اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
545. باب النهي عن الحلف بغير الله تعالى
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1066
1066 صحيح حديث عُمَرَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاكِرًا وَلاَ آثِرًا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: «وَاللّٰهِ» ! پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی ان کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی اور نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان: 4 باب لا تحلفوا بآبائكم»
حدیث نمبر: 1067
1067 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ إِنَّ اللهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللهِ، وَإِلاَّ فَلْيَصْمُتْ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکار کر فرمایا: ”آگاہ رہو! یقیناً اللہ پاک تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ داداؤں کی قسم کھاؤ، پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 74 باب من لم ير إكفار من قال ذلك متأولاً أو جاهلا»
546. باب من حلف باللات والعزى فليقل لا إله إلا الله
باب: جو لات و عزیٰ کی قسم کھائے اسے لا الہ الا اللہ پڑھنا چاہیے
حدیث نمبر: 1068
1068 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَالَّلاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ، لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ؛ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ، تَعَالَ أُقَامِرْك، فَلْيَتَصَدَّقْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی، تو اسے تجدید ایمان کے لیے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو اسے صدقہ دینا چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 53 سورة والنجم: 2 باب أفرأيتم اللات العزى»
وضاحت: کلمہ توحید پڑھنے کا حکم اس شخص کے لیے دیا گیا جو نیا نیا اسلام میں داخل ہوا تھا۔ چونکہ پہلے سے یہ شرکیہ کلمات زبان پر چڑھے ہوئے تھے، اس لیے فرمایا کہ اگر غلطی سے زبان پر اس طرح کے کلمات آ جائیں تو فوراً اس کی تلافی کر لینی چاہیے۔ (راز)
547. باب ندب من حلف يمينًا فرأى غيرها خيرًا منها أن يأتي الذي هو خير ويكفّر عن يمينه
باب: جو شخص کسی کام پر قسم کھائے پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اسی بہتر کو کرے اور قسم کا کفارہ ادا کرے
حدیث نمبر: 1069
1069 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْأَلهُ الْحُمْلاَنَ لَهُمْ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ، وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ، فَقَالَ: وَاللهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَلاَ أَشْعُرُ، وَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ؛ فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلاَّ سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلاَلاً يُنَادِي، أَي عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ قَالَ: خُذْ هذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ إِنَّ اللهَ أَوْ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هؤُلاَءِ فَارْكَبُوهُنَّ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِمْ بِهِنَّ فَقُلْتُ: إِنَّ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلَكُمْ عَلَى هؤُلاَءِ، وَلكِنِّي، وَاللهِ لاَ أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لاَ تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالُوا لِي: إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوُا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطاءَهُمْ بَعْدُ، فَحَدَّثُوهُمْ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسى
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے سواری کے جانوروں کی درخواست کروں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ جیش عسرت (یعنی غزوۂ تبوک) میں شریک ہونا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے لیے سواری کے جانوروں کا انتظام کرا دیں۔ آپ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! میں تم کو سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔“ میں جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپ غصے میں تھے اور میں اسے معلوم نہ کر سکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار سے میں بہت غمگین واپس ہوا۔ یہ خوف بھی تھا کہ کہیں آپ سواری مانگنے کی وجہ سے خفا نہ ہو گئے ہوں۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی خبر دی، لیکن ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی، وہ پکار رہے تھے: اے عبداللہ بن قیس! میں نے جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ دو جوڑے اور یہ دو جوڑے اونٹ کے لے جاؤ۔“ آپ نے چھ اونٹ عنایت فرمائے۔ ان اونٹوں کو آپ نے اسی وقت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدا تھا اور فرمایا: ”انہیں اپنے ساتھیوں کو دے دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے یا آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے انہیں دیا ہے، ان پر سوار ہو جاؤ۔“ میں ان اونٹوں کو لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری سواری کے لیے یہ عنایت فرمائے ہیں لیکن خدا کی قسم! اب تمہیں ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس چلنا پڑے گا، جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار فرمانا سنا تھا، کہیں تم یہ خیال نہ کر بیٹھو کہ میں نے تم سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے متعلق غلط بات کہہ دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہاری سچائی میں ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن اگر آپ کا اصرار ہے تو ہم ایسا بھی کر لیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو لے کر ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد سنا تھا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو دینے سے انکار کیا تھا لیکن پھر عنایت فرمایا۔ ان صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 78 باب غزوة تبوك وهي غزوة العسرة»
حدیث نمبر: 1070
1070 صحيح حديث أَبِي مُوسى عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسى فَأُتِيَ ذَكَرَ دَجَاجَةً، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللهِ أَحْمَرُ، كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ لِلطَّعَام، فَقَال: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأَكُل شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ؛ فَحَلَفْتُ لاَ آكلُ فَقَالَ: هَلُمَّ فَلأُحَدِّثْكُمْ عَنْ ذَاك إِنِّي أَتَيْتُ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلهُ، فَقَالَ: وَاللهِ لاَ أَحْمِلُكمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ: أَيْنَ النَّفَرُ الأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ، غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قلْنَا: مَا صَنَعْنَا لاَ يُبَارَكُ لَنَا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا سَأَلْنَاكَ أَنْ تَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا، أَفَنَسِيتَ قَالَ: لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلكِنَّ اللهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا
سیدنا زہدم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے (کھانا لایا گیا اور) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا۔ ”بنی تیم اللہ“ کے ایک سرخ رنگ والے آدمی وہاں موجود تھے، غالباً موالی میں سے تھے۔ انہیں بھی سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کھانے پر بلایا، وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھا لی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریب آ جاؤ، (تمہاری قسم پر) میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں، قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (غزوۂ تبوک کے لیے) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا، کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آ سکے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا، اور فرمایا: ”قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں؟“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اونٹ ہمیں دیے جانے کا حکم صادر فرمایا، خوب موٹے تازے اور فربہ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عطیہ میں ہمارے لیے کوئی برکت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہم پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کر سکوں گا۔ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو، لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا، وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! تم اس پر یقین رکھو کہ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں، پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 15 باب ومن الدليل على أن الخمس لنوائب المسلمين»
حدیث نمبر: 1071
1071 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ سَمُرَةَ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيْتَهَا عَنْ مَسْئَلَةٍ وكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيْتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْئَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! کبھی کسی حکومت کے عہدے کی درخواست نہ کرنا؛ کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا (تو جانے اور تیرا کام جانے) اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی، اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 1 باب قول الله تعالى (لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو سعید ہے۔ جاہلیت میں ان کانام عبد کلال تھا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رکھا۔ فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔ موتہ کے غزوہ میں شامل تھے۔ بصرہ میں سکونت اختیار کی اور سجستان کو فتح کیا۔ پھر خراسان میں فتوحات کیں اور بصرہ واپس لوٹ آئے۔ وہیں ۵۱ ہجری میں وفات پائی۔ چار احادیث کے راوی ہیں۔
548. باب الاستثناء
باب: قسم میں ان شاء اللہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1072
1072 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ: لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِمِائَةِ امْرَأَةٍ، تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ غُلاَمًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللهُ فَلَمْ يَقُلْ، وَنَسِيَ؛ فَأَطَافَ بِهِنَّ، وَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلاَّ امْرَأَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ قَالَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ اللهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ أَرْجَى لِحَاجَتِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا کہ ”آج رات میں اپنی سو بیویوں کے پاس ہو آؤں گا (اور اس قربت کے نتیجہ میں) ہر عورت ایک لڑکا جنے گی تو سو لڑکے ایسے پیدا ہوں گے جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔“ فرشتے نے ان سے کہا کہ «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ لیجیے لیکن انہوں نے نہیں کہا اور بھول گئے۔ چنانچہ آپ تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک کے سوا کسی کے یہاں بھی بچہ پیدا نہ ہوا اور اس ایک کے یہاں بھی آدھا بچہ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر وہ «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ لیتے تو ان کی مراد برآتی اور ان کی خواہش پوری ہونے کی امید زیادہ ہوتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 119 باب قول الرجل لأطوفن الليلة على نسائه»
حدیث نمبر: 1073
1073 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، لأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً، تَحْمِلُ كُلُّ امْرَأَةٍ فَارِسًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ، إِنْ شَاءَ اللهُ، فَلَم يَقُلْ، وَلَمْ تَحْمِلْ شَيْئًا إِلاَّ وَاحِدًا سَاقِطًا إِحْدَى شِقَّيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ قَالَهَا لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ چنانچہ کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ پیدا نہیں ہوا، صرف ایک کے یہاں ہوا اور اس کی بھی ایک جانب بیکار تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سیدنا سلیمان علیہ السلام «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”ان شاء اللہ“ کہہ لیتے (تو سب کے یہاں بچے پیدا ہوتے) اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الطلاق: 40 باب قول الله تعالى (ووهبنا لداود سليمان نعم العبد إنه أواب»
549. باب النهي عن الإصرار على اليمين فيما يتأذى به أهل الحالف مما ليس بحرام
باب: ایسی قسم پر اصرار کی ممانعت جس سے گھر والوں کا نقصان ہو بشرطیکہ وہ کام حرام نہ ہو
حدیث نمبر: 1074
1074 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللهِ لأَنْ يَلِجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللهُ عَلَيْهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔“ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَاللّٰهِ» (بعض اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 1 باب قول الله تعالى (لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم»
550. باب نذر الكافر وما يفعل فيه إِذا أسلم
باب: کافر کفر کی حالت میں کوئی نذر مانے پھر مسلمان ہو جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1075
1075 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ كَانَ عَلَيَّ اعْتِكَافُ يَوْمٍ فِي الْجَاهِلِيَّة، فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ قَالَ: وَأَصَابَ عُمَرُ جَارِيَتَيْنِ مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ فَوَضَعَهُمَا فِي بَعْضِ بُيُوتِ مَكَّةَ، قَالَ: فَمَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَبْيِ حُنَيْنٍ، فَجَعَلُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ؛ فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَبْدَ اللهِ انْظُرْ مَا هذَا فَقَالَ: مَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّبْيِ، قَالَ: اذْهَبْ فَأَرْسِلِ الْجَارِيَتَيْنِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت (کفر) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا (اور سب کو مفت آزاد کر دیا) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عبداللہ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے (اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دیے گئے ہیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأيمان/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 19 باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم يعطي المؤلفة قلوبهم»