🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
971. باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب
باب: چھینکنے والے کا جواب اور جماہی کی کراہت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1885
1885 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ پس جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1885]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 11 باب صفة إبليس وجنوده»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
972. باب في الفأر وأنه مسخ
باب: چوہے کے مسخ شدہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1886
1886 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، وَإِنِّي لاَ أُرَاهَا إِلاَّ الْفَارَ إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْ؛ وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْ فَحَدَّثْتُ كَعْبًا فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ لِي مِرَارًا فَقُلْتُ: أَفَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے۔ (ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا۔ کیونکہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے (کیونکہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں۔“ پھر میں نے یہ حدیث کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے (حیرت سے) پوچھا: ”کیا واقعی آپ نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟“ کئی مرتبہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ اس پر میں نے کہا: ”(کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تو پھر کس سے) کیا میں توراۃ پڑھا کرتا ہوں؟ (کہ اس سے نقل کرکے بیان کرتا ہوں)“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 15 باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال»
وضاحت: اس میں اختلاف ہے کہ ممسوح لوگوں کی نسل رہتی ہے یا نہیں۔ جمہور کے نزدیک نہیں رہتی اور باب کی حدیث کو اس پر محمول کیا گیا ہے کہ اس وقت تک آپ پر وحی نہ آئی ہو گی۔ اسی لیے آپ نے گمان کے طور پر فرمایا۔ (وحیدی)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
973. باب لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين
باب: مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1887
1887 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لاَ يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو ایک سوراخ سے دوبارہ ڈنک نہیں لگ سکتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 83 باب لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
974. باب النهي عن المدح إِذَا كان فيه إِفراط وخيف منه فتنة الممدوح
باب: اتنی زیادہ تعریف کرنا کہ دوسرا کسی غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے، منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1888
1888 صحيح حديث أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: أَثْنى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ، لاَ مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا وَاللهُ حَسِيبُهُ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذلِكَ مِنْهُ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی، تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مرتبہ اسی طرح فرمایا) پھر فرمایا: ”اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ضروری ہو جائے تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں، آگے اللہ خوب جانتا ہے، میں اللہ کے سامنے کسی کو بے عیب نہیں کہہ سکتا، میں سمجھتا ہوں وہ ایسے ایسے ہے اگر اس کا حال جانتا ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1888]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 52 كتاب الشهادات: 16 باب إذا زكى رجل رجلاً كفاه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1889
1889 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلاً يُثْنِي عَلَى رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي مَدْحِهِ فَقَالَ: أَهْلَكْتُمْ (أَوْ قَطَعْتُمْ) ظَهْرَ الرَّجُلِ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے کی تعریف کر رہا تھا، اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا۔ تو فرمایا: ”تم لوگوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا یا اس کی پشت توڑ دی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 52 كتاب الشهادات: 17 باب ما يكره من الإطناب في المدح وليقل ما يعلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
975. باب مناولة الأكبر
باب: بڑے کو اولیت دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1890
1890 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي: كَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ إلَى الأَكْبَرِ مِنْهُمَا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ (خواب میں) مسواک کر رہا ہوں تو میرے پاس دو آدمی آئے۔ ایک ان میں سے دوسرے سے بڑا تھا، تو میں نے چھوٹے کو مسواک دے دی پھر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو۔ تب میں نے ان میں سے بڑے کو دی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 74 باب دفع السواك إلى الأكبر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
976. باب التثبت في الحديث وحكم كتابة العلم
باب: سوچ سمجھ کر بات کہنا اور علم کو لکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1891
1891 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا، لَوْعَدَّهُ الْعَادُّ لأَحْصَاهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”اس قدر ٹھہر ٹھہر کر باتیں کرتے کہ اگر کوئی شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ) گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
977. باب في حديث الهجرة
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر ہجرت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1892
1892 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ، إِلى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلاً فَقَالَ لِعَازِبٍ: ابْعَثِ ابْنَكَ يَحْمِلُهُ مَعِي قَالَ: فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ وَخَرَجَ أَبِي يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا، وَمِنَ الْغَدِ، حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلاَ الطَّريقُ، لاَ يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ، لَهَا ظِلٌّ، لَمْ تَاتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهُ، وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدِي يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ فِيهِ فَرْوَةً وَقُلْتُ: نَمْ يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ، فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ بَغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ، يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلاَمُ فَقَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ (أَوْ مَكَّةَ) قُلْتُ: أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ قَالَ: نَعَمْ قلْتُ: أَفَتَحْلُبُ قَالَ: نَعَمْ فَأَخَذَ شَاةً فَقُلْتُ: انْفُضِ الضَّرْعَ مِنَ التُّرَابِ وَالشَّعَرِ وَالْقَذَى (قَالَ الرَّاوِي: فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى، يَنْفُضُ) فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرْتَوِي مِنْهَا، يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حِينَ اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ، حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: فَارْتَحَلْنَا بَعْدَ مَا مَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَدَعَا عَلَيْهِ النَبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا، أُرَى فِي جَلَدٍ مِنَ الأَرْضِ فَقَالَ: إِنِّي أُرَاكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَجَا فَجَعَلَ لاَ يَلْقَى أَحَدًا إِلاَّ قَالَ: كَفَيْتُكُمْ مَا هُنَا فَلاَ يَلْقَى أَحَدًا إِلاَّ رَدَّهُ قَالَ: وَوَفى لَنَا
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا، پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعے اسے میرے ساتھ بھیج دیں۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، چنانچہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے۔ میرے والد نے ان سے پوچھا: اے ابو بکر! مجھے وہ واقعہ سنائیں جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا؟ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑ گیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کر دی اور ایک چادر وہاں بچھا دی، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ یہاں آرام فرمائیں، میں نگرانی کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے نیچے ہم نے پڑاؤ ڈالا تھا، وہی اس کا بھی ارادہ تھا، میں نے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا (راوی نے کہا کہ) مکہ کے فلاں شخص سے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا ہمارے لئے تو دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں، چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کر لیا۔ ابو اسحاق راوی نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا کر تھن کو جھاڑنے کی صورت بیان کیا۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ آپ اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کر لیتے۔ پھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (آپ سو رہے تھے) میں آپ کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے، میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دودھ پی لیجئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا۔ جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایاکہ ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض کیا:آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا۔ میں نے کہا حضور! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لئے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی، یہ شک (راوی حدیث) زہیر کو تھا۔ سراقہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لئے بددعا کی ہے، اگر اب آپ لوگ میرے لئے (اس مصیبت سے نجات کی) دعا کر دیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کر چکا ہوں، قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں