موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْجِهَادِ
جہاد کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 999
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَغَّبَ فِي الْجِهَادِ، وَذَكَرَ الْجَنَّةَ" وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْكُلُ تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَحَرِيصٌ عَلَى الدُّنْيَا إِنْ جَلَسْتُ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْهُنَّ، فَرَمَى مَا فِي يَدِهِ، فَحَمَلَ بِسَيْفِهِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رغبت دلائی جہاد میں (بدر کے روز)، اور بیان کیا جنت کا حال، اتنے میں ایک شخص انصاری (وہی سیدنا عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ) کهجوریں ہاتھ میں لیے ہوئے کھا رہا تھا۔ وہ بولا: مجھے بڑی حرص ہے دنیا کی، اگر میں بیٹھا رہوں اس انتظار میں کہ کھجوریں کھا لوں، پھر کھجوریں پھینک دیں اور تلوار اٹھا کر لڑائی شروع کی اور شہید ہوا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 999]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري 4048، وأخرجه مسلم 1899، والنسائي: 3156، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14366، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 42»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1000
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " الْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَغَزْوٌ تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ، وَيُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيكُ، وَيُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ، وَيُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِكَ الْغَزْوُ خَيْرٌ كُلُّهُ، وَغَزْوٌ لَا تُنْفَقُ فِيهِ الْكَرِيمَةُ، وَلَا يُيَاسَرُ فِيهِ الشَّرِيكُ، وَلَا يُطَاعُ فِيهِ ذُو الْأَمْرِ، وَلَا يُجْتَنَبُ فِيهِ الْفَسَادُ فَذَلِكَ الْغَزْوُ لَا يَرْجِعُ صَاحِبُهُ كَفَافًا"
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جہاد دو قسم کے ہیں، ایک وہ جہاد جس میں عمدہ سے عمدہ مال صرف کیا جاتا ہے، اور رفیق کے ساتھ محبت کی جاتی ہے، اور امیر کی اطاعت کی جاتی ہے، اور فساد سے پرہیز رہتا ہے، یہ جہاد سب کا سب ثواب ہے۔ اور ایک وہ جہاد ہے جس میں اچھا مال صرف نہیں کیا جاتا، اور رفیق سے محبت نہیں ہوتی، اور امیر کی نافرمانی ہوتی ہے، اور فساد سے پرہیز نہیں ہوتا، یہ جہاد ایسا ہے اس میں جو کوئی جائے ثواب تو کیا خالی لوٹ کر آنا مشکل ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 2515،والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2449، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3190، 4208، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4382، 7770، 8677، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2461، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2323، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18618، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22466، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 109، والطبراني فى "الكبير"، 176، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 43»
الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ وَالْمُسَابَقَةِ بَيْنَهَا، وَالنَّفَقَةِ فِي الْغَزْوِ
گھوڑوں کا اور گھڑ دوڑ کا بیان اور جہاد میں صرف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری اور برکت بندھی ہوئی ہے قیامت تک۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2849، 3644، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1871، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4668، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم:3603، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4399، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2787، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13009، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4706، 4908، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 44»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1002
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنْ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرط لگائی آگے بڑھنے کی ان گھوڑوں میں جو تیار کئے گئے تھے گھڑ دوڑ کے لئے، خفیا سے (ایک مقام ہے باہر مدینہ کے) ثنیۃ الوداع تک (پانچ میل ہے حفیا سے)، اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک (ایک میل ہے) مقرر کی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی گھڑ دوڑ میں شریک تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 420، 2868، 2869، 2870، 7336، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1870، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4686، 4687، 4688، 4692، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3614، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4408، 4409، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2575، 2576، 2577، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1699، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2473، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2877، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2956، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19812، 19823، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4573، 4684، والحميدي فى «مسنده» برقم: 701، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5839، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 45»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1003
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: " لَيْسَ بِرِهَانِ الْخَيْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِيهَا مُحَلِّلٌ، فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبْقَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ"
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: گھڑ دوڑ کی شرط میں کچھ قباحت نہیں ہے، جب دو شخصوں کے بیچ میں ایک اور شخص آجائے، اگر وہ آگے بڑھ جائے تو شرط کا روپیہ لے لے، اور جب پیچھے رہے کچھ نہ دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، أخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19772، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» برقم: 2008، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33540، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 46»
الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح
حدیث نمبر: 1004
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسِهِ بِرِدَائِهِ فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنِّي عُوتِبْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْخَيْلِ"
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے دیکھا کہ اپنے گھوڑے کا منہ چادر سے صاف کر رہے ہیں، لوگوں نے اس کا سبب پوچھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات مجھ پر عتاب ہوا گھوڑے کی خبر نہ لینے پر۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2438، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1155، وابن عبدالبر فى «التمهيد» برقم: 100/24، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 47»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1005
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، أَتَاهَا لَيْلًا وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ، لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَخَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب چلے خیبر کو، پہنچے وہاں رات کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر رات کو پہنچتے تو جنگ شروع نہ کرتے یہاں تک کہ صبح ہو، تو خیبر کے یہودی اپنی کدالیں اور زنبیلیں لے کر نکلے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگے: قسم ہے اللہ کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور پورا لشکر ان کے ساتھ ہے، تو فرمایا آپ صلی الله علیہ وسلم نے: ”اللہ اکبر خراب ہوا خیبر۔ «إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ » ۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 371، 610، 947، 2228، 2235، 2943، 2944، 2945، 2991، 3647، 4197 م، 4198، 4199، 4200، 4201، 4211، 4213، 5085، 5086، 5159، 5169، 5528، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 382، 1365، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 351، 400، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4091، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2210، 6871، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 548، 3382، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2054، 2634، 2995، 2996، 2997، 2998، 3009، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1115، 1550، 1618 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2034، 2288، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1957، 2272، 3196، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 907، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1933، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12138، 12174، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1232، 1234، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 48»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 1006
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ، يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَاب الرَّيَّانِ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى مَنْ يُدْعَى مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک جوڑا (مثلاً دو اونٹ یا دو بکریاں یا دو روپے) صرف کرے اللہ کی راہ میں تو قیامت کے روز جنت کے دروازے پر پکارا جائے گا: اے بندے اللہ کے! یہ خیر ہے، تو جو شخص نمازی ہو گا وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص جہادی ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص صدقہ دینے والا ہو گا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا، جو شخص روزے بہت رکھے گا وہ باب الریان سے بلایا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم! جو شخص کسی ایک دروازے سے بلایا جائے اس کو کچھ حرج نہ ہو گا، مگر کوئی ایسا بھی ہوگا جو سب دروازوں سے بلایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو گے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1897، 2841، 3216، 3666، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1027، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2480، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 308، 3418، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3185، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2231، 2558، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3674، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18635، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7748، 8912، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1212، والبزار فى «مسنده» برقم: 8078، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 49»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
20. بَابُ إِحْرَازِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ أَرْضَهُ
ذمیوں میں سے جو کوئی مسلمان ہو جائے اس کی زمین کا بیان
حدیث نمبر: 1007Q1
سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ إِمَامٍ قَبِلَ الْجِزْيَةَ مِنْ قَوْمٍ فَكَانُوا يُعْطُونَهَا. أَرَأَيْتَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ. أَتَكُونُ لَهُ أَرْضُهُ، أَوْ تَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَيَكُونُ لَهُمْ مَالُهُ؟ فَقَالَ مَالِكٌ: ذَلِكَ يَخْتَلِفُ. أَمَّا أَهْلُ الصُّلْحِ، فَإِنَّ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فَهُوَ أَحَقُّ بِأَرْضِهِ وَمَالِهِ. وَأَمَّا أَهْلُ الْعَنْوَةِ الَّذِينَ أُخِذُوا عَنْوَةً، فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فَإِنَّ أَرْضَهُ وَمَالَهُ لِلْمُسْلِمِينَ. لِأَنَّ أَهْلَ الْعَنْوَةِ قَدْ غُلِبُوا عَلَى بِلَادِهِمْ. وَصَارَتْ فَيْئًا لِلْمُسْلِمِينَ. وَأَمَّا أَهْلُ الصُّلْحِ فَإِنَّهُمْ قَدْ مَنَعُوا أَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ. حَتَّى صَالَحُوا عَلَيْهَا. فَلَيْسَ عَلَيْهِمْ إِلَّا مَا صَالَحُوا عَلَيْهِ.
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اگر امام نے کسی قوم پر کافروں کا جزیہ مقرر کیا، ان کافروں میں سے کوئی شخص مسلمان ہو گیا تو اس کی زمین اور جائیداد اسی کو ملے گی یا مسلمانوں کی ملک ہو جائے گی؟ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اس میں دو صورتیں ہیں، اگر وہ کافر صلح کر کے خوشی سے بغیر جنگ کے جزیہ پر راضی ہو گئے ہیں، ان میں سے جو کوئی مسلمان ہو گا اس کی زمین اور جائیداد اسی کو ملے گی۔ اگر وہ کفار جنگ کر کے تلوار کے زور سے مطیع ہوئے ہوں تو ان کی زمین اور جائیداد مسلمانوں کی ملک ہو جائے گی، اگرچہ کوئی ان میں سے مسلمان ہو جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1007Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 49»
21. بَابُ الدَّفْنِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ مِنْ ضَرُورَةٍ، وَإِنْفَاذِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عِدَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ وَفَاتِهِ
دو آدمیوں یا زیادہ کو ایک قبر میں دفن کرنے کا بیان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کا بعد آپ کی وفات کے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْجَمُوحِ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ السَّلَمِيَّيْنِ، كَانَا قَدْ حَفَرَ السَّيْلُ قَبْرَهُمَا، وَكَانَ قَبْرُهُمَا مِمَّا يَلِي السَّيْلَ، وَكَانَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ وَهُمَا مِمَّنْ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَحُفِرَ عَنْهُمَا لِيُغَيَّرَا مِنْ مَكَانِهِمَا، فَوُجِدَا لَمْ يَتَغَيَّرَا كَأَنَّهُمَا مَاتَا بِالْأَمْسِ، وَكَانَ أَحَدُهُمَا قَدْ جُرِحَ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جُرْحِهِ فَدُفِنَ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَأُمِيطَتْ يَدُهُ عَنْ جُرْحِهِ، ثُمَّ أُرْسِلَتْ، فَرَجَعَتْ كَمَا كَانَتْ وَكَانَ بَيْنَ أُحُدٍ وَبَيْنَ يَوْمَ حُفِرَ عَنْهُمَا سِتٌّ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً" .
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو انصاری سلمی رضی اللہ عنہ جو شہید ہوئے تھے جنگِ اُحد میں، ان کی قبر کو پانی کے بہاؤ نے اکھیڑ دیا تھا، اور قبر ان کی بہاؤ کے نزدیک تھی، اور دونوں ایک ہی قبر میں تھے، تو قبر کھودی گئی تاکہ لاشیں ان کی نکال کر اور جگہ دفن کریں، دیکھا تو ان کی لاشیں ویسی ہی ہیں جیسے وہ شہید ہوئے تھے، گویا کل مرے ہیں، ان میں سے ایک شخص کو جب زخم لگا تھا تو اس نے ہاتھ اپنے زخم پر رکھ لیا تھا، جب ان کو دفن کرنے لگے تو ہاتھ وہاں سے ہٹایا مگر ہاتھ پھر وہیں آ لگا، جب ان کی لاشیں کھودیں تو جنگِ اُحد کو چھیالیس برس گزر چکے تھے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1007]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 49»
الحكم على الحديث:
مقطوع ضعيف