🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
899. باب في التعوذ من سوء القضاء ودرك الشقاء وغيره
باب: بری قضاء اور بد بختی وغیرہ سے پناہ مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1733
1733 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلاَءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”مصیبت کی سختی، تباہی تک پہنچ جانے، قضا و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے“ سے پناہ مانگتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 28 باب التعوذ من جهد البلاء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
900. باب ما يقول عند النوم وأخذ المضجع
باب: بستر پر سوتے وقت کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1734
1734 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ ثُمَّ قُلِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ اللهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ، فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ قَالَ، فَرَدَدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ اللهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ قُلْتُ: وَرَسُولِكَ قَالَ: لاَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر لیٹنے آؤ تو اس طرح وضو کرو جس طرح نماز کے لیے کرتے ہو۔ پھر داہنی کروٹ پر لیٹ کر یوں کہو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکا دیا۔ اپنا معاملہ تیرے ہی سپرد کر دیا۔ میں نے تیرے ثواب کی توقع اور تیرے عذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا۔ تیرے سوا کہیں پناہ اور نجات کی جگہ نہیں۔ اے اللہ! جو کتاب تو نے نازل کی میں اس پر ایمان لایا، جو نبی تو نے بھیجا میں اس پر ایمان لایا۔“ پس اگر اس حالت میں اسی رات مر گیا تو فطرت پر مرے گا اور اس دعا کو سب باتوں کے اخیر میں پڑھ۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس دعا کو دوبارہ پڑھا۔ جب میں «آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ» پر پہنچا تو میں نے «وَرَسُولِكَ» (کا لفظ) کہہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (یوں کہو) «وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 75 باب فضل من بات على الوضوء»
وضاحت: ایک مرد مومن کی صبح اور شام، ابتداء اور انتہاء، بیداری و شب باشی سب کچھ با وضو ذکر الٰہی پر ہونا چاہیے۔ اور ذکر الٰہی بھی عین اسی نہج اور اسی طور طریقہ پر ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیم فرمودہ ہے۔ اس سے اگر ذرا بھی ہٹ کر دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو وہ عنداللہ قبول نہ ہو گا۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1735
1735 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: بِاسْمِكَ، رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي، فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا، فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ الصَّالِحِينَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر لیٹے تو پہلے اپنا بستر اپنے ازار کے کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی بے خبری میں کیا چیز اس پر آ گئی ہے۔ پھر یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”میرے پالنے والے! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاؤں گا، اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر چھوڑ دیا (زندگی باقی رکھی) تو اس کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تو صالحین کی حفاظت کرتا ہے“۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 13 باب حدثنا أحمد بن يونس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
901. باب التعوّذ من شر ما عمل ومن شر ما لم يعمل
باب: اپنے کیے اور نہ کیے ہر ایک عمل سے پناہ مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1736
1736 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الَّذِي لاَ يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالإِنْس يَمُوتُونَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: ” «أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» ”تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی معبود تیرے سوا نہیں، تیری ایسی ذات ہے جسے موت نہیں اور جن و انس فنا ہو جائیں گے۔“” [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1736]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 7 باب قول الله تعالى (وهو العزيز الحكيم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1737
1737 صحيح حديث أَبِي مُوسى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهذَا الدُّعِاءِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ وَعَمْدِي، وَجَهْلِي وَهَزْلِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي، وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اے اللہ! میری خطا، میری نادانی اور تمام معاملات میں میرے حد سے تجاوز کرنے کی مغفرت فرما اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر، میری خطاؤں میں، میرے بالارادہ اور بلا ارادہ کاموں میں اور میرے ہنسی مزاح کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔ اے اللہ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کر چکا ہوں اور ان میں جو کروں گا اور جنہیں میں نے چھپایا اور جنہیں میں نے ظاہر کیا ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 60 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1738
1738 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلاَ شَيْءَ بَعْدَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی، اپنے بندے کی مدد کی (یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اور احزاب (یعنی افواج کفار) کو تنہا بھگا دیا، پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہوسکتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1738]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 29 باب غزوة الخندق وهي الأحزاب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
902. باب التسبيح أول النهار وعند النوم
باب: شروع دن اور سوتے وقت تسبیح کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1739
1739 صحيح حديث عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، عَلَيْهَا السَّلاَمُ، شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيْنَا، وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ لأَقُومَ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: أَلاَ أُعلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ، وَتَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَتَحْمَدَا ثَلاَثَةً وَثَلاَثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكمَا مِنْ خَادِمٍ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی۔ اس کے بعد آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہو سکی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی۔ اس پر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے۔ اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں ہی لیٹے رہو۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں کے درمیان میں بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں؟ جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ اور تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمدللہ“ پڑھ لیا کرو۔ یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہتر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 9 باب مناقب علي بن أبي طالب القرشي»
وضاحت: شیخ الاسلام حضرت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص سوتے وقت اس حدیث پر عمل کر لیا کرے گا وہ اپنے اندر تھکن محسوس نہیں کرے گا۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
903. باب استحباب الدعاء عند صياح الديك
باب: مرغ کی اذان کے وقت دعا کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1740
1740 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ، فَاسْأَلُوا اللهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 15 باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
904. باب دعاء الكرب
باب: مصیبت کی دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1741
1741 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ، عِنْدَ الْكَرْبِ: لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ، الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ، رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لاَ إِلهَ إِلاَّ اللهُ، رَبُّ السَّموَاتِ، وَرَبُّ الأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اللہ صاحبِ عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں جو عرشِ عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرشِ کریم کا رب ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 27 باب الدعاء عند الكرب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
905. باب بيان أنه يستجاب للداعي ما لم يعجل فيقول دعوت فلم يستجب لي
باب: جلدی نہ کرے تو دعا قبول ہوتی ہے لیکن یہ نہ کہے کہ میں نے دعا کی مگر قبول نہ ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1742
1742 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ: دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 22 باب يستجاب للعبد ما لم يعجل»
وضاحت: قبولیت دعا کے لیے جلد بازی کرنا صحیح نہیں ہے۔ دعا اگر خلوص قلب کے ساتھ ہے اور شرائط و آداب دعا کوملحوظ خاطر رکھا گیا ہے تو وہ جلد یا بہ دیر ضرور قبول ہو گی۔ بہ ظاہر قبول نہ بھی ہو تو وہ ذخیرہ آخرت بنے گی۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں