🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب تَحْرِيمِ طَلاَقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلاَقُ وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا:
باب: حائضہ کو اس کی رضامندی کے بغیر طلاق دینے کی حرمت اور اگر اس حکم کی ممانعت کی تو طلاق واقع ہونے اور رجوع کا حکم دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1471 ترقیم شاملہ: -- 3672
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ، يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَجَّاجٍ، وَفِيهِ بَعْضُ الزِّيَادَةِ، قَالَ مُسْلِم: أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةَ: إِنَّمَا هُوَ مَوْلَى عَزَّةَ.
عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (کہا:) مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ کے مولیٰ عبدالرحمٰن بن ایمن سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ رہے تھے، اور ابوزبیر بھی سن رہے تھے۔۔۔ جس طرح حجاج کی حدیث ہے اور اس (حدیث) میں کچھ اضافہ بھی ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: انہوں نے جو مولیٰ عروہ کہا ہے، اس میں غلطی کی، وہ مولیٰ عزہ تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3672]
امام صاحب نے ایک اور استاد سے حجاج کی مذکورہ بالا روایت کی طرح حدیث بیان کی ہے اور اس میں کچھ اضافہ ہے، امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راوی نے غلطی سے «مَوْلَى عُرْوَةَ» عروہ کا غلام کہا ہے حالانکہ وہ «عَزَّةَ» عزہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3672]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1471
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب طَلاَقِ الثَّلاَثِ:
باب: تین طلاقوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1472 ترقیم شاملہ: -- 3673
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَ إِسْحَاقَ: أَخْبَرَنا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ: وَاحِدَةً، فقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ ".
معمر نے ہمیں ابن طاوس سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (طاوس بن کیسان) سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے (ابتدائی) دو سالوں تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار (ضروری) تھا۔ اگر ہم اس (عجلت) کو ان پر نافذ کر دیں (تو شاید وہ تحمل سے کام لینا شروع کر دیں) اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔ (اکٹھی تین طلاقوں کو تین شمار کرنے لگے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3673]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ طلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے (ابتدائی) دو سال تک، تین طلاقیں (جو بیک وقت دی گئیں) ایک شمار ہوتی تھیں، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے، جس میں ان کے لیے مہلت اور ڈھیل تھی، تو اگر ہم اس کو نافذ کر دیں (تو وہ باز آ جائیں گے) تو انہوں نے اس کو نافذ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3673]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1472
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1472 ترقیم شاملہ: -- 3674
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحدثنا ابْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتِ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ ".
ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے ابن طاوس نے اپنے والد (طاوس بن کیسان) سے خبر دی کہ ابوصبہاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے (ابتدائی) تین سالوں تک تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا تھا؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3674]
طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ابو صہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ کو علم ہے کہ تین طلاقوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور تین سال تک عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں، ایک ہی قرار دیا جاتا تھا؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3674]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1472
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1472 ترقیم شاملہ: -- 3675
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ " أَلَمْ يَكُنِ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً، فقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ، فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ ".
ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے روایت کی کہ ابوصبہاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی: آپ اپنے نوادر (جن سے اکثر لوگ بے خبر ہیں) فتووں میں سے کوئی چیز عنایت کریں۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک نہیں تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: یقیناً ایسے ہی تھا، اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں نے پے در پے (غلط طریقے سے ایک ساتھ تین) طلاقیں دینا شروع کر دیں۔ تو انہوں نے اس بات کو ان پر لاگو کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3675]
طاؤس سے روایت ہے کہ ابو صہباء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اپنی نئی چیزوں یا انوکھی چیزوں میں سے کوئی چیز بتائیں، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں تین طلاقیں ایک ہی شمار نہیں ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ایسا ہی تھا۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو لوگوں نے مسلسل طلاقیں دینا شروع کر دیں تو انہوں نے انہیں ان پر لاگو کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3675]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1472
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَنْوِ الطَّلاَقَ:
باب: کفارہ کا واجب ہونا اس پر جس نے اپنی عورت سے کہا: کہ تو مجھ پر حرام ہے اور نیت طلاق کی نہ تھی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1473 ترقیم شاملہ: -- 3676
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ".
ہشام، یعنی دستوائی (کپڑے والے) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن کثیر نے یعلیٰ بن حکیم سے حدیث بیان کرتے ہوئے لکھ بھیجا، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ (بیوی کو اپنے اوپر) حرام کرنے کے بارے میں کہا کرتے تھے: یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3676]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بیوی کو کہنا: تو مجھ پر حرام ہے، قسم ہے، اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3676]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1473
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1473 ترقیم شاملہ: -- 3677
حدثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ".
معاویہ بن سلام نے ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی کہ یعلیٰ بن حکیم نے انہیں خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا: انہوں نے کہا: جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا، اور کہا: بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3677]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر انسان اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دیتا ہے، تو یہ قسم ہے، اس کو کفارہ قسم ادا کرنا ہو گا اور کہا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3677]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1473
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1474 ترقیم شاملہ: -- 3678
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يُخْبِرُ أَنَّهُ: سَمِعَ عَائِشَةَ ، تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ، عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ، عَنْدَهَا عَسَلًا، قَالَت: فَتَوَاطَأتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فقَالَت ذَلِكَ لَهُ، فقَالَ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ "، فَنَزَلَ: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى قَوْلِهِ: إِنْ تَتُوبَا سورة التحريم آية 1 - 4، لِعَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا ".
عبید بن عمیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ بتا رہی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے اور ان کے پاس سے شہد نوش فرماتے تھے: کہا: میں اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) تشریف لائیں، وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے یہی بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں نے زینب بنت حجش کے ہاں سے شہد پیا ہے۔ اور آئندہ ہرگز نہیں پیوں گا۔ اس پر (قرآن) نازل ہوا: آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اس فرمان تک: اگر تم دونوں توبہ کرو۔۔۔ یہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہن کے لیے کہا گیا۔۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بات کہی اس سے مراد (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان) ہے: بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3678]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور وہاں شہد پیتے۔ تو میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے ایکا (اتفاق) کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں وہ کہے: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغافیر کی بو محسوس ہوتی ہے، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کے ہاں تشریف لائے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے اور آئندہ نہیں پیوں گا۔ اس پر یہ آیت اتری: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ (آپ وہ چیز کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے) [سورة التحريم: 1] اور ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] ۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3678]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1474
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1474 ترقیم شاملہ: -- 3679
حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ عَنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ: فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ، وَقُلْتُ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيح وكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكِ لَهُ، وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي، وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ، فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ: " لَا "، قَالَت: فَمَا هَذِهِ الرِّيح؟ قَالَ: " سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ "، قَالَت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ، فقَالَت بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قَالَت: قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ: حدثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا سَوَاءً،
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو اپنی تمام ازواج کے ہاں چکر لگاتے اور ان کے قریب ہوتے، (ایسا ہوا کہ) آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو ان کے ہاں آپ اس سے زیادہ (دیر کے لیے) رکے جتنا آپ (کسی بیوی کے پاس) رکا کرتے تھے۔ ان (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا) کو ان کے خاندان کی کسی عورت نے شہد کا (بھرا ہوا) ایک برتن ہدیہ کیا تھا تو انہوں نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پلایا۔ میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! ہم آپ (کو زیادہ دیر قیام سے روکنے) کے لیے ضرور کوئی حیلہ کریں گی، چنانچہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا، اور کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہاں تشریف لائیں گے تو تمہارے قریب ہوں گے، (اس وقت) تم ان سے کہنا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ وہ تمہیں جواب دیں گے، نہیں! تو تم ان سے کہنا: یہ بو کیسی ہے؟۔۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات انتہائی گراں گزرتی تھی کہ آپ سے بو محسوس کی جائے۔۔ اس پر وہ تمہیں جواب دیں گے: مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا، تو تم ان سے کہنا (پھر) اس کی مکھی نے عرفط (بوٹی) کا رس چوسا ہو گا۔ میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہنا! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! آپ ابھی دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہاری ملامت کے ڈر سے آپ کو بلند آواز سے وہ بات کہنے ہی لگی تھی جو تم نے مجھ سے کہی تھی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہوئے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا۔ انہوں نے کہا: پھر اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا۔ اس کے بعد جب آپ میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے بھی آپ سے یہی بات کہی، پھر آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی، اس کے بعد آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (دوبارہ) تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: کیا آپ کو شہد پیش نہ کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: سودہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے آپ کو اس سے محروم کر دیا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: خاموش رہیں۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا: ہمیں حسن بن بشر بن قاسم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابواسامہ نے بالکل اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3679]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شیرینی اور شہد پسند تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز سے فارغ ہوتے تو تمام ازواجِ مطہرات کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے قریب بیٹھتے۔ ایک دفعہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور عام معمول سے زیادہ ان کے پاس رک گئے۔ میں نے اس کا سبب پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ ان کی قوم کی کسی عورت نے انہیں شہد کی ایک کپی ہدیہ کے طور پر دی ہے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ شہد پلایا ہے۔ میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کے لیے کوئی تدبیر اختیار کریں گی۔ میں نے اس کا تذکرہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہیں کہا کہ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں گے اور آپ کے قریب بیٹھیں گے، تو ان سے کہنا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً فرمائیں گے: نہیں، تو ان سے کہنا: پھر یہ بو کیسی ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات انتہائی ناگوار تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ناگوار) بو آئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً یہ فرمائیں گے: حفصہ نے مجھے کچھ شہد پلایا ہے، تو ان سے کہنا: اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا، اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہوں گی، اور تم بھی اے صفیہ! یہی کہنا۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے، تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! قریب تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے وہ بات کہہ دوں جو تم نے مجھے کہی تھی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دروازے پر تھے، تیرے ڈر کی خاطر۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب پہنچے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، انہوں نے کہا: پھر یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حفصہ نے مجھے تھوڑا سا شہد پلایا ہے، انہوں نے کہا: شہد کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پہنچے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کو اس (شہد) سے نہ پلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سبحان اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے محروم کر دیا ہے، تو میں نے ان سے کہا: خاموش رہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3679]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1474
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1474 ترقیم شاملہ: -- 3680
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3680]
امام مسلم رحمہ اللہ کی صحیح مسلم کے راوی ابو اسحاق ابراہیم رحمہ اللہ مذکورہ بالا روایت امام صاحب رحمہ اللہ کے ہم پلہ ہو کر ابو اسامہ رحمہ اللہ سے ایک واسطہ سے بیان کرتے ہیں، اور امام مسلم رحمہ اللہ اپنے دوسرے استاد سے بھی ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کی ہی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3680]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1474
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لاَ يَكُونُ طَلاَقًا إِلاَّ بِالنِّيَّةِ:
باب: تخییر سے طلاق نہیں ہوتی مگر جب نیت ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1475 ترقیم شاملہ: -- 3681
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ: أَخْبَرَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فقَالَ: " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَت: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَت: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا {28} وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا {29} سورة الأحزاب آية 28-29، قَالَت: فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَت: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ نے (اس کی) ابتدا مجھ سے کی، اور فرمایا: میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں۔ تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک (جواب دینے میں) عجلت سے کام نہ لو۔ انہوں نے کہا: آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں (دنیا کا) ساز و سامان دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔‘ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے عرض کی: ان میں سے کس بات میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہوں۔ کہا: پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے وہی کیا جو میں نے کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3681]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور یہ الفاظ حرملہ بن یحییٰ تجیبی کے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپنی بیویوں کو (دنیا اور آخرت میں سے ایک کے انتخاب کا) اختیار دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا مجھ سے کی اور فرمایا: میں تم سے ایک معاملے کا ذکر کرنے لگا ہوں، تم پر کوئی تنگی نہیں ہے اگر (اس کے بارے میں فیصلہ کرنے میں) جلد بازی سے کام نہ لو، حتیٰ کہ اپنے والدین سے صلاح و مشورہ کر لو۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا * وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجیے، اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کی خواہاں ہو، تو آؤ، میں تمہیں دنیا کا سازوسامان دوں اور بڑے اچھے طریقے سے تمہیں رخصت کروں، اور اگر تم اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی خواہاں ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم خوب کاروں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3681]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1475
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں