مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
2. بَابُ بَيَانِ وَسِعَةِ حَوْضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَضْلِ الْفُقَرَاءِ وَالْمُهَاجِرِينَ
باب حوضِ نبوی کی وسعت اور فقراء مہاجرین کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلامٍ الْحَبَشِيِّ، فَحُمِلَ عَلَى الْبَرِيدِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ مَحْمَلِي عَلَى الْبَرِيدِ، قَالَ عُمَرُ: مَا أَرَدْنَا الْمَشَقَّةَ بِكَ يَا أَبَا سَلامٍ، وَلَكِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ، قَالَ أَبُو سَلامٍ : سَمِعْتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، أَكَاوِيبُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ"، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" هُمُ الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدُّنُسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ" ، قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لا جَرَمَ وَاللَّهِ، لَقَدْ فُتِحَتْ لِي أَبْوَابُ السُّدَدِ، وَنَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ، فَاطِمَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ، إِلا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ تَعَالَى، لا جَرَمَ لا أَدْهُنُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ، وَلا أَغْسِلُ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ.
عباس بن سالم نے بیان کیا عمر بن عبد العزیز نے ابو سلام حبشی رحمہ اللہ کو پیغام بھیج کر بلایا تو وہ (جلد پہنچے کے لیے) ڈاک کے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، جب عمر بن عبد العزیز ان کے پاس آئے تو کہا: اے امیر المومنین! مجھے ڈاک کے گھوڑے پر سواری کی مشقت اٹھانا پڑی۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا: اے ابو سلام اہم آپ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے، لیکن ہمیں معلوم ہوا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادہ کردہ غلام سے حوض کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہیں، میں نے چاہا کہ آپ سے براہ راست وہ حدیث سنوں۔ ابو سلام نے کہا میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے عمان بلقاء تک (کی مسافت جتنا لمبا) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس کے پیالے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں۔ جو اس سے ایک بار پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ حوض پر سب سے پہلے فقراء مہاجرین آئیں گے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا، وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جن کے سر پراگندہ اور کپڑے میلے ہوں گے۔ ناز و نعت میں پرورش پانے والی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے۔ ان کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔“ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے لیے دروازے کھولے گئے، اور میں نے ناز و نعمت میں پلنے والی فاطمہ بنت عبد الملک سے نکاح کیا، اللہ مجھ پر رحم فرمائے، اب میں ضرور سر کو تیل نہیں لگاؤں گا حتٰی کہ بال پراگندہ ہو جائیں اور اپنے جسم پر موجود کپڑے نہیں دھووں گا حتٰی کہ میلے نہ ہو جائیں۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي سلام/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن ابن ماجه، الزهد باب ذكر الحوض 4303، سنن ترمذي، صفة القيامة، باب ماجاء فى صفة أواني الحوض 2444، وصححه ابن حبان: 2601، اس كي اصل صحيح مسلم ميں هے. مسلم، الفضائل، باب اثبات حوض نبينا صلى الله عليه وسلم 301»
3. بَابُ ذِكْرِ أَوْصَافِ حَوْضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدُّمِ الْفُقَرَاءِ وَالْمُهَاجِرِينَ
باب حوضِ نبوی کے اوصاف اور فقراء مہاجرین کے سبقت حاصل کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا شَدَّادٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلامٍ الأَسْوَدِ ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا دَخَلْتُ قَالَ لِي: ادْنُهُ ادْنُهْ، حَتَّى كَادَتْ رُكْبَتِي تَلْزَقُ بِرُكْبَتِهِ، فَقَالَ حَدِّثْنِي حَدِيثَ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ. قَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ، أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، أَكَاوِيبُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، وَأَوَّلُ النَّاسِ عَلَيَّ وُرُودًا الْمُهَاجِرُونَ، الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدُّنُسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ، وَلا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلا يَأْخُذُونَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ" ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَمَّا الْمُتَنَعِّمَاتُ فَقَدْ نَكَحْتُ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَأَمَّا السُّدَدُ فَقَدْ فُتِحَتْ لِي، وَاللَّهِ لأُشَعِّثَنَّ رَأْسِي، وَلأُدَنِّسَنَّ ثَوْبِي.
ابو سلام الإسود کہتے ہیں میری طرف عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے پیغام بھیجا تو میں ان کے پاس حاضر ہوا، جب میں داخل ہوا تو انہوں نے مجھے کہا قریب ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ، میں اتنا قریب ہوا حتٰی کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں سے جا ملے، تو انہوں نے کہا: مجھے ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض سے متعلق حدیث بیان کریں۔ ابو سلام الاسود نے کہا: میں نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے عمان تک (کی مسافت جتنا لمبا چوڑا) ہے، شہد سے میٹھا اور (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید ہے، اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی (تعداد کی) طرح ہیں، جس نے اس سے ایک بار پانی پی لیا اسے اس کے بعد کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی۔ سب سے پہلے میرے پاس وہ مہاجر آئیں گے جن کے سر پراگندہ، کپڑے میلے ہوں گے۔ جن کے لیے بند دروازے نہیں کھلتے، وہ ناز و نعمت میں پرورش پانے والی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے، اپنے ذمہ فرائض ادا کرتے ہیں، اور اپنے حق سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔“ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: رہی ناز و نعت میں پلنے والی عورتیں، میں نے تو عبد الملک کی بیٹی (فاطمہ) سے شادی کی ہے، اور بند دروازے بھی میرے لیے کھولے گئے اللہ کی قسم! میں ضرور اپنے سر کو پراگندہ اور اپنے کپڑوں کو میلا کروں گا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي سلام/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن ابن ماجه، الزهد باب ذكر الحوض 4303»
4. بَابُ صِفَاتِ حَوْضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَاضُعِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ
باب حوضِ نبوی کی صفات اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی عاجزی کا بیان
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ , عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلامٍ الأَسْوَدِ ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ثَوْبَانَ فِي الْحَوْضِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ، فَحُمِلَ عَلَى الْبَرِيدِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُمَرُ كَالْمُتَوَجِّعِ: مَا أَرَدْنَا الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلامٍ، وَلَكِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ تُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي فِيهِ مُشَافَهَةً. قَالَ أَبُو سَلامٍ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، أَكَاوِيبُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، وَأَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدُّنُسُ ثِيَابًا، لا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ" ، قَالَ عُمَرُ: لَكِنِّي نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ فَاطِمَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَفُتِحَتْ لِيَ السُّدَدُ، فَلا جَرَمَ لا أَغْسِلُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ، وَلا أُلْقِي ثَوْبِي حَتَّى يَتَّسِخَ.
ابو سلام الاسود کہتے ہیں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تک یہ اطلاع پہنچی کہ میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے حوض سے متعلق حدیث بیان کرتا ہوں، انہوں نے میری طرف پیغام بھیجا تو میں ڈاک کے گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، تو عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے معذرت کرتے ہوئے کہا، ہم آپ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے لیکن مجھے آپ سے متعلق معلوم ہوا آپ ثوبان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حوض سے متعلق حدیث بیان کرتے ہیں۔ اور میں نے چاہا آپ سے براہ راست وہ حدیث سنوں۔ ابو سلام نے کہا: میں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان فرما رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے لے کر عمان بلقاء تک (کی مسافت جتنا لمبا چوڑا) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں، جس نے اس سے ایک بار پانی پی لیا پھر اسے کبھی بھی پیاس نہ لگے گی۔ سب سے پہلے حوض پر وہ غریب مہاجر آئیں گے جن کے سر کے بال پراگندہ اور کپڑے میلے ہوں گے، وہ ناز و نعمت میں پرورش پانے والی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے، ان کے لیے بند دروازے نہیں کھولے جاتے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: لیکن میں نے تو ناز و نعمت میں پلی فاطمہ بنت عبد الملک سے نکاح کیا اور میرے لیے بند دروازے کھولے گئے، اب میں ضرور اپنے سر کو پراگندہ ہونے تک نہیں دھوؤں گا اور اپنے کپڑے بوسیدہ ہونے تک نہیں اتاروں گا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي سلام/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن ابن ماجه، الزهد باب ذكر الحوض 4303، سنن ترمذي، صفة القيامة، باب ماجاء فى صفة أواني الحوض 2444، وصححه ابن حبان: 2601، اس كي اصل صحيح مسلم ميں هے. مسلم، الفضائل، باب اثبات حوض نبينا صلى الله عليه وسلم 301»