صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب فِي كَوْنِ الرُّؤْيَا مِنَ اللهِ وَأَنَّهَا جُزءٌ مِّنَ النُّبُوَّةِ
باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 2265 ترقیم شاملہ: -- 5917
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ،
یحییٰ نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5917]
امام رحمہ اللہ دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5917]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2265
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2265 ترقیم شاملہ: -- 5918
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
نافع نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ”نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ“ کہا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5918]
امام صاحب تین اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیث کی روایت ہے، نافع رحمہ اللہ نے کہا، میرا خیال ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”(نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5918]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2265
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
1. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي» :
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا بیان کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقیناً اس نے مجھ کو ہی دیکھا۔
ترقیم عبدالباقی: 2266 ترقیم شاملہ: -- 5919
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي ".
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5919]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے خواب میں مجھے دیکھا، واقعی اس نے مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5919]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2266
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2266 ترقیم شاملہ: -- 5920
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، لَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا وہ عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا یا (فرمایا): گو یا اس نے مجھ کو بیداری کے عالم میں دیکھا، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5920]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ یقیناً مجھے بیداری میں دیکھے گا یا گویا اس نے مجھے بیداری میں دیکھا، شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5920]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2266
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2267 ترقیم شاملہ: -- 5921
(حديث مرفوع) وَقَالَ: فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ ".
ابن شہاب نے کہا: ابوسلمہ نے کہا: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس نے مجھے دیکھا اس نے سچ مچ (سچا خواب) دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5921]
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے دیکھا، اس نے حق (صحیح خواب) دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5921]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2267
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2267 ترقیم شاملہ: -- 5922
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا بِإِسْنَادَيْهِمَا سَوَاءً، مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ.
زہری کے بھتیجے نے کہا: مجھے میرے چچا نے حدیث بیان کی، پھر دونوں احادیث اکٹھی ان کی دونوں سندوں سمیت بیان کیں، بالکل یونس کی حدیث (5920) کی طرح۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5922]
امام صاحب رحمہ اللہ مذکورہ بالا دونوں حدیثیں ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5922]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2267
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2268 ترقیم شاملہ: -- 5923
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي، وَقَالَ: إِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يُخْبِرْ أَحَدًا بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ ".
لیث نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا:”جب تم میں سے کوئی شخص برا خواب دیکھے تو وہ نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کی کسی دوسرے کو خبر نہ دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5923]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نیند میں مجھے دیکھا، واقعی مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ میری شکل کی نقل اتارے،“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کو پراگندہ خواب نظر آئے تو وہ اپنے ساتھ نیند میں شیطان کے کھلنڈرے پن کا کسی سے اظہار نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5923]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2268
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2268 ترقیم شاملہ: -- 5924
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي ".
زکریا بن اسحاق نے کہا: مجھے ابوزبیر نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے نیند میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان کے بس میں نہیں کہ وہ میری مشابہت اختیار کر سکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5924]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نیند میں مجھے دیکھا، واقعی مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ میری مشابہت اختیار کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5924]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2268
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب لاَ يُخْبِرُ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ:
باب: شیطانی خواب بیان کرنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2268 ترقیم شاملہ: -- 5925
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَهُ: فَقَالَ: " إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ، فَأَنَا أَتَّبِعُهُ، فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اعرابی (بدوی) نے، جو آپ کے پاس آیا تھا، آپ سے عرض کی: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے بھاگ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا:”نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کے بارے میں کسی کو مت بتاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5925]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی کو، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: ”میں نے خواب دیکھا ہے، میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اس کا پیچھا کر رہا ہوں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”اپنے ساتھ نیند میں شیطان کی چھیڑ خانی کی خبر کسی کو نہ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5925]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2268
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2268 ترقیم شاملہ: -- 5926
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي ضُرِبَ، فَتَدَحْرَجَ فَاشْتَدَدْتُ عَلَى أَثَرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَعْرَابِيِّ: لَا تُحَدِّثْ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي مَنَامِكَ، وَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَخْطُبُ، فَقَالَ: " لَا يُحَدِّثَنَّ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي مَنَامِهِ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر کو تلوار کا نشان بنایا گیا، وہ لڑکھتا ہوا جا رہا ہے اور میں اس کے پیچھے دوڑ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا:”نیند کی حالت میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے وہ لوگوں کو نہ بتاؤ۔“(حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”خواب میں شیطان تمہارے ساتھ جو چھیڑ خوانی کرے تم میں سے کوئی اس کے بارے میں لوگوں کے ساتھ باتیں نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5926]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگلی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کچل دیا گیا ہے یا الگ کر دیا گیا ہے اور وہ لڑھکتا ہوا جا رہا ہے اور میں تیزی سے اس کے پیچھے بھاگتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدوی سے فرمایا: ”شیطان نے نیند میں تیرے ساتھ چھیڑ خانی کی ہے، لوگوں کو اس کے بارے میں نہ بتاؤ۔“ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعد میں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خطاب سنا: ”تم میں سے کوئی نیند میں اپنے ساتھ شیطان کی چھیڑ خانی کا ذکر نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرؤيا/حدیث: 5926]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2268
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة