🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ السُّلْفَةِ فِي الطَّعَامِ
اناج میں سلف کر نے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1352B5
قَالَ مَالِك: وَكَذَلِكَ مَنْ سَلَّفَ فِي صِنْفٍ مِنَ الْأَصْنَافِ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ خَيْرًا مِمَّا سَلَّفَ فِيهِ أَوْ أَدْنَى بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ: أَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي حِنْطَةٍ مَحْمُولَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ شَعِيرًا أَوْ شَامِيَّةً، وَإِنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ عَجْوَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ صَيْحَانِيًّا أَوْ جَمْعًا، وَإِنْ سَلَّفَ فِي زَبِيبٍ أَحْمَرَ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْوَدَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ إِذَا كَانَتْ مَكِيلَةُ ذَلِكَ سَوَاءً بِمِثْلِ كَيْلِ مَا سَلَّفَ فِيهِ
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 49»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 49»

22. بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ بِالطَّعَامِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا
اناج جب اناج کے بدلے میں بکے تو اس میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1353
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ: فَنِيَ عَلَفُ حِمَارِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ: " خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِكَ، فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلَهُ"
حضرت سلیمان بن یسار نے کہا: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے گدھے کا چارہ تمام ہو گیا، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: گھر میں سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جَو تُلوا لا زیادہ مت لینا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1353]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، أخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14190، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 50»

الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1354
عَنِ ابْنِ مُعَيْقِيبٍ الدَّوْسِيِّ مِثْلُ ذَلِكَ.
حضرت معیقیب دوسی سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 51»

الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَنِيَ عَلَفُ دَابَّتِهِ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ: خُذْ مِنْ حِنْطَةِ أَهْلِكَ طَعَامًا، فَابْتَعْ بِهَا شَعِيرًا وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلَهُ.
حضرت عبدالرحمٰن بن اسود کے جانور کا چارہ تمام ہو گیا، انہوں نے اپنے غلام سے کہا: گھر سے گیہوں لے جا اور اس کے برابر جَو تُلوا لا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1355]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 52»

الحكم على الحديث:
مقطوع ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355B1
قَالَ مَالِكٍ: وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1355B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 52»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355B2
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنْ لَا تُبَاعَ الْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَلَا التَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَلَا الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ، وَلَا التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ، وَلَا الْحِنْطَةُ بِالزَّبِيبِ، وَلَا شَيْءٌ مِنَ الطَّعَامِ كُلِّهِ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ، فَإِنْ دَخَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ الْأَجَلُ لَمْ يَصْلُحْ، وَكَانَ حَرَامًا، وَلَا شَيْءَ مِنَ الْأُدْمِ كُلِّهَا إِلَّا يَدًا بِيَدٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ نہ بیچا جائے گا گیہوں بدلے میں گیہوں کے، اور کھجور بدلے میں کھجور کے، اور گیہوں بدلے میں کھجور کے، اور کھجور بدلے میں انگور کے، مگر نقداً نقد، کسی طرف میعاد نہ ہو، اگر میعاد ہوگی تو حرام ہو جائے گا، اسی طرح جتنی چیزیں روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ بدلے تو نقداً نقد لے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1355B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 52»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355B3
قَالَ مَالِكٌ: وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنَ الطَّعَامِ وَالْأُدْمِ، إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ: اثْنَانِ بِوَاحِدٍ، فَلَا يُبَاعُ مُدُّ حِنْطَةٍ بِمُدَّيْ حِنْطَةٍ، وَلَا مُدُّ تَمْرٍ بِمُدَّيْ تَمْرٍ، وَلَا مُدُّ زَبِيبٍ بِمُدَّيْ زَبِيبٍ، وَلَا مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْحُبُوبِ وَالْأُدْمِ كُلِّهَا، إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ، وَإِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ، إِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ لَا يَحِلُّ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ الْفَضْلُ، وَلَا يَحِلُّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جتنی کھانے کی چیزیں ہیں یا روٹی کے ساتھ لگانے کی، جب جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں۔ مثلاً ایک مد گیہوں کو دو مد گیہوں کے بدلے میں، یا ایک مد کھجور کو دو مد کھجور کے بدلے میں، یا ایک مد انگور کو دو مد انگور کے بدلے میں نہ بیچیں گے، اسی طرح جو چیزیں ان کے مشابہ ہیں کھانے کی، یا روٹی کے ساتھ لگانے کی، جب ان کی جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی درست نہیں اگرچہ نقداً نقد ہو، جیسے کوئی چاندی کو چاندی کے بدلے میں اور سونے کو سونے کے بدلے میں بیچے تو کمی بیشی درست نہیں، بلکہ ان سب چیزوں میں ضروری ہے کہ برابر ہوں۔ اور نقداً نقد ہوں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1355B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 52»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355B4
قَالَ مَالِكٌ: وَإِذَا اخْتَلَفَ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ مِمَّا يُؤْكَلُ أَوْ يُشْرَبُ، فَبَانَ اخْتِلَافُهُ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يُؤْخَذَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ، وَصَاعٌ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ زَبِيبٍ، وَصَاعٌ مِنْ حِنْطَةٍ بِصَاعَيْنِ مِنْ سَمْنٍ، فَإِذَا كَانَ الصِّنْفَانِ مِنْ هَذَا مُخْتَلِفَيْنِ، فَلَا بَأْسَ بِاثْنَيْنِ مِنْهُ بِوَاحِدٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ يَدًا بِيَدٍ، فَإِنْ دَخَلَ فِي ذَلِكَ الْأَجَلُ فَلَا يَحِلُّ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب جنس میں اختلاف ہو تو کمی بیشی درست ہے، مگر نقداً نقد ہونا چاہیے، جیسے کوئی ایک صاع کھجور کو دو صاع گیہوں کے بدلے میں، یا ایک صاع کھجور کو دو صاع انگور کے بدلے، یا ایک صاع گیہوں کے دو صاع گھی کے بدلے میں خریدے تو کچھ قباحت نہیں جب نقداً نقد ہوں، میعاد نہ ہو، اگر میعاد ہوگی تو درست نہیں۔
_x000D_ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا یہ درست نہیں کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر دوسرا گیہوں کا بورا اس کے بدلے میں لے، یہ درست ہے کہ ایک گیہوں کا بورا دے کر کھجور کا بورا اس کے بدلے میں لے نقداً نقد، کیونکہ کھجور کو گیہوں کے بدلے میں ڈھیر لگا کر اٹکل سے بیچنا درست ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1355B4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 52»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355B5
قَالَ مَالِكٌ: وَلَا تَحِلُّ صُبْرَةُ الْحِنْطَةِ، بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ، وَلَا بَأْسَ بِصُبْرَةِ الْحِنْطَةِ، بِصُبْرَةِ التَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا بَأْسَ أَنْ يُشْتَرَى الْحِنْطَةُ بِالتَّمْرِ جِزَافًا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا جتنی چیزیں کھانے کی، یا روٹی کے ساتھ لگانے کی ہیں، جب ان میں جنس مختلف ہو تو ایک دوسرے کے بدلے میں ڈھیر لگا کر بیچنا درست ہے جب نقداً نقد ہو، اگر اس میں میعاد ہو تو درست نہیں، جیسے کوئی چاندی سونے کے بدلے میں ان چیزوں کا ڈھیر لگا کر بیچے تو درست ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1355B5]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 52»