صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب وُجُوبِ الإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلاَّ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ:
باب: سوگ واجب ہے اس عورت پر جس کا خاوند مر جائے اور کسی حالت میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 938 ترقیم شاملہ: -- 3742
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَت: " كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا نَكْتَحِلُ وَلَا نَتَطَيَّبُ، وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، وَقَدْ رُخِّصَ لِلْمَرْأَةِ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ ".
ایوب نے حفصہ سے، انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ ہم کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائیں، مگر خاوند پر، (اس پر) چار مہینے دس دن (سوگ ہے)۔ نہ سرمہ لگائیں، نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں، اور عورت کو اس کے طہر میں، جب ہم میں سے کوئی اپنے حیض سے غسل کر لے، اجازت دی گئی کہ وہ تھوڑی سی قسط اور اظفار استعمال کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3742]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ منانے سے منع کیا جاتا تھا، مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن (کا سوگ تھا)، اور (حکم تھا کہ) ”نہ سرمہ لگائیں، نہ خوشبو لگائیں اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنیں“ اور عورت کو حیض سے پاک ہوتے وقت رخصت تھی کہ جب وہ غسلِ حیض کرے تو تھوڑا سا «قُسْطٌ» یا «أَظْفَارٌ» استعمال کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3742]
ترقیم فوادعبدالباقی: 938
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة