مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
1. بَابُ بَيَانِ قِرَاءَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الصَّلَاةِ وَكَيْفِيَّةِ التِّلاَوَةِ فِي الرَّكَعَاتِ
باب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نماز میں قراءت اور رکعتوں میں تلاوت کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 78
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى الْغَسَّانِيَّ، حَدَّثَهُ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ، عَنِ الصُّنَابِحِيّ، أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا قَامَ فِي الثَّالِثَةِ ابْتَدَأَ الْقِرَاءَةَ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى كَادَتْ ثِيَابِي تَمَسُّ ثِيَابَهُ، فَسَمِعْتُهُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقَرَأَ: رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا سورة آل عمران آية 8" .
ابو عبد الله الصناسجی سے مروی ہے، انہوں نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز (مغرب) ادا کی، تو انہوں نے پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور قصار مفصل سے ایک ایک سورۃ جہری قراءت سے پڑھی، پھر جب تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور قراءت شروع کی تو (صناسجی کہتے ہیں) میں ان کے اتنا قریب ہوا قریب تھا کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں کو لگتے، میں نے سنا آپ نے ام القرآن پڑھی، اور یہ آیت: ”اے ہمارے رب ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر۔“ [آل عمران: 8] پڑھی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن قيس بن الحارث عن الصنابحي/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح موطا امام مالك، الصلوة، باب القراءة فى المغرب والعشاء: 171، مصنف عبد الرزاق: 2698، معرفة السنن والآثار للبيهقي: 744، مصنف ابن ابي شيبه 3683، مسند الشافعي: 144»
1. بَابُ بَيَانِ عَمَلِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ بِالْحَدِيثِ الْمَرْوِيِّ عَنْ الصِّنَاصِجِيِّ
باب عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا صناسجی سے مروی حدیث پر عمل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 79
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ صاحب ابن سُلَيْمَانَ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّهُ سَمِعَ الصُّنَابِحِيَّ يحدث بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَأَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِقَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ: كَيْفَ حَدَّثْتَنِي عَنِ الصُّنَابِحِيِّ؟ فَحَدَّثَهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْكَ قَبْلَ ذَلِكَ.
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن وزیر نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ولید نے ابو عمرو اور مالک بن انس سے، انہوں نے ابن سلیمان کے ساتھی ابوعبید سے کہ قیس بن حارث نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو بیان کیا اس نے صناسجی سے سنا وہ گزشتہ حدیث کی مانند بیان کرتے ہیں۔ ابو عبید نے کہا مجھے خبر دی عبادہ بن نسی نے، انہوں نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو قیس بن حارث سے کہتے سنا آپ نے مجھے صنا سجی کے واسطہ سے کیسے حدیث بیان کی تھی؟ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو یہ حدیث بیان کی تو عمر رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے جب سے اس حدیث کو اس سے پہلے آپ سے سنا ہے اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن قيس بن الحارث عن الصنابحي/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح: موطا امام مالك، الصلوة،، رقم: 171»