اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
274. باب فضل الصلاة على الجنازة واتباعها
باب: جنازہ کے ساتھ جانے اور جنازہ کی نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 551
551 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّي عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، قِيلَ: وَمَا الْقيرَاطَانِ قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعظيمَيْنِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”جس نے جنازہ میں شرکت کی پھر نماز جنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہا تو اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے۔“ پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوں گے؟ فرمایا کہ: ”دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔“ (یعنی دنیا کا قیراط مت سمجھو جو درہم کا بارہواں حصہ ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ آخرت کے قیراط احد پہاڑ کے برابر ہیں) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 59 باب من انتظر حتى تدفن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 552
552 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْنَا، فَصَدَّقَتْ، يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا هُرَيْرَةَ؛ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ؛ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثيرَةٍ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا“، پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں، پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد خود سنا ہے، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 552]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب الجنائز:58 باب فضل اتباع الجنائز»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
275. باب فيمن يثنى عليه خير أو شر من الموتى
باب: میت کی اچھائی اور برائی بیان کرنا
حدیث نمبر: 553
553 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، مَا وَجَبَتْ قَالَ: هذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَهذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الأَرْضِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کا گزر ایک جنازے پر ہوا، لوگ اس کی تعریف کرنے لگے (کہ کیا اچھا آدمی تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ پھر دوسرے جنازے کا گزر ہوا تو لوگ اس کی برائی کرنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہو گئی۔“ اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہو گئی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میت کی تم لوگوں نے تعریف کی ہے اس کے لیے تو جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 553]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 86 باب ثناء الناس على الميت»
وضاحت: وجوب سے مراد ثبوت ہے۔ یعنی وہ صحت وقوع میں وجوب کی طرح ہے حقیقت میں اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں۔ بلکہ ثواب عطا کرنا اس کا فضل ہے اور سزا اور عذاب دینا اس کا عدل۔وہ جو بھی کرتا ہے اس سے پوچھا نہیں جائے گا۔(مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
276. باب ما جاء في مستريح ومستراح منه
باب: مستریح اور مستراح کے بارے جو وارد ہوا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 554
554 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ: مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَراحٌ مِنْهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤمِنُ يَسْتَريحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللهِ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَريحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ
سیدنا ابوقتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آرام مل گیا یا اس سے آرام مل گیا“۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! «مُسْتَرِيحٌ» اور «مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» کا کیا مطلب ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بندہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت میں نجات پا جاتا ہے، وہ «مُسْتَرِيحٌ» ہے اور «مُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» وہ ہے کہ فاجر بندے سے اللہ کے بندے، شہر، درخت اور چوپائے سب آرام پا جاتے ہیں“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 554]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 42 باب سكرات الموت»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
277. في التكبير على الجنازة
باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کا بیان
حدیث نمبر: 555
555 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نجاشی کی وفات کی اسی دن خبر دے دی تھی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لے گئے، پھر صف بندی کر کے چار تکبیریں کہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 4 باب الرجل ينعى إلى أهل الميت بنفسه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 556
556 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: نَعَى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ، صَاحِبَ الْحَبَشَةِ، الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا َلأخِيكُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی، اسی دن جس دن اس کا انتقال ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے خدا سے مغفرت چاہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 61 باب الصلاة على الجنائز بالمصلى والمسجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 557
557 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ أَرْبَعًا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو چار تکبیریں کہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 65 باب التكبير على الجنازة أربعاً»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 558
558 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ، فَهَلُمَّ فَصَلُّوا عَلَيْهِ قَالَ: فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ صُفُوفٌ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج حبش کے ایک مردِ صالح (نجاشی حبش کا بادشاہ) کا انتقال ہو گیا ہے، آؤ اس کی نمازِ جنازہ پڑھو۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم نے صف بندی کر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 55 باب الصفوف على الجنازة»
وضاحت: ان احادیث سے میت غائب پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنا ثابت ہوا۔امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ اور اکثر سلف کا یہی قول ہے۔ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی صحابی سے اس کی ممانعت ثابت نہیں۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
278. باب الصلاة على القبر
باب: قبر پر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 559
559 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا عَلَيْهِ فَقُلْتَ يَا أَبَا عَمْرٍو: مَنْ حَدَّثَكَ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ
سلیمان شیبانی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں، سیدنا شعبی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جو (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اکیلی الگ تھلگ ٹوٹی ہوئی قبر پر سے گزر رہے تھے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھے ہوئے تھے۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ اے ابو عمرو! آپ سے یہ کس نے بیان کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 161 باب وضوء الصبيان ومتى يجب عليهم الغسل والطهور وحضورهم الجماعة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 560
560 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ أَسْوَدَ، رَجُلاً أَوِ امْرَأَةً، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَمَاتَ، وَلَمْ يَعْلَمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الإِنْسَانُ قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: أَفَلاَ آذَنْتُمُونِي فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، قِصَّتَهُ؛ قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ قَالَ: فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھی، اس کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی خبر کسی نے نہ دی، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یاد فرمایا کہ ”وہ شخص دکھائی نہیں دیتا“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! اس کا تو انتقال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ یہ وجہ تھی (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے اس کو حقیر جان کر قابلِ توجہ نہیں سمجھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتا دو“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنائز/حدیث: 560]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 67 باب الصلاة على القبر بعد ما يدفن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»