🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ
جو کھانا آگ سے پکا ہو اس کو کھا کر وضو نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 48
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ. حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ، وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ" نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"
سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ساتھ نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس سال جنگِ خیبر ہوئی، یہاں تک کہ جب پہنچے صہباء میں (جو ایک جگہ ہے) پیچھے کی جانب خیبر سے مدینہ کی طرف، اُترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر عصر کی نماز پڑھی اور مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توشہ تو نہ آیا مگر ستّو، پس حکم کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھولنے کا سو کھولا گیا، پھر کھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ہم لوگوں نے، پھر کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ مغرب کے لیے کلی کر کے، اور ہم نے بھی کلیاں کر لیں، پھر نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور وضو نہ کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 209، 215، 2981، 4175، 4195، 5384، 5390، 5454، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1152، 1155، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 186، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 189، 6666، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 492، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 760، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16041، 16042، 16237، والحميدي فى «مسنده» برقم: 441، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 691، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 531، شركة الحروف نمبر: 45، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 20»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 49
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ ، أَنَّهُ" تَعَشَّى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"
حضرت ربیعہ بن عبداللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام کا کھانا کھایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 49، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 412، شركة الحروف نمبر: 46، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 21» شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 50
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ " أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ مَضْمَضَ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"
حضرت ابان بن عثمان سے روایت ہے کہ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے روٹی اور گوشت کھا کر کلی کی اور ہاتھ دھو کر منہ پونچھا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 747، وأحمد فى «مسنده» برقم: 448، 512، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1865، والبزار فى «مسنده» برقم: 360، 376، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 643، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 525، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 413، 414، شركة الحروف نمبر: 47، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 22» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ،" كَانَا لَا يَتَوَضَّآنِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ وہ دونوں وضو نہ کرتے تھے اس کھانے سے جو آگ سے پکا ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 747، وأحمد فى «مسنده» برقم: 448، 512، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1865، والبزار فى «مسنده» برقم: 360، 376، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 643، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 525، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 413، 414، شركة الحروف نمبر: 47/1، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 22ب» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 52
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُصِيبُ طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ أَيَتَوَضَّأُ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ أَبِي يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلَا يَتَوَضَّأُ"
حضرت یحییٰ بن سعید نے پوچھا عبداللہ بن عامر سے کہ ایک شخص وضو کرے نماز کے لیے پھر کھائے وہ کھانا جو پکا ہو آگ سے، کیا وضو کرے دوبارہ؟ کہا عبداللہ نے کہ دیکھا میں نے اپنے باپ سیدنا عامر بن ربیعہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو (جو صحابی مشہور ہیں) کہ وہ آگ کا پکا ہوا کھانا کھاتے پھر وضو نہیں کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 52، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 752، شركة الحروف نمبر: 48، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 23» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 53
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ أَكَلَ لَحْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"
حضرت ابونعیم وہب بن کسیان نے سنا سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے دیکھا سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو، گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 745، 746، 12100، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15149، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 647، 648، 649، 664، 681، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 525، 536، 538، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 399، 400، شركة الحروف نمبر: 49، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 24» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دُعِيَ لِطَعَامٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى، ثُمَّ أُتِيَ بِفَضْلِ ذَلِكَ الطَّعَامِ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"
حضرت محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہوئی کھانے کی تو سامنے کیا گیا ان کے روٹی اور گوشت، پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے اور وضو کر کے نماز پڑھی، پھر اس کھانے کا بچا ہوا آیا، اس کو کھا کر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5457، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 43، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1130، 1132، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4686، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 185، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 188، وأبو داود فى «سننه» برقم: 191، 192، والترمذي فى «جامعه» برقم: 80، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 489، 3282، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 733، 737، 738، 742، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14483، 14520، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1303، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1963، 2017، شركة الحروف نمبر: 50، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 25»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَدِمَ مِنَ الْعِرَاقِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَرَّبَ لَهُمَا طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَكَلُوا مِنْهُ فَقَامَ أَنَسٌ فَتَوَضَّأَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ مَا هَذَا يَا أَنَسُ أَعِرَاقِيَّةٌ، فَقَالَ أَنَسٌ لَيْتَنِي لَمْ أَفْعَلْ. وَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ فَصَلَّيَا وَلَمْ يَتَوَضَّآ
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید انصاری سے روایت ہے کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب آئے عراق سے تو گئے ان کی ملاقات کو ابوطلحہ اور اُبی بن کعب، تو سامنے کیا سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے کھانا جو پکا ہوا تھا آگ سے، پھر کھایا سب نے، تو اٹھے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ اور وضو کیا۔ پس کہا ابوطلحہ اور اُبی بن کعب نے کہ کھانا کھا کر وضو کرنا کیا تم نے عراق سے سیکھا ہے؟ پس کہا سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے: کاش! میں وضو نہ کرتا، اور کھڑے ہوئے ابوطلحہ اور ابی بن کعب تو نماز پڑھی دونوں نے اور وضو نہ کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 55]
تخریج الحدیث: «موقوف حسن، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 659، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 751، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16627، 21570، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 421، 422، 423، شركة الحروف نمبر: 51، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 26»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ جَامِعِ الْوُضُوْءِ
اس باب میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 56
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ: " أَوَلَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ"
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا استنجا کے بارے میں، تو فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: کیسے نہیں پاتا کوئی تم میں سے تین پتھروں کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرہ، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 40، والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 44، ودارمي في «‏‏‏‏سننه» برقم: 670، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22296، والحميدي فى «مسنده» برقم: 436، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 49، وأخرجه الطبراني فى "الكبير"، 3724، شركة الحروف نمبر: 52، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 27» شیخ سلم ہلالی اور شیخ احمدعلی سلیمان نے اس روایت کو صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَلَا يُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ أَلَا هَلُمَّ أَلَا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: فَسُحْقًا فَسُحْقًا فَسُحْقًا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے مقبرہ کو، سو کہا: سلام ہے تمہارے پر اے قوم مومنوں کی! اور ہم اگر اللہ چاہے تو تم سے ملنے والے ہیں، تمنا کی میں نے کہ میں دیکھ لوں اپنے بھائیوں کو۔ تو کہا صحابہ رضی اللہ عنہم نے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نہیں ہیں ہم بھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے؟ فرمایا: بلکہ تم بھائیوں سے بڑھ کر اصحاب ہو میرے، اور بھائی میرے وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے دنیا میں، اور میں قیامت کے روز اُن کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر۔ تب کہا صحابہ رضی اللہ عنہم نے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیونکر پہچانیں گے ان لوگوں کو قیامت کے روز جو دنیا میں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہوں گے امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ کو بتلاؤ کہ کسی شخص کے سفید منہ اور سفید پاؤں کے گھوڑے خالص مشکی گھوڑوں میں مل جائیں، کیا وہ اپنے گھوڑے نہ پہنچانے گا؟ کہا صحابہ رضی اللہ عنہم نے: پہنچانے گا، پس فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: قیامت کے روز وہ بھائی میرے آئیں گے، چمکتے ہوں گے منہ اور پاؤں اُن کے وضو سے، اور میں اُن کا پیش خیمہ ہوں گا حوض کوثر پر، تو ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص نکالا جائے میرے حوض سے جیسے نکالا جاتا ہے وہ اونٹ جو اپنے مالک سے چھٹ گیا ہو، تو پکاروں گا میں ان کو اِدھر آؤ، اِدھر آؤ، اِدھر آؤ۔ کہا جائے گا مجھ سے کہ ان لوگوں نے بدل دیا سنت کو تیری، بعد تیرے۔ تب میں کہنے لگوں گا: دُور ہو، دُور ہو، دُور ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2367، 6585، 6586، 6587، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 247، 249، 2302، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1046، 1048، 3171، 7240، 7243، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 150، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 143، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3237، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4282، 4306، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 388، 389، 7309، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8083، 8108، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6209، 6502، شركة الحروف نمبر: 53، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 28»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں