الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ خُطْبَةِ الْعِيدَيْنِ وَأَحْكَامِهَا وَوَعْظِ النِّسَاءِ وَحَثِّهِنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے¤اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
حدیث نمبر: 2866
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَمْ يَكُ يُخْرَجُ بِهِ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مَنْ هَٰذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَٰذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، وَقَالَ مَرَّةً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید والے دن (عید گاہ میں) منبر رکھوایا، جبکہ یہ اس سے پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی، جبکہ اس سے نہیں، بلکہ نماز سے ابتدا کی جاتی تھی۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، تونے آج عید کے دن منبر نکالا ہے، جبکہ اسے نہیں نکالا جاتا تھا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ سے ابتدا کی ہے، حالانکہ خطبہ سے تو ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔ سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلان بن فلان ہے۔ پھر انھوں نے کہا؛ اس شخص نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہو تو وہ اس کو روکے، اگر ہاتھ سے ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی قدرت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11073/أ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11089»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 49
حدیث نمبر: 2867
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمُصَلَّى يَوْمَ أَضْحَى فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِ يَوْمِكُمْ هَٰذَا الصَّلَاةُ) ) ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَأُعْطِيَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَأَمَرَهُمْ وَنَهَاهُمْ وَقَالَ: ( (مَنْ كَانَ مِنْكُمْ عَجَّلَ ذَبْحًا فَإِنَّمَا هِيَ جَزْرَةٌ أَطْعَمَهَا أَهْلَهُ، إِنَّمَا الذَّبْحُ بَعْدَ الصَّلَاةِ) ) ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: أَنَا عَجَّلْتُ ذَبْحَ شَاتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِيُصْنَعَ لَنَا طَعَامٌ نَجْتَمِعُ عَلَيْهِ إِذَا رَجَعْنَا، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ مِنْ مَعْزٍ هِيَ أَوْفَى مِنَ الَّذِي ذَبَحْتُ أَفَتُغْنِي عَنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ) ) ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: {يَا بِلَالُ!} قَالَ: فَمَشَى وَاتَّبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَقَالَ: ( (يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! تَصَدَّقْنَ، الصَّدَقَةُ خَيْرٌ لَكُنَّ) ) ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَكْثَرَ خَدَمَةً مَقْطُوعَةً وَقِلَادَةً وَقُرْطًا مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم عید الاضحی والے دن عید گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، لوگوں کو سلام کہا اورفرمایا: تمہار ے اس دن کی پہلی عبادت نماز ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے، دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کمان یا لاٹھی دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ٹیک لگائی اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنابیان کرنے کے بعد لوگوں کو بعض امور کا حکم دیا اور بعض سے منع کیا اور پھر فرمایا: تم میں سے جس شخص نے جلدی کی اور قربانی (نماز سے پہلے) ذبح کر دی تو وہ تو محض گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو کھلایا ہے، قربانی نماز عید کے بعد ہوتی ہے۔ یہ سن کر میرے ماموں سیّدنا ابوبریدہ بن نیار رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی بکری کی قربانی جلدی کر بیٹھا ہوں، میرا مقصد تو یہ تھا کہ اتنے میں کھانا تیار ہو جائے گا اور ہم واپس آ کر اکٹھا کھانا کھائیں گے، اب میرے پاس بکر ی کا ایک سال کا (کھیرا) بچہ ہے، لیکن یہ میرے ذبح کیے ہوئے جانور سے موٹا ہے، کیا وہ مجھے کفایت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں،لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! پس سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ چل پڑے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے پیچھے ہو لیے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ گئے اور (ان کو خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، صدقہ کرنا تمہار ے لیے بہتر ہے۔ (پھر عورتوں نے اتنا صدقہ کیا کہ) میں نے اس دن کی بہ نسبت کبھی بھی اتنے پازیب، ہار اور بالیاں نہیں دیکھی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2867]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه و شواھده أخرجه مختصرا أبوداود: 1145بلفظ: ان النبيV نول يوم العيد قوسا فخطب عليه۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18682»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه و شواھده أخرجه مختصرا أبوداود: 1145بلفظ: ان النبيV نول يوم العيد قوسا فخطب عليه۔
حدیث نمبر: 2868
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ثُمَّ يَنْصَرِفَانِ يُذَكِّرَانِ النَّاسَ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَٰذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ قَالَ: وَسَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ
مولائے عبدالرحمن بن ازہر ابو عبید کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ پہلے عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں پڑھاتے، ان سے فارغ ہو کرلوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے،وہ یہ بھی کہتے تھے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو دنوں کے روزے سے منع فرمایاہے۔ خود میں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس قربانی کا گوشت تین دنوں سے زیادہ باقی رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2788، والبزار: 407، والطحاوي: 2/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 427، 435)وأما حديث علي: نھي رسول اللهV فأخرجه البخاري: 5573، ومسلم: 1969، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 435»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2788
حدیث نمبر: 2869
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُّهُ مَعَ عَلِيٍّ فَصَلَّى قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ تَأْكُلُوا نُسُكَكُمْ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْكُلُوهَا بَعْدُ
(دوسری سند) ابو عبید کہتے ہیں: پھر میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، انھوں نے اذان و اقامت کے بغیرخطبہ سے پہلے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور کہا: لوگو! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم قربانی کا گوشت تین دنوں کے بعد کھاؤ، لہٰذا اس مقدار کے بعد نہ کھایا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1193»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1193
9. بَابُ وُقُوفِ الْإِمَامِ لِلنَّاسِ بَعْدَ انْصِرَافِهِمْ مِنْ صَلَاةِ الْعِيدِ وَالنَّظَرِ إِلَيْهِمْ وَمَا جَاءَ فِي التَّهْنِئَةِ بِالْعِيدِ
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے¤ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2870
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فِي السُّوقِ يَوْمَ الْعِيدِ يَنْظُرُ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ
سیّدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ عید کے روز بازار میں کھڑے تھے اور لوگوں کو گزرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف المنكدر بن محمد أخرجه أبويعلي: 935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16165»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف المنكدر بن محمد أخرجه أبويعلي: 935
10. بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا
’’سیّدناعبد اللہ بن عمر عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
حدیث نمبر: 2871
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5212»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 538
حدیث نمبر: 2872
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فِطْرٍ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَجَعَلَ يَقُولُ: ( (تَصَدَّقْنَ) ) فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے پاس آئے، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہ فرمانے لگ گئے: صدقہ کرو۔ پس عورت نے اپنا چھلا اور ہار (سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنا شروع کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 964، 989، 1431، 5881، ومسلم: ص 606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2533»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 964
حدیث نمبر: 2873
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف نکلنے سے قبل ناشتہ کرتے تھے اور عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے،لیکن جب نماز عید پڑھ لیتے تو (گھر لوٹ کر) دو رکعت ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبويعلي 1347، وابن خزيمة: 1469، وأخرج قسمه الأول ابن ابي شيبة: 2/ 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11244»
الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه أبويعلي 1347
11. بَابُ الضَّرْبِ بِالدُّفِّ وَاللَّعِبِ يَوْمَ الْعِيدِ
عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
حدیث نمبر: 2874
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ قَالَتْ: فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَطَأْطَأَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ حَتَّى شَبِعْتُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: حبشی لوگ عید کے دن (مسجد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھیلا کرتے تھے، ایک دن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے اپنے کندھے جھکا دیئے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی، حتی کہ میں سیر ہو گئی اور چلی گئی۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث: «أخرجه بألفاظ مختلفة متقاربة البخاري: 5190، ومسلم: 892، والنسائي: 3/ 195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24296، 25335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24800»
الحكم على الحديث:
أخرجه بألفاظ مختلفة متقاربة البخاري: 5190
حدیث نمبر: 2875
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ فَقَالَ: ( (دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرِ! فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ) ) ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَسْأَمُ فَأَقْعُدُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، جبکہ دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ مِنٰی والے دن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لپیٹا ہوا تھا، سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے چادر کو ہٹایا اور فرمایا: ابو بکر! ان کو چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی چادر کے ذریعے میرا پردہ کرتے اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کو دیکھتی رہتی، حتی کہ میں ہی اکتا کر بیٹھ جاتی۔ تم لوگوں کو کم سن اور حریص لڑکی کی قدرت ومنزلت کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔ [الفتح الربانی/أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 949، 950، 987، 988، 3529، 3530، ومسلم: 892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25048»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 949