222»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 807
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا ضَمَّهُمَا فَأَدْرَجَ فِيهِ الإِسْنَادَ، فَإِذَا فَصَلَهُمَا جَعَلَ حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ مُسْنَدًا، وَجَعَلَ حَدِيثَ عَمْرٍو مُرْسَلا.
ایک سند کے ساتھ یہ روایت عطاء نے بیان کی ہے اور انہوں نے اس کی سند بیان نہیں کی۔ سفیان نامی راوی بعض اوقات ان دونوں روایات کو ایک ساتھ ذکر کر دیتے ہیں اور اس کی سند میں ادراج کرتے ہیں، لیکن جب وہ ان دونوں روایات کو الگ سے نقل کرتے ہیں، تو وہ ابن جریج سے منقول روایت کو مسند روایت کے طور پر نقل کرتے ہیں: اور عمر و سے منقول روایت کو مرسل روایت کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28224»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 808
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ يَعْنِي جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَهَذِهِ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ؟" , فَقَالَ: كُنْتُ أَغْسِلُ هَذَا الْخُلُوقَ، وَأَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ" .
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جعرانہ کے مقام پر موجود تھے۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا۔ اور وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ہے اور یہ پہنا ہوا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے حج کرنا ہوتا، تو تم کیا کرتے؟ اس نے عرض کی۔ پھر میں اس خوشبو کو دھو لیتا اور اس جبے کو اتار دیتا (اور ان سلے لباس پہنتا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تم نے اپنے حج میں کرنا ہوتا ہے۔ وہی اپنے عمرے میں کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1536، 1789، 1847، 4329، 4985، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1180، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3778، 3779، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2667، 2708، 2709، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1819، والترمذي فى «جامعه» برقم: 835، 836، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9189، 9190، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18231 برقم: 18247»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 809
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ دَعَانِي عُمَرُ، فَأَتَيْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى ثَوْبًا فَكَشَفَ لِي عُمَرُ وَجْهَهُ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟"، وَقَدْ كَانَ جَاءَهُ رَجُلٌ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا هُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ وَعَلَيَّ هَذِهِ، فَقَالَ السَّائِلُ: هَا أَنَا ذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ؟"، قَالَ: كُنْتُ أَغْسِلُ هَذَا الْخُلُوقَ، وَأَنْزِعُ هَذِهِ الْمُقَطَّعَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ" .
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: میری یہ خواہش ہے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہوتی ہے۔ سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ہم جعرانہ کے مقام پر موجود تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا۔ میں ان کے پاس آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت چادر ڈال دی گئی تھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر مجھے دکھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس سے پہلے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ وہ خوشبو میں لتھڑا ہوا تھا۔ اور اس نے یہ جبہ پہن کر احرام باندھا ہے (سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اس سائل نے عرض کی: میں یہاں ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حج میں کیا کرتے؟ وہ بولا: میں اس خوشبو کو دھو لیتا اور جبے (یعنی سلے ہوئے کپڑے) کو اتار دیتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1536، 1789، 1847، 4329، 4985، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1180، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3778، 3779، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2667، 2708، 2709، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1819، والترمذي فى «جامعه» برقم: 835، 836، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9189، 9190، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18231 برقم: 18247»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں