🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ جِرَاحِ الْمُكَاتَبِ
مکاتب کسی شخص کو زخمی کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q2
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِكٌ فِي الْقَوْمِ يُكَاتَبُونَ جَمِيعًا فَيَجْرَحُ أَحَدَهُمْ جَرْحًا فِيهِ عَقْلٌ، قَالَ مَالِكٌ: مَنْ جَرَحَ مِنْهُمْ جَرْحًا فِيهِ عَقْلٌ قِيلَ لَهُ وَلِلَّذِينَ مَعَهُ فِي الْكِتَابَةِ: أَدُّوا جَمِيعًا عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ، فَإِنْ أَدَّوْهُ ثَبَتُوا عَلَى كِتَابَتِهِمْ، وَإِنْ لَمْ يُؤَدُّوهُ فَقَدْ عَجَزُوا، وَيُخَيَّرُ سَيِّدُهُمْ، فَإِنْ شَاءَ أَدَّى عَقْلَ ذَلِكَ الْجُرْحِ وَرَجَعُوا عَبِيدًا لَهُ جَمِيعًا، وَإِنْ شَاءَ أَسْلَمَ الْجَارِحَ وَحْدَهُ وَرَجَعَ الْآخَرُونَ عَبِيدًا لَهُ جَمِيعًا بِعَجْزِهِمْ عَنْ أَدَاءِ عَقْلِ ذَلِكَ الْجُرْحِ الَّذِي جَرَحَ صَاحِبُهُمْ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر چند غلام ایک ساتھ مکاتب ہوں پھر ان میں سے ایک غلام کسی شخص کو زخمی کرے تو سب غلاموں سے کہا جائے گا دیت ادا کرو، اگر ادا کریں گے اپنی کتابت پر قائم رہیں گے، اگر نہ کریں گے سب کے سب عاجز سمجھے جائیں گے، چاہے جس غلام نے زخمی کیا ہے اس کو حوالے کر دے، باقی غلام بدستور مولیٰ کے غلام ہو جائیں گے، کیونکہ وہ دیت دینے سے عاجز ہوگئے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q3
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِذَا أُصِيبَ بِجُرْحٍ يَكُونُ لَهُ فِيهِ عَقْلٌ، أَوْ أُصِيبَ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِ الْمُكَاتَبِ الَّذِينَ مَعَهُ فِي كِتَابَتِهِ، فَإِنَّ عَقْلَهُمْ عَقْلُ الْعَبِيدِ فِي قِيمَتِهِمْ، وَأَنَّ مَا أُخِذَ لَهُمْ مِنْ عَقْلِهِمْ يُدْفَعُ إِلَى سَيِّدِهِمُ الَّذِي لَهُ الْكِتَابَةُ، وَيُحْسَبُ ذَلِكَ لِلْمُكَاتَبِ فِي آخِرِ كِتَابَتِهِ، فَيُوضَعُ عَنْهُ مَا أَخَذَ سَيِّدُهُ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب کو یا اس کی اولاد کو جو کتابت میں داخل ہو کوئی زخمی کرے، تو اس کی دیت غلاموں کی سی ہوگی، اور وہ دیت مولیٰ کو دی جائے گی، اور اس قدر بدل کتابت میں سے وضع کیا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q4
قَالَ مَالِكٌ: وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّهُ كَأَنَّهُ كَاتَبَهُ عَلَى ثَلَاثَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَكَانَ دِيَةُ جَرْحِهِ الَّذِي أَخَذَ سَيِّدُهُ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَإِذَا أَدَّى الْمُكَاتَبُ إِلَى سَيِّدِهِ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَهُوَ حُرٌّ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَكَانَ الَّذِي أَخَذَ مِنْ دِيَةِ جَرْحِهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَقَدْ عَتَقَ، وَإِنْ كَانَ عَقْلُ جُرْحِهِ أَكْثَرَ مِمَّا بَقِيَ عَلَى الْمُكَاتَبِ، أَخَذَ سَيِّدُ الْمُكَاتَبِ مَا بَقِيَ مِنْ كِتَابَتِهِ وَعَتَقَ، وَكَانَ مَا فَضَلَ بَعْدَ أَدَاءِ كِتَابَتِهِ لِلْمُكَاتَبِ، وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُدْفَعَ إِلَى الْمُكَاتَبِ شَيْءٌ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ فَيَأْكُلَهُ وَيَسْتَهْلِكَهُ، فَإِنْ عَجَزَ رَجَعَ إِلَى سَيِّدِهِ أَعْوَرَ أَوْ مَقْطُوعَ الْيَدِ أَوْ مَعْضُوبَ الْجَسَدِ، وَإِنَّمَا كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ عَلَى مَالِهِ وَكَسْبِهِ، وَلَمْ يُكَاتِبْهُ عَلَى أَنْ يَأْخُذَ ثَمَنَ وَلَدِهِ وَلَا مَا أُصِيبَ مِنْ عَقْلِ جَسَدِهِ فَيَأْكُلَهُ وَيَسْتَهْلِكَهُ، وَلَكِنْ عَقْلُ جِرَاحَاتِ الْمُكَاتَبِ وَوَلَدِهِ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي كِتَابَتِهِ أَوْ كَاتَبَ عَلَيْهِمْ يُدْفَعُ إِلَى سَيِّدِهِ، وَيُحْسَبُ ذَلِكَ لَهُ فِي آخِرِ كِتَابَتِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی شرح یوں ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلاموں کو تین ہزار درہم پر مکاتب کیا، اور اس کے زخم کی دیت ایک ہزار درہم وصول پائی، تو اب جب وہ مکاتب دوہزار درہم ادا کردے گا آزاد ہو جائے گا، اگر مولیٰ کے اس غلام پر ہزار ہی درہم بابتِ کتابت کے باقی تھے کہ ایک ہزار درہم دیت کے پائے تو وہ آزاد ہوجائے گا، اور جس قدر درہم باقی تھے اس سے زیادہ دیت کے درہم پائے تو مولیٰ جتنے باقی تھے اتنے لے کر باقی مکاتب کو پھیر دے گا، اور مکاتب آزاد ہوجائے گا، یہ درست نہیں کہ مکاتب کی دیت اسی کو حوالہ کر دیں، وہ کھا پی کر برابر کر دے، پھر اگر عاجز ہو جائے تو کانا لنگڑا لولا ہو کر اپنے مولیٰ کے پاس آئے، کیونکہ مولیٰ نے اس کو اختیار دیا تھا اس کے مال اور کمائی پر، نہ اپنی اولاد کی قیمت یا اپنی دیت پر کہ وہ کھا پی کر برابر کر دے، بلکہ مکاتب کی دیت اور اس کی اولاد کی دیت جو حالتِ کتابت میں پیدا ہوئی، یا ان پر عقدِ کتابت ہوا مولیٰ کو دی جائے گی، اور اس کے بدل کتابت میں مجرا ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

5. بَابُ بَيْعِ الْمُكَاتَبِ
مکاتب کی کتابت کو بیچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q5
قَالَ مَالِكٌ إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي مُكَاتَبَ الرَّجُلِ: أَنَّهُ لَا يَبِيعُهُ إِذَا كَانَ كَاتَبَهُ بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ إِلَّا بِعَرْضٍ مِنَ الْعُرُوضِ يُعَجِّلُهُ وَلَا يُؤَخِّرُهُ. لِأَنَّهُ إِذَا أَخَّرَهُ كَانَ دَيْنًا بِدَيْنٍ وَقَدْ نُهِيَ عَنِ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ. قَالَ: وَإِنْ كَاتَبَ الْمُكَاتَبَ سَيِّدُهُ بِعَرْضٍ مِنَ الْعُرُوضِ مِنَ الْإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ أَوِ الرَّقِيقِ. فَإِنَّهُ يَصْلُحُ لِلْمُشْتَرِي أَنْ يَشْتَرِيَهُ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ عَرْضٍ مُخَالِفٍ لِلْعُرُوضِ الَّتِي كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ عَلَيْهَا يُعَجِّلُ ذَلِكَ وَلَا يُؤَخِّرُهُ.
خریدے۔ کیونکہ یہ خرید مثل قطاعت کے ہے، اور مکاتب کو یہ درست نہیں کہ اپنے شریک سے قطاعت کر لے مگر اور شریکوں کے اذن سے، اور اس قدر حصّہ خریدنے سے اس کو پوری آزادی بھی حاصل نہیں ہوتی، اور اپنے مال پر قادر نہیں ہے، بلکہ تھوڑا حصّہ خریدنے میں یہ بھی خیال ہے کہ عاجز ہو جائے، کیونکہ اس کا مال اس خرید میں صرف ہو جائے گا اور یہ اس کی مثل نہیں ہے کہ مکاتب اپنے تئیں پورا پورا خرید لے، ہاں جس صورت میں باقی شرکاء بھی اجازت دیں تو اوروں سے زیادہ اس کو اس حصّے کے خریدنے کا استحقاق [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q5]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q6
قَالَ مَالِكٌ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الْمُكَاتَبِ: أَنَّهُ إِذَا بِيعَ كَانَ أَحَقَّ بِاشْتِرَاءِ كِتَابَتِهِ مِمَّنِ اشْتَرَاهَا إِذَا قَوِيَ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى سَيِّدِهِ الثَّمَنَ الَّذِي بَاعَهُ بِهِ نَقْدًا. وَذَلِكَ أَنَّ اشْتِرَاءَهُ نَفْسَهُ عَتَاقَةٌ وَالْعَتَاقَةُ تُبَدَّأُ عَلَى مَا كَانَ مَعَهَا مِنَ الْوَصَايَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکاتب کی قسط کی بیع درست نہیں، کیونکہ اس میں دھوکہ ہے اس واسطے کہ اگر مکاتب عاجز ہو گیا تو اس کے ذمے جو روپیہ تھا باطل ہو گیا، اور اگر مکاتب مر گیا یا مفلس ہو گیا اور اس پر لوگوں کے قرضے ہیں، تو جس شخص نے اس کی قسط خریدی تو وہ قرض خواہوں کے برابر نہ ہوگا، بلکہ مثل مکاتب کے مولیٰ کے ہوگا، اور مولیٰ مکاتب کے قرض خواہوں کے برابر نہیں ہوتا، اسی طرح خراج مولیٰ کا اگر غلام کے ذمے پر جمع ہو جائے تب بھی مولیٰ اور قرض خواہوں کے برابر نہ ہو گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q7
قَالَ مَالِكٌ: وَإِنْ بَاعَ بَعْضُ مَنْ كَاتَبَ الْمُكَاتَبَ نَصِيبَهُ مِنْهُ فَبَاعَ نِصْفَ الْمُكَاتَبِ أَوْ ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ سَهْمًا مِنْ أَسْهُمِ الْمُكَاتَبِ فَلَيْسَ لِلْمُكَاتَبِ فِيمَا بِيعَ مِنْهُ شُفْعَةٌ. وَذَلِكَ أَنَّهُ يَصِيرُ بِمَنْزِلَةِ الْقَطَاعَةِ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُقَاطِعَ بَعْضَ مَنْ كَاتَبَهُ إِلَّا بِإِذْنِ شُرَكَائِهِ. وَأَنَّ مَا بِيعَ مِنْهُ لَيْسَتْ لَهُ بِهِ حُرْمَةٌ تَامَّةٌ. وَأَنَّ مَالَهُ مَحْجُورٌ عَنْهُ. وَأَنَّ اشْتِرَاءَهُ بَعْضَهُ يُخَافُ عَلَيْهِ مِنْهُ الْعَجْزُ لِمَا يَذْهَبُ مِنْ مَالِهِ. وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ اشْتِرَاءِ الْمُكَاتَبِ نَفْسَهُ كَامِلًا. إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ مَنْ بَقِيَ لَهُ فِيهِ كِتَابَةٌ فَإِنْ أَذِنُوا لَهُ كَانَ أَحَقَّ بِمَا بِيعَ مِنْهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکاتب اگر اپنی کتابت کو خرید کرے نقد روپیہ اشرفی کے بدلے میں یا کسی اسباب کے بدلے میں جو بدل کتابت کی جنس سے نہ ہو یا اسی جنس سے مؤجل ہو یا معجّل ہو تو درست ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q7]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q8
قَالَ مَالِكٌ: لَا يَحِلُّ بَيْعُ نَجْمٍ مِنْ نُجُومِ الْمُكَاتَبِ وَذَلِكَ أَنَّهُ غَرَرٌ إِنْ عَجَزَ الْمُكَاتَبُ بَطَلَ مَا عَلَيْهِ. وَإِنْ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ وَعَلَيْهِ دُيُونٌ لِلنَّاسِ لَمْ يَأْخُذِ الَّذِي اشْتَرَى نَجْمَهُ بِحِصَّتِهِ مَعَ غُرَمَائِهِ شَيْئًا. وَإِنَّمَا الَّذِي يَشْتَرِي نَجْمًا مِنْ نُجُومِ الْمُكَاتَبِ بِمَنْزِلَةِ سَيِّدِ الْمُكَاتَبِ فَسَيِّدُ الْمُكَاتَبِ لَا يُحَاصُّ بِكِتَابَةِ غُلَامِهِ غُرَمَاءَ الْمُكَاتَبِ. وَكَذَلِكَ الْخَرَاجُ أَيْضًا يَجْتَمِعُ لَهُ عَلَى غُلَامِهِ. فَلَا يُحَاصُّ بِمَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ الْخَرَاجِ غُرَمَاءَ غُلَامِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب مر جائے اور اپنی اُم ولد اور اولاد صغار کو جو اسی اُم ولد سے ہو یا کسی اور عورت سے چھوڑ جائے اور اولاد اس کی محنت مزدوری پر قادر نہ ہو اور کتابت سے عاجز ہو جانے کا خوف ہو تو اُم ولد کو بیچ ڈالیں گے، جب اس کی قیمت اس قدر ہو کہ بدل کتابت پورا پورا ادا ہو سکے، کیونکہ مکاتب کو اگر خوف ہوتا عجز کا تو وہ اس اُم ولد کو بیچ سکتا ہے، اسی طرح اولاد پر جب خوف ہوگا عجز کا تو ان کے باپ کی اُم ولد بیچی جائے گی، اور وہ آزاد ہو جائیں گے، اگر اس اُم ولد کی قیمت بدل کتابت کو مکفّی نہ ہو اور اُم ولد سے محنت مزدوری نہ ہو سکے نہ مکاتب کی اولاد سے تو سب کے سب اپنے مولیٰ کے غلام ہو جائیں گے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q8]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q9
قَالَ مَالِكٌ: لَا بَأْسَ بِأَنْ يَشْتَرِيَ الْمُكَاتَبُ كِتَابَتَهُ بِعَيْنٍ أَوْ عَرْضٍ مُخَالِفٍ لِمَا كُوتِبَ بِهِ مِنَ الْعَيْنِ أَوِ الْعَرْضِ أَوْ غَيْرِ مُخَالِفٍ مُعَجَّلٍ أَوْ مُؤَخَّرٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص مکاتب کی کتابت خریدے پھر مکاتب مر جائے قبل اپنی کتابت ادا کرنے کے، تو جس شخص نے کتابت خریدی ہے وہی اس کا وارث ہوگا، اگر مکاتب عاجز ہو جائے تو اسی کا غلام ہو جائے گا، اور اگر مکاتب نے بدل کتابت اس شخص کو ادا کر دیا اور عاجز ہو گیا تو ولاء اس شخص کو ملے گی جس نے اس کو مکاتب کیا تھا، نہ کہ اس شخص کو جس نے اس کی کتابت خریدی تھی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297Q9]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297Q10
قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُكَاتَبِ يَهْلِكُ وَيَتْرُكُ أُمَّ وَلَدٍ وَأَوْلَادًا لَهُ صِغَارًا مِنْهَا أَوْ مِنْ غَيْرِهَا. فَلَا يَقْوَوْنَ عَلَى السَّعْيِ وَيُخَافُ عَلَيْهِمُ الْعَجْزُ عَنْ كِتَابَتِهِمْ. قَالَ: تُبَاعُ أُمُّ وَلَدِ أَبِيهِمْ. إِذَا كَانَ فِي ثَمَنِهَا مَا يُؤَدَّى بِهِ عَنْهُمْ جَمِيعُ كِتَابَتِهِمْ أُمَّهُمْ. كَانَتْ أَوْ غَيْرَ أُمِّهِمْ يُؤَدَّى عَنْهُمْ وَيَعْتِقُونَ لِأَنَّ أَبَاهُمْ كَانَ لَا يَمْنَعُ بَيْعَهَا إِذَا خَافَ الْعَجْزَ عَنْ كِتَابَتِهِ. فَهَؤُلَاءِ إِذَا خِيفَ عَلَيْهِمُ الْعَجْزُ بِيعَتْ أُمُّ وَلَدِ أَبِيهِمْ فَيُؤَدَّى عَنْهُمْ ثَمَنُهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي ثَمَنِهَا مَا يُؤَدَّى عَنْهُمْ وَلَمْ تَقْوَ هِيَ وَلَا هُمْ عَلَى السَّعْيِ رَجَعُوا جَمِيعًا رَقِيقًا لِسَيِّدِهِمْ.
_x000D_ قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَبْتَاعُ كِتَابَةَ الْمُكَاتَبِ ثُمَّ يَهْلِكُ الْمُكَاتَبُ قَبْلَ أَنْ يُؤَدِّيَ كِتَابَتَهُ: أَنَّهُ يَرِثُهُ الَّذِي اشْتَرَى كِتَابَتَهُ. وَإِنْ عَجَزَ فَلَهُ رَقَبَتُهُ. وَإِنْ أَدَّى الْمُكَاتَبُ كِتَابَتَهُ إِلَى الَّذِي اشْتَرَاهَا وَعَتَقَ فَوَلَاؤُهُ لِلَّذِي عَقَدَ كِتَابَتَهُ لَيْسَ لِلَّذِي اشْتَرَى كِتَابَتَهُ مِنْ وَلَائِهِ شَيْءٌ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 5»

6. بَابُ سَعْيِ الْمُكَاتَبِ
مکاتب کی محنت مزدوری کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
عَنْ مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ كَاتَبَ عَلَى نَفْسِهِ وَعَلَى بَنِيهِ ثُمَّ مَاتَ. هَلْ يَسْعَى بَنُو الْمُكَاتَبِ فِي كِتَابَةِ أَبِيهِمْ أَمْ هُمْ عَبِيدٌ؟ فَقَالَا: بَلْ يَسْعَوْنَ فِي كِتَابَةِ أَبِيهِمْ وَلَا يُوضَعُ عَنْهُمْ لِمَوْتِ أَبِيهِمْ شَيْءٌ.
عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا: جو شخص اپنے تئیں اور اپنے بیٹوں کو مکاتب کرے اور پھر مر جائے تو اس کے بیٹے بدل کتابت کے ادا کرنے میں محنت مزدوری کریں گے یا غلام رہیں گے؟ انہوں نے کہا: سعی کریں گے اپنے باپ کی کتابت میں، اور اُن کے باپ کے مر جانے کی وجہ سے بدل کتابت میں کچھ کمی نہ ہو گی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21669، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15764، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20518، 20520، فواد عبدالباقي نمبر: 39 - كِتَابُ الْمُكَاتَبِ-ح: 8»

الحكم على الحديث:
مقطوع ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں