🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَعَدْمِ الْغُدْرِ بِمَنْ عِنْدَهُ امان
معاہدہ پورا کرنے اور امان والے آدمی سے دھوکہ نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5140
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی ہم سے خطاب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا کوئی ایمان نہیں، جو امانت پوری نہیں کرتا اور اس آدمی کا کوئی دین نہیں، جس میں معاہدے کی پاسداری نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12595»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5141
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر کسی حق کے ذمی کو قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو اس طرح حرام کر دے گا کہ وہ اس کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2760، والنسائي: 8/ 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20668»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5142
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک خطاب میں فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے اورذمی کو اس کے عہد میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه أبوداود: 4506، وابن ماجه: 2659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6690»
وضاحت: فوائد: … ذمی اس شخص کو کہتے ہیں جس سے معاہدہ کر کے اس کے جان و مال، عزت و آبرو اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5143
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس فرمایا تھا: روزِ قیامت ہر دھوکہ باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا اور عوام کے حکمران کے دھوکے سے بڑا دھوکہ کوئی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5143]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6177، ومسلم: 1735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5378»
وضاحت: فوائد: … غدر اور دھوکہ مطلق طور پر حرام ہے، بالخصوص اس وقت اس کی حرمت بڑھ جاتی ہے، جب حکمران اس جرم میںملوث ہو جائے، کیونکہ اس کے ضرر سے خلق کثیر متأثر ہو سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6177
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5144
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5144]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11371»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1738
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5145
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، اس کے ذریعے اس کو پہچانا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5145]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3187، ومسلم: 1737، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12470»
وضاحت: فوائد: … اس جھنڈے کی کیفیت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، بہرحال ہر جھنڈے سے حشر والوں کو یہ علم ہو جائے کہ وہ فلاں قسم کا دھوکے باز ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3187
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5146
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ وَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دھوکے باز کا ایک جھنڈا ہو گا اور ساتھ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5146]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 254، وابوعوانة: 4/ 73، والبيھقي: 9/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3959»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مُوَادَعَةِ الْمُشْرِكِينَ وَمَصَالِحَتِهِمْ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ
مشرکوں سے عام صلح کرنے یا مال وغیرہ کے عوض صلح کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5147
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سرزمینِ حجاز سے یہود ونصاری کو جلاوطن کیا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر پر غالب آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غالب آ گئے تھے تو وہ زمین اللہ تعالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی، بہرحال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہیں برقرار رکھیں، وہ نصف پھل کے عوض اس علاقے کی کھیتیوں کا کام کریں گے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے، تم لوگوں کو یہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5147]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2338، 3152، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6368»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں سے صلح کرتے ہوئے ان کو خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی، شرط یہ تھی کہ وہ ان کھیتوں میں کام کریں گے اور اس کام کے عوض نصف پیداوار ان کو دی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2338
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ فِيمَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ مَعَ الكُفَّارِ وَمُدَّةِ الْمُهَادَنَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5148
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كِتَابًا بَيْنَهُمْ وَقَالَ فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لَا تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَلَوْ كُنْتَ رَسُولَ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ قَالَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ امْحُهُ قَالَ فَقَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ قَالَ وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ فَسَأَلْتُ مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ قَالَ الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے مصالحت کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معاہدہ تحریر کیا، انھوں نے معاہدے میں محمد رسول اللہ کے الفاظ لکھے، لیکن مشرکوں نے کہا: محمد رسول اللہ کے الفاظ نہ لکھو، اگر آپ ہمارے نزدیک اللہ کے رسول ہوتے تو ہم آپ سے قتال ہی نہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ الفاظ مٹا دو۔ انھوں نے کہا: میں ان الفاظ کو نہیں مٹاؤں گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ کو خود مٹا دیا ا ور ان مشرکوں سے جن امور پر مصالحت کی تھی، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تین دنوں تک مکہ میں رہیں گے اور اپنے ساتھ صرف بند ہتھیار لائیں گے، وہ بھی میان سمیت چمڑے کے تھیلوں میں ہوں گی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جُلُبَّانُ السِّلَاحِ سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: چمڑے کے تھیلے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے، اس سمیت اس تھیلے کو کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5148]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2698، ومسلم: 1783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18766»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2698
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5149
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَادَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثٍ مَنْ أَتَاهُمْ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَرُدُّوهُ وَمَنْ أَتَى إِلَيْنَا مِنْهُمْ رَدُّوهُ إِلَيْهِمْ وَعَلَى أَنْ يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَأَصْحَابُهُ فَيَدْخُلُونَ مَكَّةَ مُعْتَمِرِينَ فَلَا يُقِيمُونَ إِلَّا ثَلَاثًا وَلَا يُدْخِلُونَ إِلَّا جَلَبَ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ والے دن مشرکوں سے تین امور پر معاہدہ کیا: (۱) نبی کریم کے پاس سے جو آدمی مشرکوں کے پاس آ جائے گا، وہ اس کو ہر گز نہیں لوٹائیں گے، لیکن مشرکوں میں سے جو آدمی اہل مدینہ کے پاس آئے گا، وہ اس کو لوٹا دیں گے، (۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں گے، اور (۳) وہ صرف اس طرح داخل ہوں گے کہ تلوار اور قوس وغیرہ تھیلوں میں ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأمان والصلح والمهادنة/حدیث: 5149]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18887»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں