🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
264. باب ذكر النداء بصلاة الكسوف، الصلاة جامعة
باب: کسوف کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کے لیے بلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 530
530 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ؛ فَقَالَ النَّاسُ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ فَصَلُّوا وَادْعُوا اللهَ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن اس دن لگا جس دن آپ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، بعض لوگ کہنے لگے کہ گرہن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے لگا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج گرہن کسی کی موت و حیات سے نہیں لگتا، البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب صلاة الكسوف: 1 باب الصلاة في كسوف الشمس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12