🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
959. باب في الدجال وهو أهون على الله عز وجل
باب: دجال کا ظاہر کرنا اللہ پر آسان ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1859
1859 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شَعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الدَّجَّالِ، مَا سَأَلْتُهُ وَإِنَّهُ قَالَ لِي: مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ قُلْتُ: لأَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهَرَ مَاءٍ قال: هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ ذَلِكَ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دجال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا؟“ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 26 باب ذكر الدجال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
960. باب في خروج الدجال، ومكثه في الأرض
باب: دجال کے ظاہر ہونے اور زمین میں ٹھہرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1860
1860 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلاَّ سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ، إِلاَّ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ لَهُ مِنْ نِقَابِهَا نَقْبٌ، إِلاَّ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ، فَيُخْرِجُ اللهُ كُلَّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے، پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کر دے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 9 باب لا يدخل الدجال المدينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
961. باب قرب الساعة
باب: قیامت قریب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1861
1861 صحيح حديث ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: ”وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 5 باب ظهور الفتن»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1862
1862 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِإِصْبَعَيْهِ هكَذَا، بِالْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ بُعِثْتُ وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرما رہے تھے: ”میں ایسے وقت میں مبعوث ہوا ہوں کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف ان دو کے برابر فاصلہ ہے۔““ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1862]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في 65 كتاب التفسير: 79 باب سورة والنازعات»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1863
1863 صحيح حديث أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بُعِثْتُ وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح (نزدیک نزدیک) بھیجے گئے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 39 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعثت أنا والساعة كهاتين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
962. باب ما بين النفختين
باب: صور کے دو پھونکوں کا درمیانی فاصلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1864
1864 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ: أَبَيْتُ قَالَ: ثُمَّ يُنْزِلُ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ البَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلاَّ يَبْلَى، إِلاَّ عَظْمًا وَاحِدًا، وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس فاصلہ ہوگا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے پوچھا: ”کیا چالیس دن مراد ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ: ”مجھے معلوم نہیں۔“ پھر شاگردوں نے پوچھا: ”کیا چالیس مہینے مراد ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ: ”مجھے معلوم نہیں۔“ شاگردوں نے پوچھا کہ: ”کیا چالیس مراد ہیں؟“ کہا کہ: ”مجھے معلوم نہیں۔“ کہا کہ: ”پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا جس کی وجہ سے تمام مردے جی اٹھیں گے جیسے سبزیاں پانی سے اگ آتی ہیں۔ اس وقت انسان کا ہر حصہ گل چکا ہوگا سوائے ریڑھ کی ہڈی کے اور اس سے قیامت کے دن تمام مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 78 باب سورة عم يتساءلون»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں