🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا لَا قَطْعَ فِيهِ
جن صورتوں میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1577B3
قَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ عَلَى الْأَجِيرِ وَلَا عَلَى الرَّجُلِ يَكُونَانِ مَعَ الْقَوْمِ يَخْدُمَانِهِمْ. إِنْ سَرَقَاهُمْ قَطْعٌ. لِأَنَّ حَالَهُمَا لَيْسَتْ بِحَالِ السَّارِقِ. وَإِنَّمَا حَالُهُمَا حَالُ الْخَائِنِ. وَلَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مزدور یا اور کوئی شخص لوگوں میں رہتا ہو اور آتا جاتا ہو، پھر وہ ان کی کوئی چیز چرائے تو اس پر قطع نہیں ہے، کیونکہ وہ مثل خائن کے ہوا، اور خائن پر قطع نہیں ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1577B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 35»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1577B4
قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَسْتَعِيرُ الْعَارِيَةَ فَيَجْحَدُهَا: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ. وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَجَحَدَهُ ذَلِكَ. فَلَيْسَ عَلَيْهِ فِيمَا جَحَدَهُ قَطْعٌ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص کوئی چیز بطورِ عاریت کے لے، پھر مکر جائے تو اس پر قطع نہیں ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی کا قرض کسی پر ہو اور وہ مکر جائے تو قطع نہیں ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1577B4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 35»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1577B5
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي السَّارِقِ يُوجَدُ فِي الْبَيْتِ قَدْ جَمَعَ الْمَتَاعَ وَلَمْ يَخْرُجْ بِهِ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قَطْعٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ. كَمَثَلِ رَجُلٍ وَضَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ خَمْرًا لِيَشْرَبَهَا. فَلَمْ يَفْعَلْ. فَلَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ. وَمَثَلُ ذَلِكَ رَجُلٌ جَلَسَ مِنِ امْرَأَةٍ مَجْلِسًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَهَا حَرَامًا. فَلَمْ يَفْعَلْ. وَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ مِنْهَا. فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَيْضًا فِي ذَلِكَ حَدٌّ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک حکم اتفاقی ہے کہ چور گھر میں گھسا اور اسباب اس نے اکٹھا کیا لیکن باہر لے کرنہیں نکلا تو اس پر قطع نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کے سامنے شراب رکھی گئی پینے کے لیے، اس نے پی نہیں تو اس پر حد نہیں ہے، اور یہ بھی اس کی مثال ہے کہ ایک شخص ایک عورت کے ساتھ بیٹھا جماع کرنے کے واسطے، پھر اس سے جماع نہیں کیا یعنی ذکر (عضو) کو اس کی شرمگاہ میں داخل نہیں کیا تو اس پر حد نہیں ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1577B5]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 35»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1577B6
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخُلْسَةِ قَطْعٌ بَلَغَ ثَمَنُهَا مَا يُقْطَعُ فِيهِ أَوْ لَمْ يَبْلُغْ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اُچک لینے میں قطع نہیں ہے، اگرچہ اس شئے کی قیمت چوتھائی دینار یا زیادہ ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1577B6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 35»