🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَنْ يُصِيبَ الرَّجُلُ أَمَةً كَانَتْ لِأَبِيهِ
جو لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1111
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا نَهْشَلِ بْنَ الْأَسْوَدِ، قَالَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: إِنِّي رَأَيْتُ جَارِيَةً لِي مُنْكَشِفًا عَنْهَا، وَهِيَ فِي الْقَمَرِ، فَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقُمْتُ، فَلَمْ أَقْرَبْهَا بَعْدُ، أَفَأَهَبُهَا لِابْنِي يَطَؤُهَا؟" فَنَهَاهُ الْقَاسِمُ عَنْ ذَلِكَ"
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابو نہشل بن اسود نے قاسم بن محمد سے کہا کہ میں نے اپنی لونڈی کو ننگا دیکھا چاندنی میں تو میں اس کے پاؤں اٹھا کر جماع کو مستعد ہو گیا۔ وہ بولی: حائضہ ہوں۔ تو میں اٹھ کھڑا ہوا، اب میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے؟ قاسم بن محمد نے منع کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13922، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 37»

الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1112
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، أَنَّهُ وَهَبَ لِصَاحِبٍ لَهُ جَارِيَةً، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْهَا، فَقَالَ: قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَهَبَهَا لِابْنِي، فَيَفْعَلُ بِهَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: لَمَرْوَانُ كَانَ أَوْرَعَ مِنْكَ، وَهَبَ لِابْنِهِ جَارِيَةً، ثُمَّ قَالَ: " لَا تَقْرَبْهَا، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ سَاقَهَا مُنْكَشِفَةً"
حضرت عبدالملک بن مروان نے اپنے دوست کو ایک لونڈی ہبہ کی، پھر اس سے اس لونڈی کا حال پوچھا، اس نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے۔ عبدالملک نے کہا کہ مروان تجھ سے زیادہ پرہیز گار تھا، اس نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہہ دیا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کی پنڈلیاں کھلی ہوئی دیکھی تھیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 38»

الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ النَّهْيِ عَنْ نِكَاحِ إِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ
یہود و نصاریٰ کی لونڈیوں سے نکاح کرنے کی ممانعت کا بیان
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہودی لونڈی اور نصرانی لونڈی سے نکاح کرنا درست نہیں۔ اور اللہ جل جلالہُ نے اپنی کتاب میں جو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست کیا ہے، اس سے آزاد عورتیں مراد ہیں۔ اور اللہ جل جلالہُ نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے۔“ اللہ نے مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال کیا ہے نہ کہ اہلِ کتاب کی لونڈیوں سے، البتہ یہودی یا نصرانی لونڈی سے اس کے مالک کو جماع کرنا درست ہے، مگر مشرکہ لونڈی سے درست نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1113Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 38ق»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اور بلاشبہ ہمارے خیال میں اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف مؤمن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کو حلال کیا ہے اور اہل کتاب میں سے یہودی و عیسائی لونڈیوں کے نکاح کو حلال نہیں کیا ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1113Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 38ق»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہودی و عیسائی لونڈی اپنے آقا کے لئے مِلک یمین (ذاتی ملکیت) کی وجہ سے حلال ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجوسی لونڈی کے ساتھ ملک یمین کی وجہ سے جماع کرنا حلال نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1113Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 38ق»

17. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْصَانِ
احصان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ: " الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ هُنَّ أُولَاتُ الْأَزْوَاجِ، وَيَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الزِّنَا"
سعید بن مسیّب نے کہا کہ «محصنات» سے وہ عورتیں مراد ہیں جو خاوند والیاں ہیں، مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ نے زنا کو حرام کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13995 والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4166، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 39»

الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَبَلَغَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: " إِذَا نَكَحَ الْحُرُّ الْأَمَةَ فَمَسَّهَا، فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ" .
ابن شہاب اور قاسم بن محمد کہتے تھے: اگر آزاد شخص نے لونڈی سے نکاح کیا اور اس سے جماع کیا تو وہ محصن ہو گیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»

الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114B1
قَالَ مَالِك: وَكُلُّ مَنْ أَدْرَكْتُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، تُحْصِنُ الْأَمَةُ الْحُرَّ إِذَا نَكَحَهَا فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے جن لوگوں کو پایا یہی کہتے پایا کہ لونڈی سے آزاد شخص جب نکاح کرے پھر اس سے جماع کرے تو وہ شخص محصن ہو جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1114B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114B2
قَالَ مَالِك: يُحْصِنُ الْعَبْدُ الْحُرَّةَ إِذَا مَسَّهَا بِنِكَاحٍ، وَلَا تُحْصِنُ الْحُرَّةُ الْعَبْدَ إِلَّا أَنْ يَعْتِقَ، وَهُوَ زَوْجُهَا، فَيَمَسَّهَا بَعْدَ عِتْقِهِ، فَإِنْ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَعْتِقَ، فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ حَتَّى يَتَزَوَّجَ بَعْدَ عِتْقِهِ، وَيَمَسَّ امْرَأَتَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: غلام اگر آزاد عورت سے نکاح کر کے صحبت کرے تو وہ محصن نہ ہوگا مگر عورت محصن ہو جائے گی، البتہ اگر غلام آزاد ہو جائے اور بعد آزادی کے اس سے جماع کرے تو غلام محصن ہو جائے گا، اور جو قبل آزادی کے وہ غلام اس عورت کو چھوڑ دے تو محصن نہ ہوگا کہ جب تک بعد آزادی کے پھر نکاح کر کے جماع نہ کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1114B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1114B3
قَالَ مَالِك: وَالْأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ ثُمَّ فَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ تَعْتِقَ، فَإِنَّهُ لَا يُحْصِنُهَا نِكَاحُهُ إِيَّاهَا، وَهِيَ أَمَةٌ حَتَّى تُنْكَحَ بَعْدَ عِتْقِهَا، وَيُصِيبَهَا زَوْجُهَا، فَذَلِكَ إِحْصَانُهَا، وَالْأَمَةُ إِذَا كَانَتْ تَحْتَ الْحُرِّ فَتَعْتِقُ وَهِيَ تَحْتَهُ، قَبْلَ أَنْ يُفَارِقَهَا، فَإِنَّهُ يُحْصِنُهَا إِذَا عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَهُ، إِذَا هُوَ أَصَابَهَا بَعْدَ أَنْ تَعْتِقَ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: لونڈی اگر آزاد شخص کے نکاح میں ہو، پھر خاوند اس کو چھوڑ دے قبل آزادی کے، تو وہ محصنہ نہ ہوگی جب تک بعد آزادی کے نکاح نہ کرے اور صحبت نہ کرائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1114B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 40»