🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ الْكِرَاءِ فِي الْقِرَاضِ
مضاربت کے مال میں کرایہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401Q19
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا. فَاشْتَرَى بِهِ مَتَاعًا. فَحَمَلَهُ إِلَى بَلَدِ التِّجَارَةِ. فَبَارَ عَلَيْهِ. وَخَافَ النُّقْصَانَ إِنْ بَاعَهُ. فَتَكَارَى عَلَيْهِ إِلَى بَلَدٍ آخَرَ. فَبَاعَ بِنُقْصَانٍ، فَاغْتَرَقَ الْكِرَاءُ أَصْلَ الْمَالِ كُلَّهُ. قَالَ مَالِكٌ: إِنْ كَانَ فِيمَا بَاعَ وَفَاءٌ لِلْكِرَاءِ، فَسَبِيلُهُ ذَلِكَ، وَإِنْ بَقِيَ مِنَ الْكِرَاءِ شَيْءٌ، بَعْدَ أَصْلِ الْمَالِ كَانَ عَلَى الْعَامِلِ. وَلَمْ يَكُنْ عَلَى رَبِّ الْمَالِ مِنْهُ شَيْءٌ يُتْبَعُ بِهِ. وَذَلِكَ أَنَّ رَبَّ الْمَالِ إِنَّمَا أَمَرَهُ بِالتِّجَارَةِ فِي مَالِهِ. فَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَتْبَعَهُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَالِ. وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ يُتْبَعُ بِهِ رَبُّ الْمَالِ، لَكَانَ ذَلِكَ دَيْنًا عَلَيْهِ. مِنْ غَيْرِ الْمَالِ الَّذِي قَارَضَهُ فِيهِ، فَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَحْمِلَ ذَلِكَ عَلَى رَبِّ الْمَالِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب اسباب خرید کر کے ایک شہر میں لے گیا، وہاں نہ بکا اور نقصان سمجھ کر دوسرے شہر کو لے گیا، وہاں پر نقصان سے بکا اور راس المال سب کرایہ پر صرف ہو گیا، بلکہ اور کچھ کرایہ باقی رہ گیا، تو مضارب اس کو اپنی ذات سے ادا کرے، رب المال سے نہیں لے سکتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1401Q19]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 4»

8. بَابُ التَّعَدِّي فِي الْقِرَاضِ
مضاربت میں قصور کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401Q20
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا. فَعَمِلَ فِيهِ فَرَبِحَ، ثُمَّ اشْتَرَى مِنْ رِبْحِ الْمَالِ أَوْ مِنْ جُمْلَتِهِ جَارِيَةً. فَوَطِئَهَا. فَحَمَلَتْ مِنْهُ. ثُمَّ نَقَصَ الْمَالُ، قَالَ مَالِكٌ: إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، أُخِذَتْ قِيمَةُ الْجَارِيَةِ مِنْ مَالِهِ. فَيُجْبَرُ بِهِ الْمَالُ. فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ بَعْدَ وَفَاءِ الْمَالِ. فَهُوَ بَيْنَهُمَا عَلَى الْقِرَاضِ الْأَوَّلِ. وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَفَاءٌ، بِيعَتِ الْجَارِيَةُ حَتَّى يُجْبَرَ الْمَالُ مِنْ ثَمَنِهَا.
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَتَعَدَّى، فَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً، وَزَادَ فِي ثَمَنِهَا مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ مَالِكٌ: صَاحِبُ الْمَالِ بِالْخِيَارِ. إِنْ بِيعَتِ السِّلْعَةُ بِرِبْحٍ أَوْ وَضِيعَةٍ، أَوْ لَمْ تُبَعْ. إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ السِّلْعَةَ، أَخَذَهَا وَقَضَاهُ مَا أَسْلَفَهُ فِيهَا. وَإِنْ أَبَى كَانَ الْمُقَارَضُ شَرِيكًا لَهُ بِحِصَّتِهِ مِنَ الثَّمَنِ فِي النَّمَاءِ وَالنُّقْصَانِ. بِحِسَابِ مَا زَادَ الْعَامِلُ فِيهَا مِنْ عِنْدِهِ.
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ أَخَذَ مِنْ رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا. ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ آخَرَ. فَعَمِلَ فِيهِ قِرَاضًا بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ: إِنَّهُ ضَامِنٌ لِلْمَالِ. إِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِ النُّقْصَانُ. وَإِنْ رَبِحَ فَلِصَاحِبِ الْمَالِ شَرْطُهُ مِنَ الرِّبْحِ. ثُمَّ يَكُونُ لِلَّذِي عَمِلَ شَرْطُهُ، بِمَا بَقِيَ مِنَ الْمَالِ.
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ تَعَدَّى فَتَسَلَّفَ مِمَّا بِيَدَيْهِ مِنَ الْقِرَاضِ مَالًا. فَابْتَاعَ بِهِ سِلْعَةً لِنَفْسِهِ، قَالَ مَالِكٌ: إِنْ رَبِحَ فَالرِّبْحُ عَلَى شَرْطِهِمَا فِي الْقِرَاضِ، وَإِنْ نَقَصَ فَهُوَ ضَامِنٌ لِلنُّقْصَانِ. قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَاسْتَسْلَفَ مِنْهُ الْمَدْفُوعُ إِلَيْهِ الْمَالُ مَالًا وَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً لِنَفْسِهِ إِنَّ صَاحِبَ الْمَالِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ شَرِكَهُ فِي السِّلْعَةِ عَلَى قِرَاضِهَا وَإِنْ شَاءَ خَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا وَأَخَذَ مِنْهُ رَأْسَ الْمَالِ كُلَّهُ وَكَذَلِكَ يُفْعَلُ بِكُلِّ مَنْ تَعَدَّى.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب نے تجارت کر کے نفع کمایا، پھر اصل مال یا نفع میں سے لونڈی خرید کر اس سے وطی کی اور وہ حاملہ ہو گئی، اب مال میں نقصان ہوا تو مضارب کے ذاتی مال میں سے اس لونڈی کی قیمت لے کر نقصان کو پورا کریں گے، جو کچھ بچ رہے گا وہ شرط کے موافق مضارب اور رب المال کا ہوگا، اگر اس سے بھی نقصان پورا نہ ہو تو لونڈی کو بیچ کر نقصان پورا کریں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب نے یہ قصور کیا کہ اسباب خریدنے میں اپنی طرف سے خواہ مخواہ اس کی قیمت بڑھا دی، تو رب المال کو اختیار ہے چاہے اس اسباب کو رہنے دے، اور جس قدر مضارب نے راس المال سے زیادہ دیا ہے وہ ادا کر دے، چاہے مضارب کا شریک ہو جائے اس مال میں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب نے مال مضاربت کسی اور کو مضاربت کے طور پر دیا بغیر رب المال کے پوچھے ہوئے، وہ مال کا ضامن ہو جائے گا، اگر اس میں نقصان ہو تو مضارب اپنی ذات سے ادا کرے گا، اگر نفع ہو تو رب المال اپنا راس المال اور نفع شرط کے موافق لے لے گا، بعد اس کے جو بچ رہے گا اس میں مضارب اور مضارب کا مضارب شریک ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب نے مال مضاربت میں سلف کر کے اپنے لیے کوئی اسباب خریدا، تو رب المال کو اختیار ہے خواہ اس مال میں شریک ہو جائے، یا اس مال کو چھوڑ دے اوراپنا راس المال مضارب سے پھیر لے، اسی طرح جو مضارب قصور کرے تو رب المال کو اپنا مال پھیر لینے کا اختیار ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1401Q20]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 4»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 4»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 4»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 4»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 4»

9. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ
مضارب مالِ مضاربت میں سے کتنا خرچ کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401Q25
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا إِنَّهُ إِذَا كَانَ الْمَالُ كَثِيرًا يَحْمِلُ النَّفَقَةَ، فَإِذَا شَخَصَ فِيهِ الْعَامِلُ، فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَيَكْتَسِيَ بِالْمَعْرُوفِ مِنْ قَدْرِ الْمَالِ. وَيَسْتَأْجِرَ مِنَ الْمَالِ إِذَا كَانَ كَثِيرًا لَا يَقْوَى عَلَيْهِ بَعْضَ مَنْ يَكْفِيهِ بَعْضَ مَئُونَتِهِ. وَمِنَ الْأَعْمَالِ أَعْمَالٌ لَا يَعْمَلُهَا الَّذِي يَأْخُذُ الْمَالَ. وَلَيْسَ مِثْلُهُ يَعْمَلُهَا. مِنْ ذَلِكَ تَقَاضِي الدَّيْنِ، وَنَقْلُ الْمَتَاعِ، وَشَدُّهُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ، فَلَهُ أَنْ يَسْتَأْجِرَ مِنَ الْمَالِ مَنْ يَكْفِيهِ ذَلِكَ. وَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَسْتَنْفِقَ مِنَ الْمَالِ. وَلَا يَكْتَسِيَ مِنْهُ. مَا كَانَ مُقِيمًا فِي أَهْلِهِ إِنَّمَا يَجُوزُ لَهُ النَّفَقَةُ إِذَا شَخَصَ فِي الْمَالِ. وَكَانَ الْمَالُ يَحْمِلُ النَّفَقَةَ فَإِنْ كَانَ إِنَّمَا يَتَّجِرُ فِي الْمَالِ فِي الْبَلَدِ الَّذِي هُوَ بِهِ مُقِيمٌ، فَلَا نَفَقَةَ لَهُ مِنَ الْمَالِ وَلَا كِسْوَةَ.
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا. فَخَرَجَ بِهِ وَبِمَالِ نَفْسِهِ. قَالَ: يَجْعَلُ النَّفَقَةَ مِنَ الْقِرَاضِ، وَمِنْ مَالِهِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِ الْمَالِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مالِ مضاربت بہت ہو، خرچہ اٹھا سکتا ہو، تو مضارب کو درست ہے کہ سفر کی حالت میں اپنا کھانا کپڑا موافق دستور کے اسی مال میں سے کرے، یا کسی شخص کو محنت مزدوری کے لیے نوکر رکھے جب اکیلے اس سے محنت نہ ہو سکتی ہو، اور بعض کام ایسے ہیں جن کو مضارب خود نہیں کر سکتا، جیسے قرض داروں سے تقاضا کرنا، اسباب کی باندھا بوندھی اور اس کو اٹھاکر لے چلنا، البتہ جب تک مضارب اپنے شہر میں رہے تو مضاربت کے مال میں سے کھانا کپڑا نہ کرے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب سفر میں اپنا ذاتی مال بھی لے کر گیا، تو سفر کا خرچ حصّہ رسد دونوں مال پر ڈالے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1401Q25]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 5»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 5»

10. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ
مضارب کو مالِ مضاربت میں سے کون سا خرچ کرنا جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401Q27
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ مَعَهُ مَالٌ قِرَاضٌ فَهُوَ يَسْتَنْفِقُ مِنْهُ، وَيَكْتَسِي إِنَّهُ لَا يَهَبُ مِنْهُ شَيْئًا، وَلَا يُعْطِي مِنْهُ سَائِلًا، وَلَا غَيْرَهُ، وَلَا يُكَافِئُ فِيهِ أَحَدًا، فَأَمَّا إِنِ اجْتَمَعَ هُوَ وَقَوْمٌ فَجَاءُوا بِطَعَامٍ، وَجَاءَ هُوَ بِطَعَامٍ، فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ وَاسِعًا، إِذَا لَمْ يَتَعَمَّدْ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْهِمْ، فَإِنْ تَعَمَّدَ ذَلِكَ، أَوْ مَا يُشْبِهُهُ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِ الْمَالِ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَحَلَّلَ ذَلِكَ مِنْ رَبِّ الْمَالِ، فَإِنْ حَلَّلَهُ ذَلِكَ. فَلَا بَأْسَ بِهِ. وَإِنْ أَبَى أَنْ يُحَلِّلَهُ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُكَافِئَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ. إِنْ كَانَ ذَلِكَ شَيْئًا لَهُ مُكَافَأَةٌ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مضارب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مضاربت کے مال میں سے کچھ ہبہ کرے، یا کسی فقیر کو دے، یا کسی احسان کا بدلہ ادا کرے۔ اگر اور لوگ بھی اپنا کھانا لے کر آئے تو مضارب بھی اپنا کھانا لاکر اس میں شریک ہو سکتا ہے، جب کہ دیدہ دانستہ ضرورت سے زیادہ نہ ملائے، اگر ایسا کرے گا تو رب المال سے اجازت لینا ضروری ہے، اگر رب المال نے اجازت نہ دی تو جس قدر زیادہ اس نے صرف کیا ہے اس کو مجرا کر دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1401Q27]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 5»

11. بَابُ الدَّيْنِ فِي الْقِرَاضِ
مضارب قرض پر مال بیچے تو کیا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401Q28
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً. ثُمَّ بَاعَ السِّلْعَةَ بِدَيْنٍ. فَرَبِحَ فِي الْمَالِ. ثُمَّ هَلَكَ الَّذِي أَخَذَ الْمَالَ. قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الْمَالَ. قَالَ: إِنْ أَرَادَ وَرَثَتُهُ أَنْ يَقْبِضُوا ذَلِكَ الْمَالَ، وَهُمْ عَلَى شَرْطِ أَبِيهِمْ مِنَ الرِّبْحِ، فَذَلِكَ لَهُمْ. إِذَا كَانُوا أُمَنَاءَ عَلَى ذَلِكَ. فَإِنْ كَرِهُوا أَنْ يَقْتَضُوهُ، وَخَلَّوْا بَيْنَ صَاحِبِ الْمَالِ وَبَيْنَهُ، لَمْ يُكَلَّفُوا أَنْ يَقْتَضُوهُ. وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِمْ، وَلَا شَيْءَ لَهُمْ. إِذَا أَسْلَمُوهُ إِلَى رَبِّ الْمَالِ. فَإِنِ اقْتَضَوْهُ. فَلَهُمْ فِيهِ مِنَ الشَّرْطِ وَالنَّفَقَةِ، مِثْلُ مَا كَانَ لِأَبِيهِمْ فِي ذَلِكَ هُمْ فِيهِ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِمْ، فَإِنْ لَمْ يَكُونُوا أُمَنَاءَ عَلَى ذَلِكَ. فَإِنَّ لَهُمْ أَنْ يَأْتُوا بِأَمِينٍ ثِقَةٍ. فَيَقْتَضِي ذَلِكَ الْمَالَ. فَإِذَا اقْتَضَى جَمِيعَ الْمَالِ. وَجَمِيعَ الرِّبْحِ. كَانُوا فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِمْ.
قَالَ مَالِكٌ: فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا عَلَى أَنَّهُ يَعْمَلُ فِيهِ، فَمَا بَاعَ بِهِ مِنْ دَيْنٍ فَهُوَ ضَامِنٌ لَهُ، إِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ إِنْ بَاعَ بِدَيْنٍ فَقَدْ ضَمِنَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مضارب نے مالِ مضاربت کے بدلے میں ایک اسباب خریدا، پھر اس اسباب کو قرض بیچا نفع پر، ابھی قرض وصول نہیں ہوا تھا کہ مضارب مر گیا، تو مضارب کے وارثوں کو اختیار ہوگا، چاہے اس قرض کو وصول کر کے مضارب کے قائم مقام ہو جائیں، چاہے اس قرض کا مقابلہ رب المال سے کروا کر آپ الگ ہو جائیں، اس صورت میں ان کو کچھ نہ ملے گا۔ اگر وارثوں نے تقاضا کر کے اس قرض کو وصول کیا، تو اپنا نفع اور خرچ مضارب کی مانند اس میں سے لیں گے، یہ جب ہےکہ وارث معتبر ہوں، اگر ان کا اعتبار نہ ہو تو ایک معتبر شخص کو مقرر کر کے قرضہ اور نفع وصول کروا دیں، جب وصول ہو جائے تو مضارب کے مثل ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر رب المال نے مضارب سے یہ شرط کر لی کہ قرض نہ بیچنا اگر قرض بیچو گے تو تم ضامن ہو گے، پھر مضارب نے قرض بیچا تو وہ ضامن ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1401Q28]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 32 - كِتَابُ الْقِرَاضِ-ح: 5»