مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 943
حدیث نمبر: 943
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " حَلالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهُ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ، أَوْشَكَ أَنْ يُواقِعَ الْحَرَامَ، وَإِنَّ لِكُلٍ مَلِكٍ حِمًى، وَحِمَى اللَّهِ فِي الأَرْضِ مَعَاصِيهِ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حلال واضح ہے، حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، تو جو شخص ایسی چیز کو ترک کر دے جس کے گناہ ہونے کا شبہ ہو، تو وہ اس چیز کو بدرجہ اولیٰ ترک کرے گا، جو واضح طور پر گناہ ہے۔ اور جو شخص مشکوک معاملے کے بارے میں جرأت کا مظاہرہ کرے، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ آگے چل کر حرام میں مبتلا ہو جائے۔ ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ چراگاہ وہ امور ہیں، جنہیں اس نے گناہ قرار دیا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 943]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 52، 2051، 6011، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1599، 2586، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 233، 297، 721، 5569، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4465، 5726، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5200، 5997، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3329، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1205، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2573، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3984، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6523، 10511، 10512، 10925، 10926، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18638، 18646»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 944
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَنْتُ أَنِّي لا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَبَاذُلِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ، كَمَثَلِ الإِنْسَانِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوٌ مِنْ أَعْضَائِهِ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اہل ایمان کے باہمی تعلق ان کی ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے پر رحم کرنے کی مثال اس انسان کی طرح ہے، جس کے اعضاء میں سے کوئی ایک عضو بیمار ہو جائے، تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کا شکار ہو جاتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، غير أن الحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري 6011، وأخرجه مسلم 2586، وابن حبان فى ”صحيحه“: 233 297 والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4465، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3329، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1205، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2573، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3984، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6523، 10511، 10512، 10925، 10926، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18638»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر 945
حدیث نمبر: 945
قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِي الإِنْسَانِ مُضْغَةٌ، إِذَا هِيَ صَلُحَتْ وَسَلِمَتْ سَلِمَ لَهَا سَائِرُ الْجَسَدِ وَصَحَّ، وَإِذَا هِيَ سَقِمَتْ سَقِمَ لَهَا سَائِرُ الْجَسَدِ وَفَسَدَ، وَهِيَ الْقَلْبُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح و سالم رہے، تو سارا جسم صحیح و سالم رہتا ہے۔ اگر وہ بیمار ہو جائے، تو سارا جسم بیمار اور خراب ہو جاتا ہے۔ وہ دل ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 945]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 52، 2051، 6011، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1599، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 233، 297، 721، 5569، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4465، 5726، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5200، 5997، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3329، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1205، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2573، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3984، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6523، 10511، 10512، 10925، 10926، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18638، 18646»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر 946
حدیث نمبر: 946
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُدْهِنُ فِي حُقُوقِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا، وَالْقَائِمِ عَلَيْهَا، كَمَثَلِ ثَلاثَةٍ رَكِبُوا سَفِينَةً وَاسْتَهَمُوا مَنَازِلَهَا، فَكَانَ لأَحَدِهِمْ أَسْفَلُهَا وَأَوْعَرُهَا وَشَرُّهَا، فَكَانَ مُخْتَلَفُهُ وَمُهْرَاقُ مَائِهِ عَلَيْهِمْ، فَبَيْنَا هُمْ فِيهَا لا يُفْجَأُهُمْ بِهِ إِلا وَقَدْ أَخَذَ الْقَدُومَ، فَقَالُوا لَهُ: أَيَّ شَيْءٍ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: أَخْرِقُ فِي حَقِّي خَرْقًا فَيَكُونُ أَقْرَبَ لِي مِنَ الْمَاءِ وَيَكُونَ فِيهِ مُخْتَلَفِي وَمُهْرَاقُ مَائِي، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتْرُكُوهُ أَبْعَدَهُ اللَّهُ يَخْرِقُ فِي حَقِّهِ مَا شَاءَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لا تَدَعُوهُ يَخْرِقُهَا، فَيَهْلِكُنَا وَيُهْلَكُ نَفْسَهُ، فَإِنْ هُمْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ نَجَا وَنَجَوْا مَعَهُ، وَإِنْ هُمْ لَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ هَلَكَ وَهَلَكُوا مَعَهُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے والا اور ان کی خلاف ورزی کرنے والا ایسے افراد کی مانند ہیں جو ایک کشتی میں حصے کر لیتے ہیں کچھ لوگ اوپر والے حصے میں چلے جاتے ہیں اور کچھ نیچے والے حصے میں چلے جاتے ہیں جو کم بہتر ہے۔ کشتی والوں کے گزرنے کی جگہ اور پانی کے حصول کی جگہ نیچے والا حصہ ہے۔ نیچے والے لوگ جب اپنی چگہ پر آتے ہیں، تو وہ کلہاڑا لیتے ہیں دوسرے لوگ اس سے پوچھتے ہیں: تم کیا کرنے لگے ہو؟ تو وہ کہتا ہے: میں اپنی مخصوص جگہ میں سوراخ کرنے لگا ہوں تاکہ میں پانی کے قریب ہو جاؤں اور میری گزرگاہ اور پانی کے بہاؤ کی جگہ دستیاب ہو (تو دوسرے لوگوں میں سے) کچھ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ اسے دور کرے یہ اپنے حصے میں جو چیز چاہے توڑ دے، لیکن دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں: تم اسے ایسے نہ چھوڑو کہ یہ اسے توڑ دے، ورنہ یہ ہمیں اور خود کو ہلاکت کا شکار کر دے گا۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”اگر وہ دوسرے لوگ اسے روک دیتے ہیں تو وہ شخص بھی نجات پائے گا اور اس کے ساتھ دوسرے لوگ بھی نجات پائیں گے، لیکن اگر وہ لوگ اسے روکتے نہیں ہیں تو وہ شخص بھی ہلاکت کا شکار ہوگا اور اس کے ساتھ دوسرے لوگ بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2493، 2686، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 297، 298، 301، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2173، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20245، 21451، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18652، 18661 والطبراني فى "الصغير" برقم: 849»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر 947
حدیث نمبر: 947
قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " حَلالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَاكَ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهُ مِنَ الإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ، يُوشِكُ أَنْ يُواقِعَ الْحَرَامَ، كَمَنْ رَتَعَ إِلَى جَانِبِ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَإِنَّ لِكُلِ مَلِكٍ حِمًى، وَحِمَى اللَّهِ فِي الأَرْضِ مَعَاصِيهِ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، تو جو شخص ایسی چیز کو ترک کر دے جس کے گناہ ہونے کا شبہ ہو، تو واضح گناہ کو بدرجہ اولیٰ ترک کرے گا اور جو شخص مشکوک چیز کے بارے میں واضح جرأت کا مظاہرہ کرے، تو وہ آگے چل کر حرام میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ جیسے کوئی شخص چراگاہ کے اردگرد جانور چرا رہا ہو، تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ جانور چراگاہ کے اندر داخل ہو جائیں۔ بے شک ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ وہ امور ہیں، جنہیں اس نے گناہ قرار دیا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «صحيح، وقد تقدم برقم: 946 وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 52، 2051، 6011، ومسلم فى «صحيحه» 1599، 2586، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 233، 297، 721، 5569، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4465، 5726، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5200، 5997، وأبو داود فى "سننه برقم: 3329، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1205، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2573، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3984، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6523، 10511، 10512، 10926، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18638، 18646، والحميدي فى "مسنده برقم: 943، 944، 945، والطبراني فى "الصغير" برقم: 382»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر 948
حدیث نمبر: 948
قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: نَحَلَنِي أَبِي غُلامًا، فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: إِيتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، فَقَالَ:" أَكَلَ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟"، قَالَ: لا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لا أَشْهَدُ إِلا عَلَى حَقٍّ" ، وَأَبَى أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْهِ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے ایک غلام مجھے عطیے کے طور پر دیا تو میری والدہ سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان سے گزارش کی آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر انہیں گواہ بنا لیں، تو میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانے کے لیے حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ہر اولاد کو اسی کی مانند عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں صرف حق بات پر گواہ بن سکتا ہوں“، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر گواہ بننے سے انکار کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1623، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2782، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، 5102، 5103، 5104، 5105، 5106، 5107، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3674، 3675، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1367، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12115، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18645، 18649»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر 949
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: كَانَ سُفْيَانُ يَغْلَطَ فِيهِ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا إِذَا وَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ" ,
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان اس روایت میں غلطی کرتے ہیں) ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں سورہ الاعلیٰ اور سورہ الغاشیہ کی تلاوت کی تھی۔ جب جمعے کے دن عید آئی تھی اس دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو سورتوں کی تلاوت کی تھی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 949]
امام حمیدی کہتے ہیں: سفیان اس روایت میں غلطی کرتے ہیں) ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں سورہ الاعلیٰ اور سورہ الغاشیہ کی تلاوت کی تھی۔ جب جمعے کے دن عید آئی تھی اس دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو سورتوں کی تلاوت کی تھی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «في إسناده زيادة عن أبيه، بعد حبيب بن سالم، كاتب النعمان ومولاه، ولذلك قال الحمدي: كان سفيان يغلط فيه - ولكن الحديث صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 878، ومالك فى «الموطأ» برقم: 371، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1463، 1845، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2807، 2821، 2822، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1422، 1423، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1122، 1123، والترمذي فى «جامعه» برقم: 533، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1607، 1608، 1609، 1648، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1119، 1281، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5804، 5805، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18672، 18674، والحميدي فى «مسنده» برقم: 950»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر 950
حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمْ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ مَعْنَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: عَنْ أَبِيهِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 878، ومالك فى «الموطأ» برقم: 371، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1463، 1845، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2807، 2821، 2822، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1422، 1423، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1122، 1123، والترمذي فى «جامعه» برقم: 533، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1607، 1608، 1609، 1648، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1119، 1281، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5804، 5805، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18672، 18674، والحميدي فى «مسنده» برقم: 949»
الحكم على الحديث:
صحيح وأخرجه
حدیث نمبر 951
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نَحْلا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" فَارْدُدْهُ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں کوئی عطیہ دیا پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانے کے لیے حاضر ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے اپنی ہر اولاد کو اسی کی مانند عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اسے واپس لے لو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1623، ومالك فى «الموطأ» برقم: 2782، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5097، 5098، 5099، 5100، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3674، 3675، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3542، 3543، 3544، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1367، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2375، 2376، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12115، 12116، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18645، 18649»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح