🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
724. باب استحباب تحنيك المولود عند ولادته وحمله إِلى صالح يحنكه وجواز تسميته يوم ولادته واستحباب التسمية بعبد الله وإِبراهيم وسائر أسماء الأنبياء عليهم السلام
باب: بچے کے منہ میں کچھ چبا کر ڈالنا (گھٹی دینا) اور اس کے لیے اس کو کسی نیک آدمی کے پاس لے جانا اور پیدائش کے دن نام رکھنا بہتر ہے نیز عبداللہ ابراہیم اور دیگر تمام انبیاء کے نام رکھنا مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1390
1390 صحيح حديث أَنَسٍ: قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْر، وقال أحبه فَطِيمٌ وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغيْرُ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسنِ اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے، میرا ایک بھائی ابو عمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچے کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟» ”یا ابو عمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟“ وہ اس بچے کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1390]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 112 باب الكنية للصبي قبل أن يولد للرجل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
725. باب الاستئذان
باب: اجازت مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1391
1391 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الأَنْصَارِ إِذْ جَاءَ أَبُو مُوسى كَأَنَّهُ مَذْعُورٌ فَقَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ ثَلاَثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ قُلْتُ: اسْتَأْذَنْتُ ثَلاَثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ وَقَالَ [ص:50] رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاَثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ: وَاللهِ لَتُقِيمَنَّ عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ أَمِنْكُمْ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: وَاللهِ لاَ يَقُومُ مَعَكَ إِلاَّ أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَكُنْت أَصْغَرَ الْقَوْمِ؛ فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخْبَرْتُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا، اس لیے میں واپس چلا آیا، (جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا) تو انہوں نے دریافت کیا کہ (اندر آنے میں) کیا بات مانع تھی؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ”جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہیے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہوگا۔ (سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجلس والوں سے پوچھا) کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہو؟ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ (اس کی گواہی دینے کو) جماعت میں سب سے کم عمر شخص کے سوا اور کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا، میں ان کے ساتھ اٹھ کر گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1391]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 13 باب التسليم والاستئذان ثلاثًا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
726. باب كراهة قول المستأذن أنا إِذا قيل من هذا
باب: جب کوئی آنے والے سے پوچھے کون ہے تو جواب میں اپنا نام بتائے، میں ہوں کہنا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1392
1392 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ: مَنْ ذَا فَقُلْتُ: أَنَا فَقَالَ: أَنَا، أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهَا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، میں“ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔ (کیونکہ بعض وقت صرف آواز سے صاحب خانہ پہچان نہیں سکتا کہ کون ہے، اس لیے جواب میں اپنا نام بیان کرنا چاہیے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 17 باب إذا قال من ذا فقال أنا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
727. باب تحريم النظر في بيت غيره
باب: پرائے کے گھر میں جھانکنا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1393
1393 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنْ تَنْتَظِرَنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانکتے ہوئے میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(گھر کے اندر آنے کی) اجازت لینے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1393]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في 87 كتاب الديات: 23 باب من اطلع في بيت قوم ففقئوا عينه فلا دية له»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1394
1394 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِشْقَصٍ، أَوْ بِمَشَاقِصَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخْتِلُ الرَّجُلَ لِيَطعُنَهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے میں جھانک کر دیکھنے لگے، تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تیر کا پھل یا بہت سے پھل لے کر بڑھے، گویا میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، ان صاحب کی طرف اس طرح چپکے چپکے تشریف لائے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پھل انہیں چبھو دیں گے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1394]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 11 باب الاستئذان من أجل البصر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1395
1395 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأذَنْ لَهُ، خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تیرے گھر میں (کسی سوراخ یا جنگلے وغیرہ سے) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الآداب/حدیث: 1395]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 87 كتاب الديات: 15 باب من أخذ حقه أو اقتص دون السلطان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12